معلومات
راقف مخدومی
ایمانداری سے بات کروں تو آج کل انٹرنیٹ گندگی سے بھرا پڑا ہے۔ خاص طور پر انسٹاگرام جو بالکل ہی فحش اور بے ہودہ مواد سے لبریز ہے۔ لوگ آج کل صرف ریچ، ویوز، شیئرز، فالوورز اور لائکس کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ لیکن اس ساری گندگی کے درمیان بھی کبھی کبھی کوئی ایسا پوسٹ مل جاتا ہے جو آنکھوں میں آنسو لا دے اور چہرے پر مسکراہٹ بھی بکھیر دے۔ میں جب اس گندگی میں اسکرول کر رہا تھا تو ایک پوسٹ میرے سامنے آیا، جس نے مجھے رلا بھی دیا اور مسکرا بھی دیا۔ وہ پوسٹ ایک ایسے لڑکے کے بارے میں تھا جو ایک بیماری سے نہیں بلکہ حادثے میں فوت ہوا، مگر اس نے دوسروں کو زندگی دے دی۔ جی ہاں، آپ نے بالکل درست پڑھا۔ وہ مر گیا مگر اس نے دوسروں کو زندگی بخش دی۔ آج کل ہم ایسی باتیں کم ہی سنتے ہیں کیونکہ لوگ صرف تفریح چاہتے ہیں، زندگی میں کچھ اضافہ کرنے والی بات نہیں۔
کرش، ایک 17 سالہ لڑکا، جو اپنی سکٹر پر ٹیوشن جانے کے راستے میں ایک حادثے کا شکار ہوا، اس نے چھ لوگوں کی جانیں بچا دیں۔ جبکہ خود وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
یہ ہے کرش کی کہانی کہ وہ کیسے چھ لوگوں کی جانیں بچانے میں کامیاب ہوا۔سب کچھ اس وقت شروع ہوا جب کرش کو ہسپتال پہنچایا گیا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ ’’اسے بچایا نہیں جا سکتا۔‘‘ اس کے بعد جو ہوا ،اُس نے کرش کو چھ مختلف روحوں میں زندہ کر دیا۔31 مارچ کو احمد آباد کے نوجوان کرش اکبری سکٹر پر ٹیوشن جا رہے تھے کہ ایک نیل گائے، جو ایک ٹرک کے ہارن کی آواز سے گھبرا گئی تھی، اچانک سڑک پر آ گئی اور سکٹر سے ٹکرا گئی۔کرش کو سر اور چہرے پر شدید چوٹیں آئیں اور انہیں فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں کی پوری کوشش کے باوجود انہیں برین ڈیڈ قرار دے دیا گیا۔
اس ناقابلِ تصور غم کے درمیان بھی ان کے خاندان نے ایک زندگی بدل دینے والا فیصلہ کیا، — عضو donation کا۔ان کے دل، جگر، گردے، پھیپھڑے، ہاتھ اور کارنیا (آنکھ کی پتلی) عطیہ کیے گئے، جنہوں نے چھ مریضوں کو زندگی کا دوسرا موقع دیا۔’’جب کرش کے آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں، اسی وقت ان کا دل ایک 13 سالہ لڑکے میں منتقل کیا جا رہا تھا جو بھاونگر سے تھا۔‘‘ — کرش کے والد نے کہا،’’اُن کے ہاتھ ایک نوجوان کو فرید آباد میں دیے گئے، اُن کے گردوں نے دو نوجوانوں کی جانیں بچائیں، ان کی کارنیا نے دو لوگوں کی بینائی لوٹائی اور ان کے پھیپھڑوں نے ایک بچے کو دوبارہ سانس لینے کا موقع دیا۔‘‘کرش کے والد نے مزید کہا کہ ان کا خاندان امید کرتا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ مزید لوگوں کو عضو عطیہ کرنے کی طرف راغب کرے گا۔
’’اس نے چھ خاندانوں کو اسی غم سے بچا لیا جو ہم محسوس کر رہے ہیں۔ وہ چلا نہیں گیا، وہ ایک بچے کی دھڑکن اور ایک اجنبی کی بینائی میں زندہ ہے۔‘‘ — کرش کی خالہ نے کہا،’’
ان کے والدین کا ایک بہادر فیصلہ اب چھ لوگوں کی زندگی کا سبب بن گیا ہے۔ کرش کا دل اب اس کے جسم میں نہیں دھڑکتا، مگر اب وہ ایک 13 سالہ بچے کو زندہ رکھنے میں مدد کر رہا ہے۔ اسی طرح اس کے گردے اب دو لوگوں کی وجہ سے ،وہ زندہ ہیں۔ کرش کا جسم راکھ بن گیا مگر وہ چھ دوسرے جسموں میں زندہ ہے۔‘‘
ان سطروں کو لکھتے ہوئے میرےرونگٹھے کھڑے ہو رہے ہیں۔ سوچئے ،کرش کے والدین کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب ان کی نگاہیں ان لوگوں پر پڑتی ہیں جو آج ان کے بیٹے کی وجہ سے زندہ ہیں۔ غم اور خوشی کے ملے جلے جذبات ان کے دل میں ضرور ہوں گے۔ کرش کے والدین نے بے شک وہ کام کیا، جو بہت لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ ان کے زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ رہا ہوگا، مگر انہوں نے یہ فیصلہ لیا اور ثابت کیا کہ کبھی کبھی جذبات کو ایک طرف رکھ کر سوچنا پڑتا ہے۔
عضوِ عطیہ کی تاریخ کا مختصر جائزہ:
پہلا کامیاب طویل مدتی انسانی عضوِ ٹرانسپلانٹ ایک گردے کا تھا جو 23 دسمبر 1954کو بوسٹن میں ڈاکٹر جوزف مرے اور ان کی ٹیم نے کیا۔ یہ کامیاب ہوا کیونکہ یہ ایک جڑواں بھائیوں (رونالڈ اور رچرڈ ہیرک) کے درمیان کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے مدافعتی نظام نے ردِ عمل نہیں دیا۔
پہلا کامیاب جگر کا ٹرانسپلانٹ: 1963
پہلا کامیاب انسانی دل کا ٹرانسپلانٹ 3 دسمبر 1967، ڈاکٹر کرسچن برنارڈ نے جنوبی افریقہ میں کیا۔
پہلا کارنیا کا ٹرانسپلانٹ: 1906
ہندوستان میں پہلا کامیاب ٹرانسپلانٹ 2 فروری 1971 کو کرسچن میڈیکل کالج (سی ایم سی) ویلور میں ڈاکٹر موہن راؤ اور ڈاکٹر کے وی جونھی کی ٹیم نے کیا۔
ہندوستان نے دنیا کے پہلے کامیاب گردے کے ٹرانسپلانٹ کے 17 سال بعد اپنا پہلا کامیاب گردے کا ٹرانسپلانٹ کیا۔
عضوِ عطیہ کے بارے میں اہم باتیں:
دل کا ڈونر تلاش کرنا اکثر بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ دل کا ڈونر مر جاتا ہے۔ دل انسانی جسم کا ایک انتہائی اہم عضو ہے۔ دیگر اعضاء جیسے دل، جگر، پھیپھڑے، لبلبہ (پینکریاس)، آنتیں اور مختلف ٹشوز (کارنیا، جلد، ہڈی، دل کی والوز، خون کی نالیاں) لوگوں کی جانیں بچانے یا ان کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عطیہ کیے جا سکتے ہیں۔
برین ڈیتھ کے بعد عطیہ کیے جانے والے اعضاء:
� دل 4 سے 6 گھنٹوں کے اندر ٹرانسپلانٹ کرنا پڑتا ہے۔� گردے 24 سے 48 گھنٹوں تک محفوظ رکھے جا سکتے ہیں۔� جگر: ایک جگر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دو لوگوں کو دیا جا سکتا ہے۔� پھیپھڑے: ایک یا دونوں پھیپھڑے۔� لبلبہ: ذیابیطس کے مریضوں کے لیے۔� آنتیں: نایاب کیسز میں۔
کارڈیاک ڈیتھ کے بعد عطیہ کیے جانے والے ٹشوز:
� کارنیا/آنکھیں: بینائی بحال کرتی ہیں۔� جلد: جلنے والوں کے لیے۔� ہڈی/کارٹلیج: تعمیرِ نو کی سرجری میں۔� دل کی والوز: پیدائشی دل کی خرابیوں میں۔
( مضمون نگار ایک قانون کے طالب علم اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں)
[email protected]