عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) جموں و کشمیر، نالین پربھات نے جمعرات کو کہا کہ پولیس پاکستان کی سرپرستی میں ہونے والی ملی ٹینسی اور نارکو ٹیررازم کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑ رہی ہے اور سرحد پار منشیات کے گٹھ جوڑ اور ان کے سرپرستوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔پی سی آر کشمیر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پولیس سربراہ نےکہا کہ ’’نشہ مکت ابھیان‘‘ کے تحت جموں و کشمیر بھر میں منشیات مخالف کارروائیوں میں نمایاں تیزی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2023 سے منشیات کے خلاف جنگ میں پولیس نے مسلسل بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، خاص طور پر جائیدادوں کی ضبطی، احتیاطی نظربندی اور ممنوعہ اشیاء کی ضبطگی کے معاملے میں۔انہوں نے کہا کہ 2023 سے 2026 تک منشیات کی اسمگلنگ سے جڑی جائیدادوں کی ضبطی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور سال 2025 میں جموں و کشمیر پولیس اس معاملے میں ملک بھر میں تیسرے نمبر پر رہی۔
ڈی جی پی نے مزید کہا کہ سال 2025 میں پی آئی ٹی-این ڈی پی ایس کے تحت 240 احتیاطی نظربندیاں عمل میں لائی گئیں، جس کے باعث جموں و کشمیر پولیس ملک بھر میں پہلے نمبر پر رہی۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر ’’نشہ مکت ابھیان‘‘ کے تحت گزشتہ سال کے مقابلے میں این ڈی پی ایس کیسوں میں تقریباً سات گنا اضافہ درج کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ جموں و کشمیر بھر میں درج 724 این ڈی پی ایس مقدمات میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ 806 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اہم گرفتاریوں میں گلزار احمد عرف لوو گجر شامل ہے، جو 28 مقدمات میں مطلوب تھا، جبکہ جموں صوبے میں اوینیت سنگھ عرف ناگی کو بھی گرفتار کیا گیا، جو 17 مقدمات میں مطلوب تھا۔ڈی جی پی نے کہا کہ مہم کے دوران 667 کلوگرام منشیات اور 90 ہزار سے زائد نفسیاتی ادویات کی یونٹس ضبط کی گئیں، جبکہ 24 عادی منشیات فروشوں کے خلاف احتیاطی کارروائی بھی کی گئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ سے جڑی 97 جائیدادیں، جن کی مالیت 41.85 کروڑ روپے ہے، اب تک شناخت کر کے ضبط کی جا چکی ہیں۔ اننت ناگ پولیس نے ایک ہی مقدمے میں 6.17 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار جموں و کشمیر پولیس نے اپنی حدود سے باہر بھی جائیدادیں ضبط کی ہیں، جن میں گرداسپور، پٹھانکوٹ اور چندی گڑھ میں ایک ایک جائیداد شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ کولگام پولیس نے بھی جموں کے بیلی چرانہ علاقے میں 93 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی تاکہ منشیات کے مقدمات میں پچھلے روابط کو سامنے لایا جا سکے۔
ڈی جی پی کے مطابق، منشیات کی تجارت سے حاصل شدہ آمدنی کے طور پر شناخت کی گئی 41 جائیدادیں، جن کی مالیت تقریباً 15 کروڑ روپے ہے، قانونی عمل مکمل کرنے کے بعد منہدم بھی کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ 117 کنال اراضی پر پھیلی پوست اور بھنگ کی غیر قانونی کاشت کو بھی تباہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ دواسازی کے مراکز کی بھی خصوصی جانچ کی گئی، جس کے تحت 5,238 کیمسٹ اور میڈیکل شاپس کی تلاشی لی گئی جبکہ 151 خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ مہم کے دوران 4,962 کلوگرام منشیات اور 6,493 نفسیاتی ادویات کی یونٹس کو تلف کیا گیا۔
ڈی جی پی نے بتایا کہ منشیات کے مقدمات میں ملوث 162 افراد کے ڈرائیونگ لائسنس یا تو منسوخ کیے گئے یا معطل کیے گئے، جبکہ منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی 92 گاڑیوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ بھی منسوخ یا معطل کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ منشیات سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث 10 افراد کے پاسپورٹس ضبط کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
منشیات فروشوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ جاری، بڑے نیٹ ورک جلد بے نقاب ہوں گے: پولیس سربراہ