میر شوکت
رات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔آسمان پر اندھیرے کی ایک پتلی چادر باقی تھی اور مشرق کی طرف ہلکی سفیدی ایسے ابھر رہی تھی جیسے کسی بوڑھے مصّوِر نے سیاہ کاغذ پر دودھ کی ایک لکیر کھینچ دی ہو۔ شہر کی گلیاں نیم خوابیدہ تھیں۔ کہیں کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز، کسی دور کی مسجد سے تکبیر کی مدھم بازگشت اور ٹھنڈی ہوا میں اُبلتی سویوں کی خوشبو تیر رہی تھی۔یہ عید کی صبح تھی۔وہ صبح جس کے بارے میں ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ اس دن زمین بھی نرم ہو جاتی ہے اور انسان کے دل بھی۔
کبھی یہی عید ہوا کرتی تھی۔گھر کے صحن میں پانی کا چھڑکاؤ، تازہ دھلے کپڑوں کی مہک، چھوٹے بچوں کا فجر سے پہلے جاگ جانا، ماؤں کا بار بار تنبیہ کرنا کہ’’ابھی کپڑے خراب نہ کرنا‘‘ اور باپوں کا جیب میں رکھے نئے نوٹوں کو سیدھا کرتے ہوئے مصنوعی سختی سے کہنا:’’زیادہ عیدی نہیں ملے گی!‘‘مگر بچے جانتے تھے کہ عید کے دن باپ دنیا کا سب سے کمزور انسان ہوتا ہے۔پرانے وقتوں میں عید صرف تہوار نہیں تھی، پورا معاشرہ تھی۔دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔رشتے تالوں کے محتاج نہیں تھے۔ایک گھر سے گوشت کی پلیٹ نکلتی تھی تو دوسرے گھر سے سویاں آ جاتی تھیں۔محلے کے ہندو تاجر بھی مسکرا کر کہتے:’’عید مبارک میاں!‘‘اور مسلمان دیوالی پر ان کے گھر مٹھائی لے جایا کرتے تھے۔اختلاف تھے، مگر نفرت ابھی تعلیم یافتہ نہیں ہوئی تھی۔پھر وقت بدل گیا۔اب عید چاند کے ساتھ نہیں آتی، شور کے ساتھ آتی ہے۔
ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھے اینکر، جنہوں نے شاید زندگی میں کبھی قربانی کے فلسفے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، قوم کو بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ بے روزگاری نہیں، مہنگائی نہیں، کسانوں کی خودکشیاں نہیں۔۔۔ اصل خطرہ ایک بکرا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس ملک کی تمام فضا ایک مسلمان کے صحن میں بندھے جانور نے آلودہ کی ہو۔
کارخانوں کی چمنیاں شاید عود جلاتی ہیں، گاڑیوں کا دھواں شاید گلاب کی خوشبو ہے، مگر عید قرباں آتے ہی ماحولیات اچانک اتنی حساس ہو جاتی ہے کہ بکرے کی سانس بھی اوزون کی تہہ کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر دانشوروں کی ایک نئی نسل جنم لیتی ہے۔وہ لمبی پوسٹیں لکھتے ہیں۔’’جانور بھی جیتے ہیں‘‘۔’’ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں‘‘۔’’ہم تو چیونٹی تک کو آٹا ڈالتے ہیں۔‘‘
بہت اچھی بات ہے۔رحم واقعی خوبصورت چیز ہے۔لیکن المیہ یہ ہے کہ اس ملک میں کچھ انسان بھی زندہ تھے۔وہ ٹرین میں سفر کرتے ہوئے مارے گئے۔وہ مویشی لے جاتے ہوئے مارے گئے۔وہ صرف نام پوچھے جانے پر مارے گئے۔کسی کے ہاتھ میں دودھ تھا، کسی کے پاس شناختی کارڈ، مگر ہجوم کو ثبوت کی ضرورت کب ہوتی ہے؟ہجوم صرف چہرہ دیکھتا ہے، نام سنتا ہے، پھر انسان کو گوشت کے ٹکڑے کی طرح روند دیتا ہےاور عجیب بات یہ ہے کہ قتل کے بعد قاتل اکثر مسکراتے ہیں۔کوئی ویڈیو بناتا ہے، کوئی نعرہ لگاتا ہے، کوئی اسے ’’دھرم رکشا‘‘ کہتا ہے۔یہ وہ سرزمین ہے جہاں کیڑے مکوڑوں کی جان پر فلسفے لکھے جاتے ہیں، مگر انسان کی لاش پر جشن منایا جاتا ہے۔
شہر کی گلیوں میں اب عید کا شور کم اور اندیشوں کی سرگوشیاں زیادہ ہوتی ہیں۔مسلمان جانور خریدنے جاتا ہے تو اس کی نظریں قیمت سے زیادہ اطراف پر ہوتی ہیں۔وہ بکرا نہیں دیکھتا، راستہ دیکھتا ہے۔اسے جانور کے دانتوں سے زیادہ اپنی قسمت کی فکر ہوتی ہے۔پرانے قصاب اب دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں۔جانوروں کی منڈیاں کسی زمانے میں میلے لگتی تھیں۔بچے بکرے کے گلے میں رنگین فیتے باندھتے تھے، نوجوان تصویریں کھینچتے تھے اور بزرگ قیمت سن کر روایتی حیرت سے کہتے تھے۔’’ارے بھائی! اس میں سونا بھرا ہے کیا؟‘‘اب وہی منڈیاں پولیس کی گاڑیوں، نگرانی، شبہات اور خوف کے سائے میں لگتی ہیں۔ہر شخص محتاط ہے، جیسے خوشی منانا بھی کسی قانون کی خلاف ورزی ہواور اب تو عبادت بھی مشکوک بنا دی گئی ہے۔
عیدگاہ بھر جائے، مسجد میں جگہ کم پڑ جائے اور چند نمازی سڑک کے کنارے دو منٹ کے لیے صف باندھ لیں، تو یوں محسوس کروایا جاتا ہے جیسے سلطنت کا تختہ الٹنے کی سازش ہو رہی ہو۔نماز اچانک ’’ٹریفک کا مسئلہ‘‘ بن جاتی ہے۔سجدہ’’قانون و نظم کے لیے خطرہ‘‘ قرار پاتا ہے۔اور نمازی؟وہ فوراً’’دیش دروہی‘‘،’’غدار‘‘،’’قابض‘‘ اور نہ جانے کیا کیا بن جاتے ہیں۔مگر یہی سڑکیں جب سیاسی جلوسوں سے بند ہوں، مذہبی ریلیوں سے اٹی ہوں، لاؤڈ اسپیکروں سے پھٹ رہی ہوں اور گھنٹوں ہلڑ بازی جاری رہے، تب قوم کی حب الوطنی کو زکام بھی نہیں ہوتا۔تب سڑک مقدس رہتی ہے۔تب شور ثقافت بن جاتا ہے۔تب قانون سو جاتا ہے۔عجیب انصاف ہے۔دو منٹ کی نماز خطرہ ہے، مگر دن بھر کا شور جمہوریت۔خاموش سجدہ جرم ہے، مگر چیختا ہوا ہجوم تہذیب۔شہر کے چوکوں میں کھڑے مجسمے شاید یہ سب دیکھ کر حیران ہوتے ہوں گے۔
ہوا شاید سوچتی ہوگی کہ نفرت آخر اتنی سستی کیسے ہو گئی؟عید کی صبح بچے اب بھی نئے کپڑے پہنتے ہیں، مگر بڑوں کے چہروں پر وہ اطمینان نہیں رہا۔مائیں دعاؤں میں صرف رزق نہیں مانگتیں، سلامتی بھی مانگتی ہیں۔باپ گھر سے نکلتے وقت ایک اضافی نظر دروازے پر ڈالتا ہے، جیسے واپسی کی خاموش دعا کر رہا ہو۔عیدگاہوں میں اب بھی تکبیریں بلند ہوتی ہیں۔’’اللہ اکبر، اللہ اکبر۔۔۔‘‘اور ان آوازوں میں عجیب سی اداسی شامل رہتی ہے۔صفوں میں کھڑے لوگ ایک دوسرے سے گلے تو ملتے ہیں، مگر ان کی آنکھوں میں تھکن تیرتی رہتی ہے۔وہ تھکن جو مسلسل صفائیاں دیتے دیتے پیدا ہوتی ہے۔مسلمان اب عبادت سے پہلے وضاحت دیتا ہے۔وہ ہر وقت ثابت کرتا پھرتا ہے کہ وہ محب وطن بھی ہے، پرامن بھی ہے، قانون پسند بھی ہے، ماحول دوست بھی ہے۔گویا انسان ہونے کے لیے اب اسے ہر روز امتحان دینا پڑتا ہے۔شام ڈھلتی ہے۔قربانی کے بعد گلیوں میں پانی بہتا ہے۔کہیں بچے گوشت کی تھیلیاں لے کر رشتے داروں کے گھروں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔کہیں بوڑھی عورتیں برتن دھوتے ہوئے پرانی عیدوں کو یاد کر رہی ہیں۔
آسمان پر پرندے واپس لوٹ رہے ہیں۔دور کسی گھر سے ہنسی کی آواز آتی ہے، مگر فوراً خاموش ہو جاتی ہے۔جیسے خوشی کو بھی اب احتیاط کی عادت پڑ گئی ہواور رات کے آخری حصے میں، جب سارے مہمان جا چکے ہوتے ہیں، بچے تھک کر سو جاتے ہیں، باورچی خانے کی آخری پلیٹ بھی دھل جاتی ہے اور صحن میں خاموشی اتر آتی ہے، تب گھر کا بزرگ آہستہ سے پنکھے کے نیچے بیٹھ کر ایک لمبی سانس لیتا ہے۔وہ سانس جس میں شکر بھی ہوتا ہے اور تھکن بھی۔پھر دھیرے سے کہتا ہے:’’چلو!عید گزری خدا خدا کر کے۔‘‘
[email protected]
�������������������������