عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندستان اور انڈونیشیا نے اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کا ایک سنہرا باب شروع کرتے ہوئے دفاع، سکیورٹی، اہم معدنیات، سمندری شعبے، ٹیکنالوجی اور زراعت جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے کیے ہیں۔انڈونیشیا کے تین روزہ دورے پر گئے مودی نے منگل کو دارالحکومت جکارتہ میں انڈونیشیا کے صدر پروبوو سوبیانتو کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ آج سے ہندستان اور انڈونیشیا کی شراکت داری کا ایک سنہرا باب شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں قائم ہونے والی ہماری جامع اسٹریٹجک شراکت داری آج ایک نئی اڑان بھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا،ہم ترقی، سکیورٹی، ٹیکنالوجی، ثقافت اور تعلیم، ہر شعبے میں اہم اقدامات کر رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آج سے ہندستان۔انڈونیشیا شراکت داری کا ایک سنہرا باب شروع ہو گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا اعتماد ہمارے دفاع، سکیورٹی اور سمندری شعبے میں تعاون کو مضبوط کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے آج دفاعی تبادلوں، آفات کے بندوبست اور صنعتی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ آج ہونے والے معاہدوں سے ہندستان کی معیاری اور سستی ادویات اب انڈونیشیا کے شہریوں کو مزید آسانی سے دستیاب ہوں گی۔
وزیر اعظم نے موجودہ حالات میں ٹیکنالوجی اور سپلائی چین کی مضبوطی کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک نے اہم معدنیات اور اسٹیل کے شعبے میں سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان اسٹیل اور نایاب میگنیٹ کے تعلق سے شراکت داری کی نئی شروعات ہو رہی ہے۔ مودی نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ اب ہندستان کا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام یو پی آئی انڈونیشیا کے ادائیگی کے نظام کے ساتھ مربوط ہونے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے تجارت میں آسانی پیداہو گی اور سیاحت کے شعبے کو بھی فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک گرو دیو ربیندر ناتھ ٹیگور کے تاریخی دورہ انڈونیشیا کا صد سالہ جشن دھوم دھام سے منائیں گے۔ ہندستان۔انڈونیشیا اس صد سالہ تقریب کو ٹیگور اور دیوانترا کلچرل اینڈ ایجوکیشنل ڈپلومیسی ایئرکے طور پر منائیں گے۔ دنیا کے کچھ حصوں میں جاری تنازعات پر مودی نے کہا کہ عالمی اتھل پتھل کے اس دور میں ہندستان کا ماننا ہے کہ بات چیت اور سفارت کاری کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر ہم دو ریاستی حل اور طویل مدتی امن کی حمایت کرتے ہیں۔
ہندوستان اور انڈونیشیا کی شراکت داری میں سنہرے باب کا آغاز، دونوں نے متعدد شعبوں میں معاہدے کیے: مودی