عظمیٰ ویب ڈیسک
ہندواڑہ/جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندرکمارچودھری نے جمعرات کو کہا کہ اگر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ برقرار رہتا تو ”ایک بھی مکان منہدم نہ کیا جاتا“، انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں جبکہ اہم فیصلے بیوروکریسی کی جانب سے لیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بات ہندواڑہ میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ بارہمولہ کے رکن پارلیمان انجینئر رشید اور لنگیٹ کے رکن اسمبلی شیخ خورشید کے والد کے انتقال پر تعزیت کے لیے پہنچے تھے۔
حال ہی میں جموں میں جاری انہدامی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے اس کارروائی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ یہ ڈھانچے کئی برسوں سے موجود تھے۔
انہوں نے کہا، یہ مکانات راتوں رات تعمیر نہیں ہوئے۔ جب یہ تعمیر ہو رہے تھے تو متعلقہ محکمے کہاں تھا“انہوں نے انہدامی کارروائی کو افسوسناک قرار دیا۔
انہوں نے اس معاملے کو ریاستی درجے کی عدم موجودگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ حاصل ہوتا تو اس طرح کی کارروائیاں پیش نہ آتیں۔
نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ منتخب حکومت کو اعلیٰ افسران پر اختیار حاصل نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا،فیصلے بیوروکریٹس لے رہے ہیں جبکہ منتخب حکومت کے اختیارات محدود ہیں۔
انہوں نے ایک بار پھر جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ مرکز نے اسمبلی انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اب اسے پورا کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی درجہ اور خصوصی حیثیت کی بحالی سے عوام کے حقوق کا تحفظ ہوگا اور مستقبل میں اس طرح کی انہدامی کارروائیوں کو روکا جا سکے گا۔
جموں و کشمیر میں منتخب عوامی حکومت کے اختیارات محدود، بیوروکریسی فیصلے لے رہی ہے: نائب وزیر اعلیٰ