عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/لیہہ کے پاس مشرقی لداخ کے اونچے علاقے والے تانگتسے سیکٹر میں ایک چیتا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا، لیکن ایک سینئر کمانڈر سمیت ہندوستانی فوج کے تین افسران بچ گئے۔ انہیں معمولی چوٹیں آئی ہیں۔
یہ حادثہ 20 مئی کو لداخ کے ناہموار پہاڑی علاقے میں ایک آپریشنل پرواز کے دوران پیش آیا تھا۔ اس حادثے کی معلومات جمعہ کو ہی سامنے آئی۔ قابل ذکر ہے کہ لداخ دنیا کے سب سے مشکل پرواز والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ حکام کے مطابق، ہیلی کاپٹر میں فوج کی تیسری انفنٹری ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل سچن مہتا سوار تھے، جبکہ ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک میجر طیارہ اڑا رہے تھے۔ تینوں لوگ اس حادثے میں محفوظ رہے ۔
فوج نے حادثے کی وجوہات کا پتہ لگانے کے لیے کورٹ آف انکوائری کا حکم دیا ہے۔ ابتدائی جانچ چل رہی ہے، تاہم واقعے کی اصل وجہ کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چیتا ہیلی کاپٹر، جو ایک ہلکا یوٹیلیٹی طیارہ ہے اور طویل عرصے سے ہندوستان کے اونچے علاقوں میں ہونے والے فضائی آپریشنز کی ریڑھ کی ہڈی مانا جاتا رہا ہے۔ دنیا کے کچھ سب سے اونچے لینڈنگ گراؤنڈز اور دور دراز کی اگلی چوکیوں پر پروازکی صلاحیت والے اس ہیلی کاپٹر نے لداخ، سیاچن گلیشیئر اور شمال مشرقی جیسے علاقوں میں فوجیوں کی نقل و حمل، زخمیوں کو نکالنے، جاسوسی مشنز اور لاجسٹکس سپورٹ میں اہم کردار نبھایا ہے۔
فرانس میں ڈیزائن کیے گئے ایرو اسپیشل ایس اے 315 بی لاما پر مبنی اور ہندوستان میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے ذریعہ تیار کردہ چیتا ہیلی کاپٹر دہائیوں پہلے فوج میں شامل ہوا تھا اور انتہائی خراب موسم اور مشکل علاقوں میں بھی بھروسے کے لیے مشہور ہوا۔ شاندار آپریشنل ریکارڈ کے باوجود، پرانے ہو چکے اس بیڑے کو اب دیکھ ریکھ اور سروس سے جڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے پیش نظر اسے نئی نسل کے ہیلی کاپٹروں سے بدلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
لیہہ کے پاس فوج کا چیتا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، تین افسران کو آئیں معمولی چوٹیں