شیخ بلال
عید الاضحیٰ اسلام کا وہ عظیم تہوار ہے جسے ’’قربانی کی عید‘‘ اور ’’عیدِ کبیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہر سال اسلامی مہینے ذوالحجہ کی 10 تاریخ کو منائی جاتی ہے، جب دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان حج کے رکنِ اعظم ’’وقوفِ عرفہ‘‘ سے فارغ ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ دن صرف خوشی منانے کا اور جانور ذبح کرنے کا نام نہیں ، بلکہ ایک عظیم تاریخ، ایک لازوال جذبے اور ایک عالمگیر پیغام کو زندہ کرنے کا دن ہے۔ عید الاضحیٰ کی روح کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس کے تاریخی پس منظر، شرعی مقاصد اور سماجی پیغام کو گہرائی سے دیکھنا ہوگا۔
عید الاضحیٰ کی بنیاد وہ بے مثال واقعہ ہے جو تقریباً چار ہزار سال پہلے پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم ؑکو خواب میں حکم دیا کہ اپنے اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ یہ وہ بیٹا تھا جو بڑھاپے میں دعاؤں کے بعد عطا ہوا تھا۔ باپ کے دل کا حال سوچیں، مگر حضرت ابراہیمؑ نے ایک لمحہ تامل نہ کیا۔ انہوں نے بیٹے کو آزمائش بتائی تو تیرہ سالہ اسماعیلؑ نے فوراً جواب دیا: ’’ابا جان! جو آپ کو حکم ملا ہے کر ڈالیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔‘‘
’’پھر جب وہ لڑکا ابراہیم کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا تو انہوں نے کہا،’’ بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب سوچ کر بتاؤ، تمہاری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا،’’ ابا جان ! آپ وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دیا جارہا ہے۔ انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔‘‘(الصافات ،آیت۔ 102 )
باپ نے بیٹے کی آنکھوں پر پٹی باندھی، چھری تیز کی اور اللہ کا نام لے کر چلانے ہی لگے کہ جبرائیلؑ جنت سے ایک مینڈھا لے کر آ گئے۔ اللہ نے ندا دی ،’’اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔‘‘
’’چنانچہ (وہ عجیب منظر تھا) جب دونوں نے سر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل گرایا۔ اور ہم نے انہیں آواز دی کہ اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا۔ یقیناً ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح صلہ دیتے ہیں۔ یقیناً یہ ایک کھلا ہوا امتحان تھا۔‘‘(الصافات)۔ یہ اطاعت، سپردگی اور توکل کی وہ معراج تھی جسے اللہ نے قیامت تک کے لیے یادگار بنا دیا۔ قرآن نے اعلان کیا کہ یہ ’’کھلا امتحان‘‘ تھا۔عید الاضحیٰ اسی سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرتی ہے۔ ہم جانور قربان کر کے اعلان کرتے ہیں کہ ہمارا مال، ہماری اولاد، ہماری جانیں، سب اللہ کی امانت ہیں۔ جب وہ مانگے گا، ہم پیش کر دیں گے۔عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ عید الاضحیٰ کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا ہے۔ مگر قرآن اس غلط فہمی کو دور کرتا ہے، ’’اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ یعنی اللہ کو ہمارے جانوروں کی ضرورت نہیں۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اس کا کتنا خوف ہے؟ ہم کتنے خلوص سے اس کا حکم مانتے ہیں؟ کیا ہم دکھاوے کے لیے مہنگے سے مہنگا جانور خرید رہے ہیں یا اللہ کی رضا کے لیے؟
قربانی دراصل ’’نفس کی قربانی‘‘ کی تربیت ہے۔ جانور کو ذبح کرتے وقت ہم علامتی طور پر اپنی خواہشات، اپنی انا، اپنی حرص، اپنے تکبر کو ذبح کرتے ہیں۔ ایک مومن کے لیے سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ وہ جھوٹ چھوڑ دے، رشوت نہ لے، کسی کا حق نہ مارے، غیبت سے زبان روک لے۔ اگر جانور تو ذبح ہو گیا مگر ہماری عادتیں نہ بدلیں، تو ہم نے عید کا اصل مقصد نہیں پایا۔عید الاضحیٰ کا سب سے خوبصورت سماجی پہلو گوشت کی تقسیم ہے۔ شریعت نے حکم دیا کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں۔ایک اپنے گھر والوں کے لیے، ایک عزیز و اقارب اور دوستوں کے لیے اور ایک غرباء و مساکین کے لیے۔
اس تقسیم میں کئی حکمتیں ہیں:(۱) سال کے باقی دنوں میں جو غریب خاندان گوشت خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے، عید کے دن ان کے گھر بھی سالن پکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کشمیر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر سال 3 لاکھ سے 3.5 لاکھ سے زیادہ جانور قربان ہوتے ہیں۔ اگر ہر جانور کا ایک تہائی حصہ بھی غریبوں میں جائے، تو کروڑوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ یہ اسلام کا ’’فطری سوشل سکیورٹی سسٹم‘‘ ہے۔(۲) جب امیر کا بیٹا اور غریب کا بچہ ایک جیسا گوشت کھاتے ہیں، تو دلوں سے اونچ نیچ کا احساس مٹتا ہے۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے یہاں عزت کا معیار تقویٰ ہے، دولت نہیں۔(۳) تیسرا حصہ رشتہ داروں میں بانٹنے کا حکم دراصل ’’صلہ رحمی‘‘ کی ترغیب ہے۔ جن سے سال بھر ملاقات نہ ہوئی ہو، عید کا گوشت بہانہ بن جاتا ہے۔
عید الاضحیٰ کا تعلق حج سے ہے اور حج سے بڑا اتحاد کا مظاہرہ دنیا میں کہیں نہیں۔ گورا، کالا، عربی، عجمی، بادشاہ، فقیر — سب ایک جیسے دو ان سلے کپڑوں میں ’’لبیک اللھم لبیک ‘‘پکارتے ہیں۔ یہ منظر پوری امت کو یاد دلاتا ہے کہ ہم ایک نبی کے امتی ہیں۔ عید کی نماز بھی اسی اخوت کا درس ہے۔ محلے کی مسجد میں امیر و غریب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ نماز کے بعد گلے ملنا، ایک دوسرے کے گھر جانا، ناراض لوگوں کو منانا — یہ سب عید کا پیغام ہے کہ مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں۔اس لئےموجودہ دور میں عید الاضحیٰ کا عملی تقاضا ہے کہ(۱) دکھاوے کے لیے لاکھوں کا جانور خریدنا، سوشل میڈیا پر نمائش کرنا، قربانی کی روح کے خلاف ہے۔ نبی کریمؐ نے دو مینڈھے قربان کیے تھے — ایک اپنی طرف سے، ایک اپنی امت کی طرف سے۔ سادگی سنت ہے۔(۲) عمومی طورپر مسلمان صفائی ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے اور خاص کر قربانی کے ایام میں بے فائدہ چیزیں، نجاست آلود چیزیں گلی محلے کے کنارے پر پھینک دیتے ہیں، ہڈیاں برسر راہ پھینک دیتے ہیں اور پورا علاقہ فضائی آلودگی نیز تعفن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ قربانی کے بعد گلیاں، سڑکیں آلودہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘۔ آلائشوں کو مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانا بھی عبادت ہے۔(۳) ذبح سے پہلے جانور کو بھوکا پیاسا رکھنا، اس پر تشدد کرنا، یا سست چھری سے ذبح کرنا گناہ ہے۔ اسلام نے ذبح کے بھی آداب سکھائے ہیں۔(۴)عید کی خوشیوں میں ان بھائیوں کو نہ بھولیں جو جنگ، غربت یا ظلم کا شکار ہیں۔ اپنی قربانی میں ان کا حصہ نکالیں۔ یہی اصل ایثار ہے۔
عید الاضحیٰ صرف تین دن کا تہوار نہیں، یہ زندگی گزارنے کا فلسفہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کا حکم ہر رشتے، ہر خواہش سے بڑھ کر ہے۔ ہماری کامیابی کا دارومدار تقویٰ پر ہے، نہ کہ دولت پر۔ معاشرہ تب خوبصورت بنتا ہے جب ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کریں۔ امت کا درد اپنا درد سمجھنا ہی اصل مسلمانی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بیٹا پیش کر دیا، حضرت اسماعیل ؑ نے گردن پیش کر دی۔ ہم سے صرف یہ مطلوب ہے کہ ہم اپنی ضد، اپنی نفرت، اپنی خود غرضی اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ اگر ہم نے یہ کر لیا تو سمجھیں ہم نے عید الاضحیٰ کا حق ادا کر دیا۔
(رابطہ۔ 6006796300 )
[email protected]>