عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/شوپیان سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی شبیر احمد کلے نے اتوار کو حکومت میں آؤٹ سورسنگ کے نام پر ’’بیک ڈور انٹری ‘‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاملے کی اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ساتھ ہی انتظامیہ پر شوپیان کو نظر انداز کرنے کا الزام بھی لگایا۔سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شبیر کلے نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کو غیر قانونی تقرریوں کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے اور بعض سرکاری محکموں میں لوگوں کو تعینات کرنے کے بدلے مبینہ طور پر پیسے لیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’جب میں نے کچھ باہر کے لوگوں کو ضلع میں آتے دیکھا اور پورے معاملے کا جائزہ لیا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ واقعی ایک گھوٹالہہے۔ آؤٹ سورسنگ کی آڑ میں بیک ڈور انٹری گھوٹالہ چل رہا ہے اور یہ پیسہ کمانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔‘‘ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ مالی لین دین کے بعد تقرریاں کی جا رہی ہیں اور یہ معاملہ اتنا سنگین ہے کہ اس کی فوجداری تحقیقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا، ’’لوگ مبینہ طور پر پیسے لے کر افراد کو ملازمتوں میں ایڈجسٹ کر رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے اینٹی کرپشن بیورو سے رجوع کیا۔‘‘
شبیر کلے نے بتایا کہ انہوں نے اے سی بی کے پاس باضابطہ شکایت درج کرائی ہے اور اس پورے معاملے کو ایک منظم گھوٹالہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ان کے الزامات کی تائید کرتے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ معاملہ کسی ایک دفتر یا محکمے تک محدود نہیں بلکہ مختلف محکموں اور سیاسی و بیوروکریٹک عناصر کی ملی بھگت سے چل رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’یہ ایک مکمل گھوٹالہ ہے جس میں سیاسی عناصر اور متعلقہ محکمے، چاہے وہ محکمہ صحت ہو، میڈیکل ایجوکیشن ہو یا کوئی اور محکمہ، شامل ہیں۔ ہمیں اس کے خلاف آواز بلند کرنی ہوگی اور قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘شبیر کلے کے مطابق آؤٹ سورسنگ کو ایک متوازی بھرتی نظام بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جہاں مستحق امیدواروں کو نظر انداز کرکے مالی اثر و رسوخ رکھنے والوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’جہاں کہیں بھی لوگ پیسے دے کر نوکریاں حاصل کر رہے ہوں گے، ہم اس کے خلاف لڑیں گے۔‘‘
ایم ایل اے نے الزام لگایا کہ بھرتیوں اور حکمرانی کے گرد ایک ’’مافیا طرز کا نظام‘‘ قائم ہو چکا ہے اور عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بے ضابطگیوں کو بے نقاب کریں۔انہوں نے کہا، ’’چاہے چند لوگ ہی اس کے خلاف بول رہے ہوں، لیکن چند لوگ بھی کافی ہیں۔ ہم دکھائیں گے کہ حکومت کیسے چلنی چاہیے اور حکمرانی کا اصل طریقہ کیا ہونا چاہیے۔ میں اس لوٹ کھسوٹ اور دھوکہ دہی کے خلاف آواز بلند کرتا رہوں گا۔‘‘
شبیر کلے نے پریس کانفرنس کے دوران حالیہ ترقیاتی جائزہ میٹنگ کو شوپیان کے بجائے پلوامہ میں منعقد کیے جانے پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ اقدام ضلع شوپیان کو مسلسل نظر انداز کیے جانے کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابتدا ہی سے اس فیصلے پر اعتراض کیا تھا اور ترقیاتی جائزہ اجلاس شوپیان ضلع ہی میں منعقد ہونے چاہئیں۔ان کا کہنا تھا، ’’شوپیان ایک ضلعی ہیڈکوارٹر ہے اور ایسے اجلاسوں کی میزبانی کا حق رکھتا ہے۔ کافی عرصے سے یہاں کوئی ریویو میٹنگ منعقد نہیں ہوئی۔‘‘شبیر کلے نے الزام لگایا کہ شوپیان کے منتخب نمائندوں کو جائزہ عمل میں مناسب اہمیت نہیں دی گئی اور یہ پورا عمل سیاسی رنگ اختیار کر چکا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’شوپیان کے منتخب نمائندوں کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ اجلاس نے سیاسی شکل اختیار کر لی تھی۔‘‘ایم ایل اے نے اعلان کیا کہ وہ اس معاملے کو حکام کے سامنے مسلسل اٹھاتے رہیں گے اور شوپیان کو نظر انداز کیے جانے کے خلاف احتجاج بھی کریں گے۔انہوں نے کہا، ’’حکومت کو ادارہ جاتی نظام کے تحت کام کرنا چاہیے اور منتخب نمائندوں کے مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔‘‘انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکمرانی شفاف اور ادارہ جاتی ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی بنیادوں پر، اور شوپیان کو بھی ایک ضلعی ہیڈکوارٹر کے طور پر مساوی توجہ ملنی چاہیے۔
آؤٹ سورسنگ کی آڑ میں بیک ڈور بھرتیاں، ایم ایل اے شبیر کلے کا الزام، اے سی بی تحقیقات کا مطالبہ