محمد تسکین وانی
بانہال /ضلع رام بن کی’’چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی)‘‘نے گورنمنٹ مڈل اسکول کراوہ، بانہال حالیہ واقعے میں ملوث ایک نابالغ طالب علم کی وائرل ویڈیو کو فوری طور پر سوشل میڈیا سے ہٹانے کے لیے سائبر پولیس اسٹیشن رام بن کو کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ ویڈیو کی تشہیر بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
منگل کو جاری کیے گئے حکم نامے میں چیئرپرسن سی ڈبلیو سی رام بن، نگہت غنی نے کہا کہ یہ واقعہ گورنمنٹ مڈل اسکول کراوہ، بانہال کے ساتویں جماعت کے ایک طالب علم سے متعلق ہے، جو گرمیوں کی 15 روزہ تعطیلات سے قبل آخری تدریسی دن مبینہ طور پر کلاس روم میں سو گیا تھا اور اسکول بند ہونے کے بعد اتفاقی طور پر اندر ہی مقفل رہ گیا۔ بعد ازاں ایک مقامی راہگیر نے اسے بحفاظت باہر نکالا۔
کمیٹی نے اپنے حکم میں کہا کہ طالب علم کی ویڈیوز، جن میں اسکول احاطے میں کیے گئے انٹرویوز بھی شامل ہیں، بچے کی شناخت، رازداری اور وقار کا تحفظ کیے بغیر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ اور وسیع پیمانے پر شیئر کی گئیں، جو جووینائل جسٹس (کئیر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن) ایکٹ 2015اور نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر)کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔حکم نامے کے مطابق ان ویڈیوز کی مسلسل گردش سے بچے کو عوامی تنقید، آن لائن ہراسانی، شناخت کے غلط استعمال اور طویل مدتی نفسیاتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے سائبر پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر ان تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس، یو آر ایل اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی نشاندہی کرے جہاں یہ ویڈیوز موجود ہیں یا شیئر کی جا رہی ہیں، اور متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے انہیں ہٹانے یا بلاک کرنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے۔کمیٹی نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ نابالغ کی ویڈیو بنانے، اسے شائع کرنے، انٹرویو لینے یا نشر کرنے میں ملوث افراد کے خلاف بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کے تحت قانونی کارروائی کی جائے۔
اِس کے علاوہ میڈیا اداروں، صحافیوں، ڈیجیٹل کانٹینٹ تخلیق کاروں، وی لاگرز اور عام شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بچے کا انٹرویو لینے، ویڈیو بنانے یا کسی بھی ایسے مواد کی تشہیر سے گریز کریں جس سے اس کی رازداری، وقار، سلامتی یا مجموعی فلاح و بہبود متاثر ہو۔چائلڈ ویلفیئر کمیٹی نے سائبر پولیس کو تین روز کے اندر کارروائی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چیف ایجوکیشن آفیسر را م بن نے اس واقعے کے بعد گورنمنٹ مڈل اسکول کراوہ کے پورے عملے کو معطل کرتے ہوئے محکمانہ انکوائری کا حکم دیا تھا، کیونکہ طالب علم کئی گھنٹوں تک اسکول کے اندر بند پایا گیا تھا۔
بانہال اسکول واقعہ: چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی نابالغ طالب علم کی وائرل ویڈیو ہٹانے کی ہدایت، سائبر پولیس کو کارروائی کرنے کا حکم