عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15مئی سے پہلے اضافہ کیے جانے کا امکان ہے، کیونکہ سرکاری آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کے باعث بھاری مالی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 70 امریکی ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 126 امریکی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں آئل کمپنیاں ہر ماہ تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے کے نقصان سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اس بڑے اضافے کے باوجود بھارت میں اب تک پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمتیں زیادہ تر مستحکم رکھی گئی ہیں، کیونکہ حکومت اور آئل کمپنیاں اس بوجھ کا بڑا حصہ خود برداشت کر رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، صارفین کو اچانک مہنگائی سے بچانے کے لیے حکومت اور آئل کمپنیاں پٹرول پر فی لیٹر تقریباً 24 روپے تک کا بوجھ خود اٹھا رہی ہیں۔اگر قیمتوں میں نظرثانی کی منظوری دی جاتی ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 4 سے 5 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 40 سے 50 روپے تک اضافہ متوقع ہے۔
یہ تقریباً چار برسوں میں ایندھن کی قیمتوں میں پہلی بڑی تبدیلی ہوگی، کیونکہ 2022 سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں زیادہ تر بغیر تبدیلی کے برقرار ہیں۔رپورٹ کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث عالمی تیل سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کا اہم راستہ ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔
بھارت نے روس، امریکہ اور مغربی افریقہ جیسے ممالک سے خام تیل کی درآمدات بڑھا کر، ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کرکے اور پٹرول و ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں کمی لا کر ایندھن کی قلت اور راشن بندی سے بچنے کی کوشش کی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور عوام پر مہنگائی کے اثرات اور آئل کمپنیوں پر بڑھتے مالی دباؤ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے بعد حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔
15مئی سے پہلے پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں 5روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع