تبصرہ
سبزار احمد بٹ
شاعری ہو یا اصنافِ سخن کی کوئی اور صنف، کسی بھی میدان میں طبع آزمائی کرنا اور اپنی تخلیق کو منصۂ شہود پر لانا کوئی معمولی کام نہیں۔ اس عمل میں ایک تخلیق کار کا خونِ جگر، محنت اور وہ شب بیداریاں شامل ہوتی ہیں جو اس نے راتوں کو جاگ کر گزاری ہوتی ہیں۔ جب یہی تخلیق منظرِ عام پر آتی ہے تو تخلیق کار کے لیے یہ ایک بڑی کامیابی اور مسرت کا باعث بنتی ہے۔تاہم جب یہ تخلیق قاری کے ہاتھوں میں پہنچتی ہے تو ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ قاری اپنی الگ نظر سے اس کا جائزہ لیتا ہے، نئے پہلو تلاش کرتا ہے اور تنقیدی زاویے سے اسے پرکھتا ہے۔ یوں وہ تخلیق کار کو ایک آئینہ دکھاتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کو سمجھ کر آئندہ بہتر تخلیق کی کوشش کرتا ہے۔ بہرحال، کوئی بھی فن پارہ مکمل نہیں ہوتا اور ہر قاری اپنی بصیرت کے مطابق اسے دیکھتا اور جانچتا رہتا ہے۔ یہی تنقیدی عمل ادب کی ترقی کا سبب بنتا ہے اور کسی تخلیق کار نے تنقید کے خوف سے اپنی تخلیقی کاوشیں ترک نہیں کیں، بلکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ تنقید سے فن پاروں میں مزید بہتری آ جاتی ہے۔
جہاں تک شعری مجموعہ ’’رختِ سفر‘‘ کا تعلق ہے، یہ شیخ گلزار صاحب کی پانچویں تخلیق ہے۔ اس سے پہلے سایہ دھوپ کا، لمحے اندھیروں کے، دریچہ اور منظر سیاہ آسمانوں کا جیسی تخلیقات منظرِ عام پر آ چکی ہیں۔ میرے ہاتھوں میں اس وقت رخت سفر نام کا خوبصورت شعری مجموعہ ہے ۔ موجودہ دور میں جب ازدواجی زندگی مختلف مسائل کا شکار ہے اور میاں بیوی کے درمیان اختلافات عام ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں گلزار صاحب نے اس کتاب کا انتساب اپنی شریکِ حیات کے نام کر کے دل جیت لیا ہے۔ ساتھ میں پروین شاکر کا یہ خوبصورت شعر بھی انتساب والے صفہ کی زینت بنا ہے۔
دعا کا ٹوٹا ہوا حرف سرد آہ میں ہے
تیری جدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے
اس شعری مجموعے کا پیش لفظ وادی کے نامور انشائیہ نگار اور ادیب ڈاکٹر گلزار احمد وانی نے تحریر کیا ہے۔ وہ شیخ گلزار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ،’’شیخ گلزار لفظ کی حرمت سے آگاہ ہیں اور ان کی شاعری ان کے وسیع اور تخلیقی ذہن کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق شاعر کے کلام کو جس زاویے سے بھی دیکھا جائے، اس میں ایک تکمیلی احساس نمایاں ہوتا ہے۔‘‘رختِ سفر میں شاعر نے نہ صرف اپنے گرد و نواح میں پیش آنے والے حالات و واقعات اور اپنے تجربات کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے بلکہ عالمی مسائل کو بھی بڑی خوبصورتی کے ساتھ اپنے اشعار کی زینت بنایا ہے۔عالمی سطح پر موجودہ حالات اور جنگ و جدل کی کیفیت کو بھی شاعر نے نہایت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ لکھتے ہیں ؎
کون محفوظ ہے یہاں گلزار
ساری دنیا میں مارا ماری ہے
مادیت پرستی نے انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ آج کا انسان مادیت پرستی کا اس قدر دلدادہ ہو گیا ہے کہ رشتوں کے ساتھ ساتھ اقدار کا بھی جنازہ نکلتا جا رہا ہے ۔ آج کے انسان کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے ہی لوگوں سے لاحق ہے۔ اپنے جب رویہ بدلتے ہیں تو انسان کو بے حد تکلیف ہوتی ہے اور اپنائیت پر سے اعتبار ختم ہو جاتا ہے۔ اسی احساس کو شاعر نے یوں بیان کیا ہے:
دل یہ کس کے لیے سفر میں ہے
میرا قاتل تو میرے گھر میں ہے
وہی اک شخص مجھ سے بدگمان بہت ہے
جسے اپنوں سے بھی چاہا بہت ہے
دوست کتنے ہی تھے مگر کس پل
بے مروت وہ بے وفا نکلے
عہدِ حاضر کا انسان بے شمار الجھنوں میں گھرا ہوا ہے۔ بظاہر وہ مسکراتا ہوا دکھائی دیتا ہے، لیکن اندر سے ٹوٹ چکا ہوتا ہے۔ اس کیفیت کو شاعر نے نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں بیان کیا ہے ؎
جسے میں دیکھتا ہوں خوش ہے لیکن
اندر سے ہر کوئی ٹوٹا ہوا ہے
اگرچہ شیخ گلزار نے عام موضوعات اور روزمرہ کے تجربات کو بڑی سادگی سے اشعار میں ڈھالا ہے، تاہم بعض مقامات پر قاری کو اختلاف کی گنجائش بھی محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر
وہ تو جھوٹا ہے، چلو جھوٹا سہی
پھر بھی اس کو آزمانا چاہیے
شاعر کا حوصلہ کافی بلند ہے اور وہ مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہتا ہے اور دوسروں کو بھی اسی طرح کی ترغیب دیتا ہے۔ لکھتے ہیں ؎
مشکلیں بڑھتی ہیں، بڑھنے دیجئے
اپنے بل پہ مجھ کو لڑنے دیجئے
اللہ تعالیٰ سے دعا اور وسعتِ قلب کی طلب بھی ان کے کلام میں نمایاں ہے:
مجھے غم کے مطابق دل بھی دے دے
اچھلتی موج کو ساحل بھی دے دے
شاعری کے لیے اگرچہ عشق بنیادی موضوع رہا ہے، تاہم ایسا نہیں کہ غمِ عاشقی کے علاوہ کوئی اور غم نہیں۔ بقولِ فیض ؎
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
اسی مضمون کو گلزار صاحب نے کچھ اس طرح ادا کیا ہے:
نادان ہیں یہ لوگ کہ رونے کو بھی مرے
ہر وقت سمجھتے ہیں فقط ہے یہ دل لگی
شاعر نے شہروں کے نفسا نفسی کے عالم کو بھی بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے جہاں انسان اپنے ہی عالم میں مست ہے ۔ کسی انسان کو کسی دوسرے کی فکر نہیں ہے جہاں ملاقاتیں بھی رسمی ہیں اور حال چال پوچھنا بھی بس ایک رسم بن کے رہ گیا ہے ۔
یہ قصبہ ہے یہاں گاؤں کی مانند
کسی کا بھی کوئی ہوتا نہیں ہے
فون پر بھی بات کرنا ٹھیک ہے
حال کیا ہے یہ بھی آ کر دیکھنا
نمونے کے طور پر شیخ گلزار کے چند بہترین اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
میرا تو ایک ہے، میں مطمئن ہوں
تجھے اتنے خداؤں سے ملا کیا
ابھی تم میں بہت ہی خامیاں ہیں
ابھی تو وقت ہے کچھ تو سنبھل جا
اس مجموعے میں نظم ’’تم کب لوٹو گی‘‘ بھی شامل ہے، جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہرا اور خوبصورت احساس ہے۔ اس کے علاوہ’’کتبہ‘‘، ’’کہوں بھی کسے‘‘ اور’’تمہاری طرح‘‘ جیسی شاندار نظمیں بھی اس مجموعے کا حصہ ہیں، جو اس کی ادبی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہیں۔شیخ گلزار نے اپنی شاعری میں تنہائی، بے بسی، جدائی، موجودہ دور کی بے چینی، دوستوں کی بے وفائی، محرومی، ملن اور محبوب کے ستم جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس مجموعے میں متعدد نظمیں شامل کی گئی ہیں۔ میں شیخ گلزار صاحب کو اس شعری مجموعے کی اشاعت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔