عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/عدالت عظمیٰ نے ملک کی تمام ہائی کورٹس کو ہدایت دی ہے کہ محفوظ کیے گئے مقدمات کے فیصلے زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے اندر سنائے جائیں، کیونکہ فیصلوں میں تاخیر سے فریقین کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچتا ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جومالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے ذاتی آزادی سے متعلق معاملات میں فوری فیصلوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت کی درخواستوں پر حتی الامکان اسی دن فیصلہ ہونا چاہیے۔عدالتِ عظمیٰ نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھا جائے تو اسے اگلے دن تک جاری اور اپ لوڈ کر دیا جانا چاہیے۔
سپریم کورٹ نے مزید ہدایت دی کہ ضمانت منظور ہونے یا سزا معطل کیے جانے کے احکامات فوری طور پر جیل حکام تک پہنچائے جائیں تاکہ زیرِ حراست ملزم یا قیدی کو ترجیحی بنیادوں پر اسی دن، یا زیادہ سے زیادہ اگلے دن رہا کیا جا سکے۔
عدالتِ عظمیٰ کی ہائی کورٹس کو اہم ہدایت، محفوظ فیصلے تین ماہ کے اندر سنانے کا حکم، ضمانتی درخواستوں پر فوری فیصلے کی تاکید