عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے جمعہ کے روز الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں حدبندی کا عمل صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے انجام دیا گیا۔
عمر عبداللہ نے سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے ان کی حدبندی کی وجہ سے نقصان اٹھایا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ حدبندی کس طرح کی گئی۔ یہ صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی تھی، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے بی جے پی کے سیاسی عزائم واضح ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح بی جے پی کی نیت سامنے آتی ہے۔
دیگر ریاستوں کی سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایکناتھ شنڈے بی جے پی کی مدد سے الگ ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں قائد حزب اختلاف وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالنے کیلئے بے صبر دکھائی دے رہے ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ قائد حزب اختلاف وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے کیلئے بے چین ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس میں کسی قسم کی اندرونی پھوٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس میں کوئی اکناتھ شندے نہیں ہے، پارٹی کے تمام ارکان اسمبلی مضبوطی کے ساتھ جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کابینہ میں توسیع ریاستی درجے کی عدم بحالی کے سبب تاخیر کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں توسیع خوف کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے رکی ہوئی ہے کہ جموں و کشمیر کو ابھی تک ریاستی درجہ واپس نہیں دیا گیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ جب تک بی جے پی حکومت نہیں بناتی، جموں و کشمیر کو نہ صحیح طریقے سے چلنے دیا جائے گا اور نہ ہی ریاستی درجہ بحال کیا جائے گا۔
عمر عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاستی درجے کے معاملے پر چلائی جا رہی سیاسی بیانیہ کو سمجھیں اور اپوزیشن پر بلیک میل سیاست کرنے کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دینے والے لوگ بھی یہ یاد رکھیں کہ قائد حزب اختلاف اور ان کی جماعت بلیک میل سیاست کر رہی ہے اور لوگوں کو ریاستی درجے کے نام پر دھمکایا جا رہا ہے۔
آئینی دفعات اور عدالتِ عظمیٰ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انتخابات کے بعد سب سے بڑی جماعت کو حکومت بنانے کی دعوت دی جانی چاہیے اور ایوان میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی 13 روزہ حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی حکومت بنانے کی دعوت دی گئی تھی، تاہم اکثریت ثابت نہ ہونے پر انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ جمہوری عمل کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور جس بھی لیڈر کو حکومت بنانے کی دعوت دی جائے، اسے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کا موقع ملنا چاہیے، بصورت دیگر استعفیٰ دینا چاہیے۔
حدبندی صرف بی جے پی اور اس کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچانے کیلئے کی گئی: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ