عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے منگل کے روز کہا کہ اگر مرکزی حکومت ریونیو کے نقصان کی بھرپائی کر دے، تو ریاست کی حکومت دو منٹ میں شراب پر پابندی لگا سکتی ہے۔شراب کی دکانوں کے حوالے سے جاری تنازع پر مسٹر عبداللہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر شراب نوشی نہیں کرتے، لیکن ان کا خیال ہے کہ جو لوگ پیتے ہیں، وہ مقامی سطح پر دستیابی نہ ہونے کی صورت میں اسے جموں و کشمیر سے باہر سے منگوا لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں شراب نہیں پیتا۔ جو پیتے ہیں، وہ پیئیں گے ہی۔ اگر انہیں یہاں سے نہیں ملے گی، تو وہ باہر سے لائیں گے اور جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں، ان سے پوچھیں کہ شراب پینے والے لوگ کون ہیں۔‘‘
سن 1977 کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رہنما نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم مورار جی دیسائی نے ان کے والد اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ سے ریاست میں شراب کی فروخت بند کرنے کو کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرے والد نے ان سے کہا تھا کہ اگر مرکز ہمیں وہ ریونیو دے دے جو ہم اس سے کماتے ہیں، تو ہم اسے بند کر دیں گے۔ اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے صدر نے دلیل دی کہ اس مسئلے کا مخالفین کی جانب سے سیاسی رنگ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب پہلے شراب کی دکانیں کھولی گئی تھیں، تب احتجاج کیوں نہیں ہوا تھا؟ انہوں نے کہا کہ’’ہم نے شراب کی دکانیں نہیں کھولیں۔ جنہوں نے کھولیں، تب کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟ ہر گاؤں میں دکانیں کھل رہی تھیں۔
اپوزیشن جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر نشانہ سادھتے ہوئے فاروق عبداللہ نے الزام لگایا کہ وہ صرف حکومت پر حملہ کرنے کے لیے اس مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ ہر بات پر ہماری تنقید کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ ہم ان سے ڈرتے ہیں، لیکن ہم انہیں اس طرح ہرائیں گے کہ وہ یاد رکھیں گے۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے شراب نوشی سے متعلق دیے گئے بیانات کے بعد جموں و کشمیر میں سیاسی تنازع چھڑ گیا تھا۔ پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی نے ان پر مسلم اکثریتی علاقے کی حساسیت کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ریونیو نقصان کی بھرپائی ہو تو دو منٹ میں شراب پر پابندی لگا دیں گے:ڈاکٹرفاروق عبداللہ