جی کیو کامران
جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے ‘نشہ مکت ابھیان کے تحت جموں و کشمیر کو منشیات کی بدعت سے پاک کرنے کے لیے انسدادِ منشیات کی سو روزہ خصوصی مہم جوش وخروش سے جاری ہے۔اس منظم جدو جہد میں جموں کشمیر کے تمام بیس اضلاع کو شامل کیا گیا ہے اور منشیات کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے 15 ہزار سے زائد تقریبات جلسے اور ریلیاں منعقد کرانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے پارلیمنٹ کو اگست 2023 میں انتہائی تشویش ناک اعداد شمار پیش کئے گئے۔ کمیٹی کے رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر 13 لاکھ 50 ہزار افراد منشیات کے دلدل میں پھنس گئے ہیں۔اور اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ منشیات کے عادی افراد میں 10 سے 17 سال کے عمر کے بچوں کی تعداد 1 لاکھ 70 ہزار ہے جو ہیروئن، بھنگ، کوکین اور خطرناک کیمیکلز کے استعمال کے عادی ہوچکے ہیں۔اگرچہ اس سماجی، جسمانی اور اخلاقی تباہی کے پسِ پردہ کئی محرکات کارفرما ہیں، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ والدین کی مجرمانہ غفلت اور تربیت کا فقدان بچوں کو اس اندھی کھائی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ منشیات کے ناسور کا حل صرف ریلیوں، نعروں یا جلسوں میں مضمر نہیں، بلکہ اس کے سدِ باب کی اصل جڑ گھر کی دہلیز اور والدین کی بر وقت رہنمائی میں پوشیدہ ہے۔ جب تک والدین احساسِ ذمہ داری کے ساتھ اپنے بچوں کی زندگیوں میں فعال کردار ادا نہیں کریں گے، حکومتی مہمات محض ایک رسم بن کر رہ جائیں گی۔ اولاد کی کردار سازی میں والدین کا اشتراک وہ بنیادی عنصر ہے جس سے اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکتا ہے۔
والدین کی بنیادی اور اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے رویے پر گہری نظر رکھیں اور ان میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بروقت محسوس کریں۔تعلیمی کارکردگی میں اچانک گراوٹ، دوستوں کے حلقوں میں مشکوک تبدیلیاں، گھروالوں اور سماج کے ساتھ بگڑتے تعلقات کے علاوہ ذہنی انتشار، الجھن اور وہم جیسی کیفیات وہ واضح علامات ہیں جن سے والدین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کے بچے منشیات کے دلدل میں دھنس چکے ہیں
والدین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کو منشیات کے مہلک اثرات سے آگاہ کریں اور انہیں اس سے دور رہنے کی تلقین کریں۔ شواہد اور تحقیقات یہ ثابت کرتی ہیں کہ والدین کی جانب سے دی گئی تربیت، نصیحت اور ان کی فعال شمولیت منشیات کے استعمال کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے، خاص طور پر جب یہ تربیت بچپن ہی سے شروع کی جائے۔والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق استوار کریں۔ وہ نوجوان جن میں خود اعتمادی کی کمی ہو یا جنہیں والدین کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا احساس ہو، اکثر ذہنی سکون کی تلاش میں منشیات کی طرف راغب ہو جاتے ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کے لیے ایک خوشگوار اور مثبت ماحول پیدا کرنا چاہئے۔ اپنے بچوں کو جاننے کے لیے وقت نکالیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، ان سے بات چیت کریں اور زندگی کے تجربات میں انہیں شامل کریں کیوں کہ محبت اور شفقت بچوں کے اعتماد کو بڑھاتی ہے جبکہ سختی اور لاپرواہی انہیں باغی بنا دیتی ہے۔
گھریلو مسائل جیسے کہ معاشی بدحالی، مسلسل لڑائی جھگڑوں کا مشاہدہ، والدین کا خود کسی نشے میں مبتلا ہونا، اور بچوں پر تشدد یا ان کی ضروریات سے غفلت جیسے محرکات بچوں کو منشیات کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ گھریلو ماحول بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے جھگڑالو اور بے سکون گھر بچوں کو ذہنی دباؤ اور منفی رجحانات کی طرف لے جاتا ہے جس سے وہ منشیات کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔گھر کے ماحول کو ایک پرامن اور محفوظ پناہ گاہ بنا کر رکھنا بچوں میں منشیات کی لت لگنے کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔والدین کے لیے منشیات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال کی روک تھام کے لیے واضح اصول بنانا اور ان کی خلاف ورزی پر سزا یا نتائج کا تعین کرنا ایک ضروری ہتھیار ہے۔ اگرچہ اصول بنانا اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم ان اصولوں کی خلاف ورزی پر طے شدہ سزا پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہے۔ اگر بچہ کوئی اصول توڑتا ہے، تو اس سے جڑے نتیجے یا سزا کو ہمیشہ نافذ کریں۔ بچے تبھی مؤثر طریقے سے سیکھتے ہیں جب ان کے سامنے واضح حدود ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ اصول توڑنے پر وہ نتائج لازمی برآمد ہوں گے جو پہلے سے طے شدہ ہیں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن گھروں میں والدین خود نشے جیسی کسی برائی میں مبتلا ہوں، وہاں بچوں کے بھٹک جانے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ والدین کو یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے پہلا رول ماڈل ہوتے ہیں۔بچوں کو منشیات جیسی لعنت سے دور رکھنے کے لیے والدین کو خود اس کردار کا جیتا جاگتا نمونہ اور عین عکس بننا ہوگا جو وہ آپ اپنے بچوں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیوں کہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل کی پیروی کرتے ہیں۔اکثر والدین بچوں کے لیے ایسے اہداف مقرر کر دیتے ہیں جو ان کی فطری صلاحیتوں سے میل نہیں کھاتے۔ جب بچے والدین کی بلند و بالا توقعات پر پورا نہیں اتر پاتے، تو وہ شدید ذہنی دباؤ اور احساسِ کمتری کا شکار ہو کر منشیات جیسی عارضی پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ والدین کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کے رجحانات اور اصل صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان سے وہی اُمیدیں وابستہ رکھیں جو ان کی صلاحیتوں کے عین مطابق ہوں۔بچوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا تربیت کا لازمی جز ہے۔ بچوں کو بلا ضرورت اور حد سے زیادہ پیسہ دینا انہیں بگاڑ سکتا ہے، کیونکہ بغیر محنت کے حاصل کیا گیا پیسہ اکثر غلط راستوں پر ہی خرچ ہوتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو وقت کی اہمیت اور پیسے کے استعمال کے حوالے سے جوابدہ بنائیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ اکثر والدین صرف اپنی اولاد کو بچانے کی فکر میں رہتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کی بربادی سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ یہ ‘خو غرضی’ اور ‘تنگ نظری معاشرتی برائیوں کو پنپنے کا موقع دیتی ہے۔ منشیات جیسی وبا کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہمیں انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی بہبود کے لیے متحد ہونا ہوگا۔
دین اور اخلاقیات وہ مضبوط حصار ہیں جو انسان کو برائی سے دور رکھتے ہیں۔ والدین پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کو دینی احکامات سے روشناس کرائیں، جہاں نشے کو نہ صرف حرام قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے تمام برائیوں کا جڑ کہا گیا ہے۔ جب بچے کے دل میں خدا کا خوف اور حلال و حرام کی تمیز ہوگی، تو وہ خود ہی اس ناسور سے دور رہے گا۔گھر میں منشیات کی جانچ یا طبی معائنہ کے ایک باقاعدہ نظام یا کلچر کو رواج دینا بچوں کو اس لت سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ انہیں اس بات کا اندیشہ رہے گا کہ جانچ یا معائنے کے دوران ان کی غلطی سے پردہ اٹھ سکتا ہے۔ نشے کی ابتدائی مراحل میں شناخت اور بروقت مداخلت نہ صرف منشیات پر انحصار کے خطرے کو روکتی ہے بلکہ ان دماغی اور نفسیاتی پیچیدگیوں سے بھی بچاتی ہے جو نشے کی لت کے ساتھ جنم لیتی ہیں۔
منشیات کی دلدل میں دھنسے ہوئے نوجوانوں کی بحالی اور واپسی کے لیے ضروری ہے کہ والدین ملامت کے بجائے ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ انہیں تنہا چھوڑنے کے بجائے ان کے اندر زندگی کے تئیں مثبت رجحانات کو بیدار کریں، انہیں تعمیری سرگرمیوں میں مصروف رکھیں اور ماہرِ نفسیات و طبی عملے کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
اس جان لیوا لت اور سماجی ناسور کی وجہ سے بے شمار والدین اپنے لختِ جگر کھو چکے ہیں، جبکہ کئی نوجوان جرائم کی تاریک دنیا کا حصہ بن کر اپنی زندگی برباد کر بیٹھے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ والدین احساسِ ذمہ داری کا ثبوت دے کر اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اپنا فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کریں۔