عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز منشیات کے بڑھتے ہوئے خطرے کے خلاف سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عوامی زندگی سے وابستہ کوئی بھی شخص اگر منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا پایا گیا یا اس کی حمایت کرتا ملا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔سنہا نے یہ بات شوپیان ضلع میں ’نشہ مکت جموں کشمیر پدیاترا‘ میں شرکت کے دوران کہی، جہاں لوگوں نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے نارکو دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کا عہد کیا۔اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ اجتماعی عزم ایک نئے دور کے آغاز کی علامت ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’مرکز کے زیر انتظام علاقے کی ہر گلی اور کوچے سے ایک ہی آواز بلند ہو رہی ہے کہ کسی بھی منشیات فروش کو بخشا نہ جائے۔ جو تحریک 43 دن قبل جموں سے شروع ہوئی تھی، وہ اب ایک طاقتور عوامی تحریک بن چکی ہے اور معاشرے کے ہر طبقے میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں لاکھوں لوگ ایک ہی مقصد کے تحت متحد ہیں اور اس جنت نظیر سرزمین سے منشیات پر مبنی ملی ٹینسی کا خاتمہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔انہوں نے کہاکہ ’’اب عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ یہ کوئی دور کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے دروازے پر کھڑا ایک چیلنج ہے، جس کا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ سامنا کرنا ہوگا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے مشاہدہ کیا کہ ’’منشیات کا زہر ہماری نوجوان نسل کو ترقی کی راہ سے ہٹا رہا ہے۔ دہشت گرد گروہ منشیات سے حاصل ہونے والی رقم سے ہتھیار خریدتے ہیں اور انہی ہتھیاروں سے عام کشمیریوں کا خون بہایا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے کہاکہ ’’آج میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ خواہ کوئی سرکاری افسر ہو یا عوامی زندگی سے وابستہ شخص، اگر وہ کسی بھی طرح منشیات کے نیٹ ورک سے جڑا ہوا پایا گیا یا اس کی مدد کرتا ملا تو اسے سخت قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ میں عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ اگر اس زہر کا ذرا سا بھی اثر ہمارے نظام میں پایا گیا تو اسے بے رحمی سے ختم کر دیا جائے گا۔‘‘
منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا: منوج سنہا