قابل تحسین
رئیس یاسین
سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن (CBSE) نے یکم جولائی 2026 سے جماعت 9 اور 10 کے لیے تین زبانوں کو لازمی قرار دے کر ایک اہم تعلیمی اصلاح متعارف کروائی ہے۔ یہ فیصلہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (NEP) 2020 کے وژن کے تحت لیا گیا ہے اور بلاشبہ ایک ایسی مثبت پیش رفت ہے جو ایک زیادہ باشعور، ثقافتی طور پر جڑی ہوئی اور مضبوط نسل کی تعمیر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ہندوستان لسانی تنوع کا ایک عظیم ملک ہے، جہاں ہر زبان اپنی تاریخ، ادب اور تہذیب کی نمائندہ ہے۔ ایسے دور میں جب انگریزی کے بڑھتے ہوئے اثر کی وجہ سے علاقائی زبانیں آہستہ آہستہ اپنی جگہ کھوتی جا رہی ہیں، یہ پالیسی ہندوستان کی کثیر لسانی وراثت کو محفوظ رکھنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ زبان محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب، اقدار اور شناخت کا بھی حصہ ہوتی ہے۔
دنیا بھر کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ ایک سے زیادہ زبانیں جاننے والے طلبہ میں ذہنی صلاحیت، ابلاغی مہارت اور سماجی فہم نسبتاً زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ طلبہ کو مختلف زبانیں سکھا کر سی بی ایس ای صرف تعلیم کو فروغ نہیں دے رہا بلکہ ثقافتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
اس پالیسی کا ایک متوازن پہلو یہ بھی ہے کہ تیسری زبان کے لیے جماعت دسویں میں الگ سے بورڈ امتحان نہیں ہوگا۔ اس سے طلبہ زبانوں کو صرف نمبروں کے لیے نہیں بلکہ حقیقی فہم اور مہارت کے طور پر سیکھ سکیں گے۔ یہ قدم تعلیم کو محض امتحان تک محدود رکھنے کے بجائے اسے زیادہ بامقصد بنانے کی کوشش ہے۔
ہندوستان جیسے متنوع ملک میں اس طرح کی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ جو طالب علم مختلف زبانوں کو سمجھتا ہے، وہ مختلف تہذیبوں، معاشروں اور خیالات کو بھی بہتر انداز میں سمجھتا ہے۔ ایک لحاظ سے کثیر لسانی تعلیم ’’اتحاد میں تنوع‘‘ کے اس تصور کو مزید مضبوط بناتی ہے جو ہندوستان کی اصل پہچان ہے۔
کشمیر جیسے کثیر لسانی معاشروں کے لیے بھی یہ پالیسی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے طلبہ اپنی مادری زبانوں سے جڑے رہتے ہوئے قومی اور عالمی سطح پر بھی بہتر مواقع حاصل کر سکیں گے۔یقیناً اس پالیسی کی کامیابی کے لیے بہتر تعلیمی ڈھانچہ، تربیت یافتہ اساتذہ اور مناسب منصوبہ بندی ضروری ہوگی۔ تاہم اس اصلاح کے پس منظر میں موجود وژن قابلِ تعریف ہے۔ زبانوں کو بوجھ سمجھنے کے بجائے انہیں ایک طاقت اور صلاحیت کے طور پر دیکھنا وقت کی ضرورت ہے۔
سی بی ایس ای کی یہ تین زبانوں کی پالیسی محض ایک تعلیمی تبدیلی نہیں بلکہ ہندوستان کے ثقافتی مستقبل، فکری ترقی اور قومی یکجہتی میں ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔
[email protected]
������������������