عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر صدیوں سے ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ (تمام مذاہب کے احترام اور مساوات) کی روح کی نمائندگی کرتا آیا ہے اور دنیا میں مذہبی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی ایک بہترین مثال ہے۔
سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ ’’رشی ور‘‘ بین المذاہب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ باہمی احترام، رواداری اور ہم آہنگی کی اقدار قدیم زمانے سے ہندوستانی تہذیب کا حصہ رہی ہیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ قدیم ترین ویدک صحیفہ رگ وید میں ’’جستم‘‘ اور ’’دیوے بھوت‘‘ جیسے الفاظ کا ذکر ملتا ہے جو ہم آہنگی اور ہر انسان میں موجود الٰہی نور کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رگ وید یہ تعلیم دیتا ہے کہ خدا نے معاشرے کے ہر فرد کی خوبیوں اور روشنی کو بلا امتیاز یکجا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس فلسفے کی عملی جھلک کہیں دیکھی جا سکتی ہے تو وہ جموں و کشمیر ہے، جہاں صدیوں سے تقریباً تمام بڑے مذاہب کے ماننے والے آباد رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے بعد میں بقائے باہمی کی بات کی، لیکن ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ ہندوستانی تہذیب کا قدیم زمانے سے بنیادی حصہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں بقائے باہمی محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ہزاروں سال پہلے سے ایک طرزِ زندگی رہا ہے۔
سنہا نے کہا کہ سناتن دھرم دنیا کے قدیم ترین مذاہب میں شمار ہوتا ہے اور اس کی جڑیں آٹھ ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں بے شمار مشکلات کے باوجود سناتن دھرم اس لیے قائم رہا کیونکہ اس نے مختلف عقائد کے احترام، رواداری اور تنوع کو قبول کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے محققین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ کا فلسفہ سناتن دھرم کی بنیادی تعلیمات سے ابھرا ہے۔ اتھرو وید کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قدیم رشیوں نے ایسے معاشرے کا تصور پیش کیا تھا جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ ایک خاندان کی طرح ہم آہنگی سے زندگی گزاریں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یجروید اور بھگوت گیتا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان صحائف میں ہر انسان کے ساتھ دوستی، احترام اور مختلف راستوں کے ذریعے خدا تک پہنچنے کے تصور کو بیان کیا گیا ہے۔
کشمیر کی تاریخی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مورخین اور ’’راج ترنگنی‘‘ کے مطابق سرینگر کی بنیاد شہنشاہ اشوک نے رکھی تھی، جو مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بڑے داعی تھے۔ انہوں نے کہا کہ اشوک نے اپنے کتبوں میں لکھوایا تھا کہ جو شخص اپنے مذہب کی تعریف کرتے ہوئے دوسرے مذاہب کی توہین کرتا ہے، دراصل وہ اپنے ہی مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے۔
سنہا نے کہا کہ دوسرے مذاہب کا احترام کرنے سے اپنے مذہب کی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے بدھ مت اور جین مت کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے دنیا کو امن، برداشت اور رواداری کا راستہ دکھایا ہے۔
انہوں نے رگ وید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’سچ ایک ہے، لیکن اہلِ علم اسے مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر اس جامع اور ہمہ گیر فلسفے کی زندہ مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور تصوف کی آمد سے قبل فلسفی وسوگپت نے شیو سوتروں اور عالمگیر شعور پر مبنی روحانی تعلیمات کو فروغ دیا تھا۔
انہوں نے راج ترنگنی اور صوفی شاعرہ لل دید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی سرزمین روحانیت اور مقدس مقامات سے مالا مال ہے، جبکہ لل دید نے ہندو مسلم تفریق کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے انسانیت اور خود شناسی کا پیغام دیا۔
سنہا نے کہا کہ شیخ نورالدین نورانی (نند ریشی) نے کشمیر میں مختلف روایات اور مذاہب کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں مختلف عقائد کا جو حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے، اس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے رشی۔صوفی روایت کا ذکر کرتے ہوئے نند ریشی کے اس پیغام کو دہرایا کہ تلواروں کو کاشتکاری اور امن کے اوزاروں میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرہ اسی وقت ترقی کرتا ہے جب لوگوں کے مقاصد مشترک ہوں اور وہ اجتماعی بھلائی کے لیے مل کر کام کریں۔ ان کے مطابق ’’سرو دھرم سمبھاؤ‘‘ انسانیت کے لیے ہندوستان کا ایک قیمتی تحفہ ہے جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ آج تمام شہریوں کے لیے سب سے بڑا دھرم اور فریضہ ہندوستانی آئین ہے، اور ہر شہری و سرکاری ملازم کو اپنے ذاتی عقائد سے بالاتر ہو کر آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے۔
کشمیر پنڈتوں کی ہجرت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وادی کے عام لوگ ان واقعات کے ذمہ دار نہیں تھے۔
انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ کے 150 سال مکمل ہونے کی تقریبات میں جموں و کشمیر کی شاندار کارکردگی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک کی صرف ایک فیصد آبادی رکھنے کے باوجود جموں و کشمیر نے مرکزی وزارتِ ثقافت کے قومی پروگرام کے تینوں مراحل میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
سنہا نے کہا کہ کولگام اور بارہمولہ سمیت جموں و کشمیر کے کئی اضلاع قومی سطح پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے اضلاع میں شامل رہے۔
منشیات کے خلاف 11 اپریل سے شروع کی گئی مہم کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ عوام کی جانب سے بے مثال تعاون اور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اس مہم میں اپنا تعاون جاری رکھیں تاکہ آئندہ 100 دنوں میں منشیات کے ناسور پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ’’میں تمام لوگوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس عوامی مہم میں بھرپور تعاون کریں۔‘‘
جموں و کشمیر ’سرو دھرم سمبھاؤ‘ کی بہترین مثال: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا