رئیس یاسین
جموں و کشمیر کا تعلیمی نظام کئی برسوں سے سنگین مسائل کا شکار ہےاور اس زوال کی ایک بڑی وجہ حکومت کی غلط بھرتی پالیسیاں ہیں۔ انہی پالیسیوں میں RET (رہبرِ تعلیم) اسکیم سب سے زیادہ متنازع سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ اس اسکیم کو دیہی علاقوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے مقصد سے متعارف کروایا گیا تھا، لیکن اس کے طویل مدتی اثرات نے نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کیا بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کو بھی نقصان پہنچایا۔
RET پالیسی کے تحت بہت سے ایسے امیدواروں کو بطور استاد بھرتی کیا گیا جن کے پاس پیشہ ورانہ تدریسی قابلیت، جیسے B.Ed، موجود نہیں تھی۔ کئی معاملات میں تقرری میرٹ اور صلاحیت کے بجائے مقامی عوامل کی بنیاد پر کی گئی۔ تدریس صرف کلاس روم میں موجود رہنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے پیشہ ورانہ تربیت، مضمون پر عبور، مؤثر اندازِ گفتگو اور نئی نسل کی کردار سازی کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ جب غیر تربیت یافتہ یا کم صلاحیت رکھنے والے افراد کو نظامِ تعلیم کا حصہ بنایا جاتا ہے تو تعلیمی معیار کا گرنا لازمی ہو جاتا ہے۔
مسئلہ صرف ابتدائی بھرتیوں تک محدود نہیں رہا۔ بعد میں بہت سے RET اساتذہ نے اپنی گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور B.Ed جیسی ڈگریاں فاصلاتی تعلیم کے ذریعے، خصوصاً IGNOU جیسے اداروں سے حاصل کیں۔ اگرچہ فاصلاتی تعلیم کی اپنی اہمیت ہے، لیکن یہ ہمیشہ ریگولر تعلیم جیسا علمی ماحول، تحقیقی exposure، اور مسابقتی تربیت فراہم نہیں کر پاتی۔ دوسری طرف کشمیر کے ہزاروں نوجوانوں نے ریگولر انداز میں PG، B.Ed، M.Ed، NET، SET، JRF اور یہاں تک کہ PhD جیسی اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں، مگر وہ آج بھی بے روزگار ہیں۔
یہ صورتحال نظام کے اندر ایک دردناک تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک طرف انتہائی تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ نوجوان معمولی کنٹریکچول آسامیوں کے لیے بھی دربدر ہیں، حتیٰ کہ انہیں ہائر سیکنڈری اور کالجوں میں مواقع بھی نہیں ملتے۔ دوسری طرف کم صلاحیت رکھنے والے افراد مستقل نوکریاں حاصل کر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں تک پہنچ گئے، حالانکہ ان کے پاس مضبوط تعلیمی اور تدریسی بنیاد موجود نہیں تھی۔
اس عدم توازن کے نتائج نہایت خطرناک ہیں۔ اسکولوں اور ہائر سیکنڈری اداروں میں طلبہ کو معیاری تعلیم نہیں مل پاتی کیونکہ نظام ہمیشہ میرٹ اور قابلیت کو ترجیح نہیں دیتا۔ جب طلبہ کی بنیاد کمزور ہو تو پورا معاشرہ فکری اور علمی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ اسی دوران اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان برسوں کی محنت اور اعلیٰ ڈگریوں کے باوجود بے روزگاری، مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔
کسی بھی تعلیمی نظام کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب میرٹ، قابلیت اور پیشہ ورانہ مہارت کو اہمیت دی جائے۔ بھرتی کی پالیسیاں اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے ہونی چاہئیں، نہ کہ انہیں کمزور کرنے کے لیے۔ حکومت کو چاہیے کہ شفاف اور میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنائے، جہاں پیشہ ورانہ قابلیت اور تدریسی مہارت کو اولین ترجیح حاصل ہو۔ ان نوجوانوں کو بھی مساوی مواقع دیے جانے چاہئیں جنہوں نے برسوں محنت کر کے اعلیٰ تعلیمی معیار حاصل کیا ہے۔اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو اس کے منفی اثرات آنے والی نسلوں تک پہنچیں گے۔ ناقص بھرتی پالیسیاں نہ صرف تعلیم یافتہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کرتی ہیں بلکہ طلبہ اور پورے معاشرے کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔ وقت کی اہم ضرورت ایک ایسے تعلیمی نظام کی ہے جو انصاف، میرٹ اور معیاری تعلیم کی بنیاد پر قائم ہو تاکہ طلبہ، اساتذہ اور تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔
��