معلومات
محمد امین میر
زمین کی محصولات کی انتظامیہ کا شعبہ نہایت پیچیدہ اور اکثر نظر انداز کیا جانے والا میدان ہے، جہاں ترقی عموماً ڈرامائی نہیں ہوتی بلکہ بتدریج، طریقہ کار کے مطابق اور فائلوں، رجسٹروں اور پرانے نظاموں کی تہوں میں چھپی ہوتی ہے۔ تاہم کبھی کبھار ایک خاموش انقلاب جنم لیتا ہے،ایسا انقلاب جو فوری طور پر سرخیوں میں نہیں آتا مگر بنیادی سطح پر طرزِ حکمرانی کو بدل دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک نمایاں تغیر اس وقت جموں و کشمیر کے تحصیل قاضی گنڈ میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ایک غیر معمولی انتظامی کوشش نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔
ڈیجیٹائزڈ جمعبندیوں میں بیک لاگ میوٹیشنز کی اپ لوڈنگ ،ایک ایسا کام جو کئی علاقوں میں برسوں سے التوا کا شکار تھا،قاضی گنڈ میں حیرت انگیز رفتار اور درستگی کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ اس کامیابی کے مرکز میں تحصیلدار قاضی گنڈ، شکیل احمد گنی کی فعال قیادت ہے، جن کے عملی رویے، تکنیکی مہارت اور غیر متزلزل عزم نے ایک مشکل انتظامی بوجھ کو کارکردگی کی مثال میں بدل دیا۔ یہ جموں و کشمیر کی دیگر تحصیلوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اس ماڈل کو اپنائیں اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کی جانب پیش قدمی کریں۔
اس کامیابی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مسئلے کی نوعیت کو سمجھا جائے۔جمعبندی زمین کے ریکارڈ کی بنیاد ہے، جو ملکیت، کاشتکاری اور حقوق کو ظاہر کرتی ہے۔ ڈیجیٹائزیشن کے ذریعے حکومت جموں و کشمیر نے ان ریکارڈز کو جدید بنانے کی اہم کوششیں کی ہیں، مگر ایک بڑی رکاوٹ برقراررہی ۔
میوٹیشنز کا بیک لاگ۔میوٹیشنز وہ اندراجات ہیں جو فروخت، وراثت یا دیگر قانونی عمل کے نتیجے میں ملکیت یا حقوق میں تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب یہ اندراجات ڈیجیٹائزڈ جمعبندیوں میں شامل نہیں ہوتے تو پورا نظام غیر معتبر ہو جاتا ہے۔ زمین کے تنازعات بڑھتے ہیں، لین دین میں تاخیر ہوتی ہے اور عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔کئی تحصیلوں میں یہ بیک لاگ برسوں بلکہ دہائیوں سے جمع ہوتا رہا ہے، جس کی وجوہات میں عملے کی کمی، نگرانی کا فقدان، ٹیکنالوجی سے ہچکچاہٹ اور دیگر انتظامی مصروفیات شامل ہیں۔
اسی پس منظر میں قاضی گنڈ کی کامیابی غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے۔صرف ایک ہفتے کے اندر تقریباً 85 فیصد بیک لاگ میوٹیشنز کو ڈیجیٹائزڈ نظام میں اپ لوڈ کر دیا گیا۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں زیر التوا اندراجات کا حل ہے جو براہ راست عوام کو متاثر کرتے تھے۔ یہ کام مردم شماری کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ انجام دیا گیا جو خود ایک وسیع انتظامی ذمہ داری ہے۔اس کامیابی کے تین بنیادی عناصر تھے۔(۱)شکیل احمد گنی نے خود پورے عمل کی نگرانی کی، جس سے ہر سطح پر جوابدہی یقینی بنی۔(۲)روزانہ صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک مسلسل کام کرتے ہوئے انہوں نے اس عمل کو ترجیح دی۔(۳)ڈیجیٹائزیشن اور مردم شماری دونوں کو بیک وقت سنبھالنا اعلیٰ انتظامی صلاحیت کی مثال ہے۔اس کامیابی کی ایک اہم خصوصیت تحصیلدار کی تکنیکی مہارت ہے۔جہاں کئی افسران ڈیجیٹل نظام سے ناواقف ہوتے ہیں، وہاں شکیل احمد گنی نے خودڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کئے،آن لائن میوٹیشنز کی تصدیق کی،غلطیوں کی فوری نشاندہی کی،عملے کی رہنمائی کی۔انہوں نے خود آن لائن تصدیق کر کے ڈیٹا کی درستگی کو یقینی بنایا جو نہایت اہم قدم ہے۔ نظام کو متحرک کرنے میںقیادت کا کردار یہاں نمایاں رہا,پٹواریوں میں جوابدہی بڑھی،گرداوروں نے نگرانی بہتر کی،عملہ متحرک ہوا۔اس اقدام کے براہ راست فوائد عوام کو حاصل ہوں گے۔ زمین کے تنازعات میں کمی ہوگی،درست ریکارڈ تنازعات کم ہوں گے۔ لین دین میں تیزی آئے گی،اپڈیٹ شدہ ریکارڈ عمل کو آسان بن جائیں گے۔اسی طرح شفافیت میں اضافہ ہوگا،بدعنوانی کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔قاضی گنڈ نے ثابت کیا کہ یہ مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
ایک مکمل خاکہ: پورے جموں و کشمیر کے لیےقاضی گنڈ کا ماڈل ایک واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے۔فعال قیادت ضروری ہے،ٹیکنالوجی کی تربیت لازم ہے،وقت مقرر اہداف طے کیے جائیں،بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت بڑھائی جائے،تصدیق کے نظام کو مضبوط بنایا جائے،
بڑا مقصد: زمین کے نظام کی جدید کاری۔یہ اقدام ایک بڑے وژن کا حصہ ہے۔آن لائن زمین ریکارڈ،GIS انضمام،شفاف میوٹیشن نظام،انسانی مداخلت میں کمی، فرض سے بڑھ کر خدمت۔یہ کہانی صرف نظام کی نہیں بلکہ عزم کی ہے۔طویل اوقاتِ کار اور ذاتی دلچسپی ایک مضبوط احساسِ ذمہ داری کو ظاہر کرتے ہیں۔تمام تحصیلداروںاس ماڈل کو اپنانے کی ضرورت ہے۔قاضی گنڈ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قیادت، ٹیکنالوجی اور عزم یکجا ہو جائیں تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔85 فیصد بیک لاگ کا ایک ہفتے میں خاتمہ صرف کامیابی نہیں بلکہ ایک مثال ہے۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ مثال ایک معیار بنے،تاکہ جموں و کشمیر میں شفاف، مؤثر اور عوام دوست نظامِ محصولات مکمل طور پر قائم ہو سکے۔