عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں پانچ نئے ججوں کی تقرری کی منظوری دے دی ہے، جن میں ہائی کورٹ آف جموں و کشمیر اور لداخ کے چیف جسٹس ارون پالی بھی شامل ہیں۔بار اینڈ بینچ کے مطابق، ان تقرریوں کی منظوری مرکزی حکومت نے دی جبکہ مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف ارجن رام میگھوال نے اس کا باضابطہ اعلان کیا۔ دیگر مقرر ہونے والے ججوں میں پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شیل ناگو، بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس شری چندر شیکھر، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سنجیو سچدیوا اور سینئر وکیل وی موہنا شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ تقرریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے سپریم کورٹ میں ججوں کی منظور شدہ تعداد 34 سے بڑھا کر 38 کر دی ہے۔ نئی تقرریوں کے بعد سپریم کورٹ میں 37 نشستیں پُر ہو چکی ہیں۔جسٹس ارون پالی کا تعلق بنیادی طور پر پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ سے ہے۔ انہیں اپریل 2025 میں جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ وہ 18 ستمبر 1964 کو پٹیالہ میں پیدا ہوئے اور 1988 میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں طویل عرصے تک وکالت کی۔
انہوں نے 2004 سے 2007 تک پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جبکہ 2007 میں انہیں سینئر ایڈووکیٹ نامزد کیا گیا۔ دسمبر 2013 میں وہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے۔سٹس پالی نے ہریانہ اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور زیر التوا مقدمات کم کرنے کے لیے مختلف ثالثی اور لوک عدالت اقدامات کی قیادت کی۔بار اینڈ بینچ کے مطابق، ان کی سپریم کورٹ میں تقرری کی سفارش چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کی سربراہی میں سپریم کورٹ کولیجیم نے کی تھی۔ توقع ہے کہ جسٹس ارون پلی سپریم کورٹ میں تین برس سے زائد مدت تک خدمات انجام دیں گے۔
جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ارون پالی سپریم کورٹ کے جج مقرر