جی کیو کامران
زندگی میں اعتدال،توازن اور میانہ روی کو اپنا شعار بنانا،فضول خرچی سے دور رہنا،اور میسر وسائل پر قناعت اور صبر و تحمل کے ساتھ گزارہ کرنا کفایت شعاری کہلاتا ہے یہ وہ طرز عمل ہے جس سے نہ صرف موجودہ پریشانیاں دور ہو جاتی ہے بلکہ مالی استحکام کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون اور اطمینان قلب بھی حاصل ہوتا ہے۔
مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر وزیر عظم نریندر مودی نے بھارتی عوام کو کفایت شعاری کی راہ اختیار کرنے کی حکمت عملی پر زور دیا ہے انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بدلتے حالات کے مطابق اپنے طرز زندگی میں ضروری تبدیلیاں لائیں جس میں گھر سے کام کرنے کے کلچر کا فروع، سونے کی خریداری میں کمی، غیر ملکی سفر کو محدود کرنا،عوامی ٹرانسپورٹ یا کار پولنگ کو ترجیح دینے کے علاوہ مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے قابل تجدید توانائی کا وسیع تر استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں
وزیر اعظم کی اپیل کے بعد اتر پردیش اور مہاراشٹرا سمیت کئی ریاستی حکومتوں نے سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کٹوتی، عوامی ٹرانسپورٹ کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور کار پولنگ جیسے ٹھوس اقدامات کا آغاز کیا ہے۔مزید براں عالمی معاشی بے یقینی کے پیشِ نظر وسائل کی بچت کے لیے کورونا دور کے طرز پر گھر سے کام (Work from Home) اور ورچوئل میٹنگز کی روایت کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کے قبل قومی وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔
دہلی کی حکومت نے کفایت شعاری اور ایندھن کے بچاو کے لیے ’’میرا بھارت میرا یوگدان‘‘ مہم کا باضابطہ آغاز کیا ہے میڈیا سے گفتگو کے دوران وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ اس مہم کے تحت ہنگامی خدمات کے علاوہ تمام سرکاری دفاتر ہفتے میں دو دن ورک فرام ہوم ( Work from Home) کے اصول پر عمل پیرا ہوں گے ایک منفرد اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے دہلی کی سرکار نے ہر پیر کو میٹرو ڈے قرار دیا ہے اس دن وزراء اور اعلیٰ حکام سے لے کر تمام ملازمین کو عوامی ٹرانسپورٹ ( میٹرو) کے ذریعے آنے جانے کی ترغیب دی گئی ہے۔عدالت عظمیٰ نے بھی ایندھن کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کا اعلان کیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت مخصوص ایام میں مقدمات کی سماعت ورچوئل( آن لائین) ہو گی۔ جبکہ جج صاحبان نے ایندھن کے منصفانہ استعمال کے لیے کار پولنگ کو متفقہ طور اپنا لیا ہے۔اس کے علاوہ رجسٹری کے 50 فیصد عملے کو ہفتے میں دو دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کی پکار ایک اہم اور بر وقت فیصلہ ہے۔اور حکمران طبقے کی عملی شمولیت اس سمت میں ایک خوش آئند پیش رفت ہے تاہم اصل تبدیلی شہریوں کے طرزِ عمل سے وابستہ ہے۔کفایت شعاری کو محض وقتی ضرورت یا معاشی مجبوری کے طور پر نہیں بلکہ ایک مستقل طرزِ حیات کے طور پر اپنانے کی ضرورت ہے اگر ہم بحیثیت ذمہ دار شہری اپنے روزمرہ کے معمولات میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لانے کا عزم کریں تو انفرادی سطح پر اٹھائے گئے چھوٹے چھوٹے اقدام بھی قومی سطح پر اجتماعی بہبود کے لیے ایک بڑی اور مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔
انفرادی سطح پر کفایت شعاری اور وسائل کا دانشمندانہ استعمال محض ایک ذاتی بچت نہیں بلکہ قومی معشیت کی بنیاد بھی ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کی رپورٹ اس بات کی تائید کرتی ہے کہ انفرادی بچت ہی مجموعی سرمایہ کاری کا وہ بنیادی سر چشمۂ ہے جو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی ضمانت دیتا ہے۔
انفرادی سطح پر کی گئ بچت ہنگامی حالات جیسے بیماری، بے روزگاری یا معاشی بحران سے لڑنے کا ایک موثر حل ہے جو لوگوں کو بڑے بڑے فرضوں کے بوجھ تلے دبنے سے بچاتی ہے۔شہریوں کی بچت کرنے کی عادت مجموعی مانگ میں توازن پیدا کرتی ہے جو افراط زر پر قابو پانے کا موثر طریقہ ہے ۔
قومی سطح پر کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ یہ معاشی استحکام،پائیدار ترقی اور خود انحصاری کے لیے بھی انتہائی ضروری ہے۔جب حکومت اور عوام مل کر وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بناتے ہیں تو غیر ضروری درآمدات میں خود بخود کمی واقع ہوتی ہے جس سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ بچ جاتا ہے۔جسے ملک کی پیداوری صلاحیت بڑھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔مشرقی وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور ریفائنری شعبے پر بڑھتے مالی دباؤ کے باعث حالیہ دنوں میں بھارت میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا جس سے عام آدمی کے جیب پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم ایندھن اور دیگر اہم وسائل کا دانشمندانہ استعمال کریں۔تاکہ بحرانی کیفیت سے بچا جا سکے۔
کفایت شعاری اور ایندھن کی بچت ماحولیاتی آلودگی کو دور رکھنے میں بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔جب ہم ڈیزل اور پیٹرول جیسے روایتی ایندھنوں کا استعمال کم کرتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی مہلک گیسوں کے اخراج میں بھی واضح کمی آتی ہے جس سے گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو روکنے میں مدد ملتی ہے۔ایندھن کی بچت فضا میں زہریلے دھویں اور معلق ذرات کو کم کر دیتے ہیں جس نہ صرف سموگ (Smog) کا تدارک ہوتا ہے بلکہ سانس کی بیماریوں سے بھی تحفظ فراہم ہوتا ہے۔کار پولنگ سے نہ صرف ایندھن کی بچت ہو گی بلکہ یہ سڑکوں پر گاڑیوں کے دباؤ کو کم کرنے کا موثر ذریعہ ہے۔جب متعدد افراد الگ الگ گاڑیوں کے بجائے ایک ہی سواری کا اشتراک کرتے ہیں۔تو روزانہ کے ٹریفک جام سے نجات ملتی ہے جس سے شہریوں کا قیمتی وقت ضایع ہونے سے بچ جاتا ہے ۔
مستقبل کے معاشی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی (Renewable Energy) کا فروغ اب ایک متبادل نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ شمسی اور دیگر قابل تجدید توانائی جیسے قدرتی اور لامحدود وسائل کو اپنا کر ہم پٹرول، ڈیزل، گیس اور کوئلے جیسے محدود اور مہنگے روایتی ایندھن پر اپنا انحصار کم کر سکتے ہیں۔ گھروں اور کارخانوں میں شمسی توانائی (Solar Power) کا وسیع استعمال نہ صرف بجلی کے قومی گرڈ پر دباؤ کو ہلکا کرتا ہے، بلکہ صارفین کو بھاری بھرکم بلوں سے بھی نجات دلاتا ہے۔ اسی طرح، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں الیکٹرک گاڑیوں کی آمد پٹرول اور ڈیزل کی کھپت کو کم کر دیتی ہے جس سے ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت ہوتی ہے اور کوئلے و تیل کے گرتے ہوئے ذخائر مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ایک چھوٹی مگر کارآمد تبدیلی کے طور پر اگر ہم روزمرہ کی زندگی میں چھوٹی مسافتوں کے لیے سائیکل کلچر کو دوبارہ زندہ کر لیں، تو یہ ایندھن کی بچت کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے گراف کو نیچے لانے اور عوامی صحت کو بہتر بنانے کا ایک اہم اور انقلابی قدم ہوگا۔ طرزِ حیات میں یہی چھوٹی تبدیلیاں ہمیں معاشی خود انحصاری کی منزل سے ہمکنار کرا سکتی ہیں۔
کفایت شعاری اور وسائل کا دانشمندانہ استعمال ہی دراصل کسی بھی فرد اور قوم کی بقا کا ضامن ہے۔اس کے برعکس فضول خرچی اور نمود و نمائش پر خرچ کیا گیا پیسہ نہ صرف ایک اکائی بلکہ پورے معاشرے کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔بلاشبہ قدرتی وسائل قدرت کی انمول نعمتیں ہیں لیکن ان کی حفاظت ہمارا دینی، اخلاقی اور قومی فریضہ ہے اور اس کے لیے کفایت شعاری اور وسائل کا دانشمندانہ استعمال ایک ناگزیر عمل ہے۔ قناعت پسندی وہ لافانی طرز عمل ہے جو انسان کوکبھی لاچاری اور تنگ دستی کی دہلیز پر کھڑا نہیں ہونی دیتی ابھی بھی وقت ہے کہ ہم انفرادی اور قومی سطح پر سادگی کو اپنا کر اور بیجا اخراجات میں کمی لا کر ایک مستحکم اور خوشحال معاشرے اور قوم کی مظبوط بنیاد رکھیں بہ صورتِ دیگر اگر ہم نے آج اپنی عادتیں نہ بدلیں تو اسراف اور لاپرواہی کی پاداش میں ہم مفلوک الحالی اور پسماندگی کے اس اندھے کنویں میں جا گریں گے جہاں سے واپسی نا ممکن ہو گی۔