محمد بشارت
راجوری// ضلع راجوری کے بلاک بدھل نیو کی پنچایت حلقہ لریر کیول کے چھپرولہ، پھگولی، سیاری اور کیول علاقوں کے باشندگان کی ایک اہم میٹنگ سابق سرپنچ فاروق انقلابی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں ترن تا پھگولی سڑک کی عدم تکمیل کے دیرینہ مسئلہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔میٹنگ کے دوران مقررین نے کہا کہ پھلنی تا نرلو سڑک منصوبہ سال 2004 میں شروع کیا گیا تھا اور اس کا ارتھ ورک پھگولی تک مکمل بھی کیا گیا، تاہم دو دہائیاں گزر جانے کے باوجود سڑک آج تک مکمل نہیں ہو سکی۔ عوام کا کہنا تھا کہ سڑک کی عدم دستیابی کے باعث مقامی لوگوں کو آمد و رفت، صحت، تعلیم اور روزمرہ ضروریات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شرکاء نے حکومت اور متعلقہ محکمہ کی مبینہ بے توجہی پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متعدد بار اپیلیں اور مطالبات پیش کرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑک کی تکمیل نہ ہونے سے پورا علاقہ ترقیاتی عمل سے محروم ہو چکا ہے جبکہ مریضوں، طلبہ اور بزرگ شہریوں کو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فاروق انقلابی نے کہا کہ عوام نے طویل عرصہ تک صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، مگر حکام نے ان کے جائز مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کسی بھی علاقے کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ لیا گیا کہ 14 مئی کو ’راجوری چلو‘ احتجاجی مارچ منعقد کیا جائے گا، جو ترن سے شروع ہو کر ڈپٹی کمشنر آفس راجوری تک پہنچے گا۔ مقررین نے کہا کہ اس مارچ کے ذریعے حکومت اور انتظامیہ تک عوامی مطالبات مؤثر انداز میں پہنچائے جائیں گے۔عوام نے خبردار کیا کہ اگر اس بار بھی سڑک کی تکمیل کے حوالے سے کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور عوام اپنے حقوق کے حصول کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔