عظمیٰ ویب ڈیسک
بڈگام/نیشنل کانفرنس کے ترجمان اور زڈی بل کے رکن اسمبلی تنویر صادق نے پیر کے روز پی ڈی پی رہنما التجا مفتی کے شراب بندی سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج شراب پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں، انہیں پہلے اپنی جماعت کے ماضی کے مؤقف کو یاد کرنا چاہیے۔بڈگام میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تنویر صادق نے سابق پی ڈی پی حکومت کے دوران اُس وقت کے وزیر خزانہ حسیب درابو کے اسمبلی میں دیے گئے بیان کا حوالہ دیا، جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ شراب پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہاآج جو لوگ شراب بندی کی بات کر رہے ہیں، انہی کے وزیر خزانہ نے اسمبلی میں صاف کہا تھا کہ شراب پر پابندی نہیں لگائی جائے گی۔ ان کے بعض رہنماؤں نے خود بھی شراب نوشی کے بارے میں غیر سنجیدہ انداز میں بات کی، اور اب وہ دوسروں کو نصیحت کر رہے ہیں۔تنویر صادق نے کہا کہ کوئی بھی مسلمان شراب نوشی کی حمایت نہیں کرتا اور نیشنل کانفرنس شراب نوشی کے سخت خلاف ہے۔
انہوں نے کہاہم مسلمان ہیں، اور کوئی بھی مسلمان شراب نوشی کی حمایت نہیں کرتا۔ نیشنل کانفرنس شراب نوشی اور اس کی حوصلہ افزائی کے مکمل خلاف ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ یہاں شراب کا استعمال ہو۔ان کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب التجا مفتی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اس مسئلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بہار اور گجرات جیسی ریاستوں میں شراب پر پابندی نافذ ہو سکتی ہے تو جموں و کشمیر میں بھی اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی مذہب شراب نوشی کی اجازت نہیں دیتا۔
شراب بندی پر لیکچر دینے سے پہلے اپنے ماضی کو یاد کرے پی ڈی پی :تنویر صادق