فکرو فہم
جی کیو کامران
موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات پہلے ہی کرہِ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں، ایسے میں ماہرینِ موسمیات اور سائنسدانوں نے ایک ایسے ہولناک موسمی رجحان کی پیش گوئی کی ہے جو دنیا کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔سپر ایل نینو، 2026 کے وسط سے رونما ہونے والا ایسا موسمی عمل ہے،جو نہ صرف عالمی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کا سبب بنے گا بلکہ بارشوں کے نظام کو بھی درہم برہم کرسکتا ہے یہ محض ایک موسمی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک ایسا چیلنج ہے جو ہیٹ ویوز (گرمی کی شدید لہریں) اور خشک سالی جیسے سنگین خطرات کو جنم دے کر عالمی زراعت، آبی ذخائر اور انسانی صحت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یورپی مراکز برائے وسط مدتی موسمیاتی پیشگوئی (ECMWF)، قومی مراکز برائے ماحولیاتی پیشگوئی (NCEP) اور کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس (C3S) کی رپورٹیں اس بات کی قوی نشاندہی کر رہی ہیں کہ 2026 کے وسط میں ایک طاقتور ایل نینو کے پیدا ہونے کا شدید امکان ہے
بھارت کے کئی علاقے پہلے ہی گرمی کی غیر معمولی اور ہولناک تمازت (Heatwave) کی لپیٹ میں آچکے ہیں، جہاں اپریل 2026 کے آغاز سے ہی درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اتر پردیش اور راجستھان میں پارہ 43 ڈگری سینٹی گریڈ کو چھو رہا ہے، جبکہ ناگپور، بھوپال اور بھوبنیشور جیسے شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے کئی حصوں میں درجہ حرارت 40سے 50ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان گردش کر رہا ہے۔ماہرین کا انتباہ ہے کہ گرمی کی یہ شدت جون تک تمام سابقہ ریکارڈ توڑ سکتی ہے۔اس صورتحال کے پس منظر میں، عالمی سطح پر سائنسدان بحرِ الکاہل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لے رہے ہیں، جہاں ‘ایل نینواب ایک خطرناک اور طاقتور مرحلے ‘سپر ایل نینو، میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ مختلف موسمیاتی ماڈلز یہ چونکا دینے والے اشارے دے رہے ہیں کہ 2026کا یہ موسمی رجحان گزشتہ ایک صدی کے طاقتور واقعات میں شامل ہو سکتا ہے، جس کی شدت عالمی موسم کے توازن کو یکسر درہم برہم کر سکتی ہے۔
ایل نینو (El Niño) ایک ایسے سائیکل کی مانند ہے جو باقاعدہ نہیں ہے بلکہ کبھی دو سال، کبھی پانچ سال اور کبھی سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور 6 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران دنیا بھر میں موسم کا توازن بگڑ جاتا ہے، بارشوں میں کمی آتی ہے اور جنگلات میں آگ لگنے (Bushfires) کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی خشک حالات جنوب مشرقی ایشیا اور بھارت تک پھیل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں مون سون کمزور پڑ جاتا ہے اور شدید ترین تمازت کی لہریں (Heatwaves) جنم لیتی ہیں۔
نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن(NOAA)نے اپریل 2026 میں اپنی تازہ ترین ایڈوائزری جاری کی ہے، جس کے مطابق مئی اور جولائی 2026کے درمیان ایل نینو بننے کے امکانات 61فیصد ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہےجب بھارت کو سب سے زیادہ بارش کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ یہاں کی فصلیں زیادہ تر مون سون پر منحصر ہیں۔ معمول سے کم مون سون کا مطلب ہے غذائی پیداوار میں کمی، جس کا نتیجہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ‘سپر ایل نینو،کے دوران غذائی مہنگائی (Food Inflation) میں 9 فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے، جبکہ بھارت میں مہنگائی کی شرح پہلے ہی بلند ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہیٹ ویو صرف دن کے وقت خطرناک ہوتی ہے، لیکن ہیٹ ویو صرف دن میں ہی جان لیوا نہیں ہوتی۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال وہ ہے جب رات کے وقت انسانی جسم ٹھنڈا نہیں ہو پاتا۔ یہ کیفیت ہمارے جسم کو دوبارہ بحال (Recover) ہونے سے روکتی ہے، جس سے ‘ہیٹ اسٹروک کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، 2024 میں دہلی میں دن کے درجہ حرارت میں صرف 1.8 ڈگری سیلسیئس کا اضافہ ہوا تھا، لیکن رات کے درجہ حرارت میں 4.4 ڈگری کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مئی اور جون 2024 کے دوران، مسلسل 24 راتوں تک درجہ حرارت 30 ڈگری سیلسیئس سے اوپر رہا۔
ایل نینو جب ایک ’’سپر ایل نینو‘‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے، تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو جاتے ہیں، جو موسمی نظام کو درہم برہم اور حالات میں مزید سنگینی پیدا کر دیتا ہے
بھارت میں ایل نینو کا مطلب طویل ہیٹ ویوز (شدید گرمی کی لہریں)، غیر یقینی بارشیں، بعض علاقوں میں پانی کی قلت اور دیگر جگہوں پر سیلاب ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان تبدیلیوں پر اکثر زراعت اور معیشت کے حوالے سے بات کی جاتی ہے، لیکن ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے صحت پر اثرات بھی اتنے ہی سنگین ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) اور ہیٹ اسٹروک سے لے کر سانس کی بیماریوں اور مچھروں سے پھیلنے والے امراض تک، سپر ایل نینو کے اثرات افراد اور صحت کے نظام دونوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ کمزور طبقات، بشمول بچے، بزرگ اور دائمی امراض میں مبتلا افراد، خاص طور پر خطرے میں آسکتے ہیں شدید گرمی جسم میں نمکیات، معدنیات اور پانی کی کمی پیدا کرتی ہے جو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ فضائی آلودگی کو مزید بدتر بنا دیتا ہے، جس سے دمہ (Asthma) اور سانس کے دیگر مسائل بڑھ جاتے ہیں۔پانی کی قلت یا سیلابی صورتحال کی وجہ سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور مچھروں سے پھیلنے والی بیماریاں (ڈینگی، ملیریا) سر اٹھا سکتی ہیں۔ شدید گرمی اور نیند کی کمی (رات کے بڑھتے درجہ حرارت کی وجہ سے) چڑچڑے پن اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتی ہے۔موجودہ اور متوقع موسمی حالات کے پیشِ نظر، بھارت کے محکمہ موسمیات (IMD) نے ہیٹ ویو سے بچاؤ کی جامع ہدایات جاری کی ہیں اور شہریوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان ہدایات میں درج ذیل نکات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
(۱)براہِ راست دھوپ سے گریز:خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں جب تپش عروج پر ہوتی ہے، زیادہ دیر تک دھوپ میں رہنے سے بچیں۔(۲)پانی کا کثرت سے استعمال: جسم میں پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے مناسب مقدار میں پانی اور دیگر صحت بخش مشروبات کا استعمال کرتے رہیں۔(۳)لباس کا انتخاب: ہلکے رنگ کے اور ہوا دار (سوتی) کپڑے پہنیں۔(۴)مشقت والے کاموں سے پرہیز: درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کی صورت میں باہر کی سخت مشقت والی سرگرمیوں سے کنارہ کشی اختیار کریں۔(۵)جسم میں نمکیات اور معدنیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے او،آر،ایس (ORS) کا محلول استعمال کریں (۶) بچوں، بزرگوں اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد کا خاص خیال رکھیں۔
شہروں میں درخت کاٹنے اور کھلی جگہوں پر کنکریٹ کے ڈھانچے کھڑا کر نے سے صورتحال مزید بگڑ رہی ہے کیونکہ کنکریٹ کے ڈھانچے دن بھر تپش جذب کرتے ہیں اور رات کو اسے خارج کرتے ہیں (جس سے راتیں بھی انتہائی گرم ہو جاتی ہیں)۔ لوگ گرمی سے بچنے کے لیے اور گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اے سی (AC) کا استعمال کرتے ہیں، مگر یہی اے سی پیچھے سے گرم ہؤا نکالتے ہیں جس سے گرد و نواح کے ماحول میں مزید گرمی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا خمیازہ ان غریبوں کو بھگتنا پڑتا ہے جو اے سی خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔بھارت میں تقریباً 38کروڑ لوگ ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جہاں انہیں براہِ راست تپتی دھوپ میں کام کرنا پڑتا ہے، مثلاً رکشہ چلانا ، تعمیراتی جگہوں پر پتھر توڑنا، سڑکوں پر سامان بیچنا اور پارسل پہنچانا وغیرہ۔ دہلی کے 400مزدوروں پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، درجہ حرارت میں صرف 1ڈگری اضافے سے ان کی آمدنی میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی، جبکہ ہیٹ ویو کے دوران ادویات، پانی اور دیگر اخراجات کی وجہ سے ان کی آمدنی 40 فیصد تک گر گئی۔ ایک تخمینے کے مطابق 2024 میں ہیٹ ویو کی وجہ سے بھارت کو 194 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ بھارت میں 12قدرتی آفات کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا ہے جن میں ‘کولڈ ویو (سردی کی لہر) تو شامل ہے مگر افسوس کہ ‘ہیٹ ویو شامل نہیں۔ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ لوگ ہیٹ ویو سے مرتے ہیں اور ان میں سے ہر پانچواں شخص بھارتی ہوتا ہے۔
موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف نئے درخت لگانا ضروری ہے بلکہ پرانے درختوں کو کاٹنے سے بچانا اس بھی کہیں زیادہ ضروری ہے۔ بھارت میں جنگلات کی کٹائی بڑے پیمانے پر جاری ہے، سڑکوں، ریلوے، ڈیموں اور کان کنی کے لیے درخت قربان کیے جا رہے ہیں جو درجہ حرارت میں اضافے کی بڑی وجہ ہے۔ ہمیں کوئلے جیسے آلودہ ذرائع کے بجائے شمسی توانائی (سولر پینل) جیسے ماحول دوست اور سستے ذرائع اپنانے ہوں گے۔
ہمیں ابھی سے تیاریاں کرنی ہوں گی کیونکہ یہ ایل نینو آخری نہیں ہو گا۔ بلکہ یہ ہر 3سے 4سال بعد واپس آئے گا اور ہر بار زمین کے درجہ حرارت میں پہلے سے زیادہ اضافہ کرسکتا ہے۔ اگر ہم نے کاربن کے اخراج کو کم نہ کیا اور جنگلات کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا تو آنے والے وقت میں ہر سال ‘ایل نینو، جیسا لگے گا۔ سب سے ہولناک بات یہ ہے کہ 2026 میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے ‘نارمل گرمی کا تصور ہی بدل جائے گا۔ وہ کبھی ان گرمیوں کو نہیں جان پائیں گے جو ہم نے اپنے بچپن میں 30سے 35ڈگری میں دیکھیں۔ ان کے لیے موسمِ گرما کا مطلب ہمیشہ 40سے 45ڈگری ہی ہوگا۔
خوراک کے پیداوار پر ایل نینو کے اثرات سےبچنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم زراعت میں ایسی فصلوں کو رواج دیں جو خشک سالی کے خلاف ڈھال بن سکیں۔ ہمیں پانی کی بوند بوند کو محفوظ کرنے کے لیے اپنے آبی ذخائر اور تقسیم کاری کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا، جبکہ آفات سے نمٹنے والے اداروں کو اتنا متحرک کرنا ہوگا کہ خطرے کی دستک سے پہلے ہی حفاظتی حصار مکمل کر لیا جائے۔ ہمیں زمین کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ پانی جذب کرنے اور ماحول کو معتدل رکھنے کی اپنی فطری صلاحیت دوبارہ حاصل کر سکے۔ زمین پر خوشگوار زندگی، انسان کی بقا اور پائیدار ترقی صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم اپنی خود غرضی اور مادیت پرستی کے خول سے باہر نکل کر ایسے مستقبل کی بنیاد رکھیں جو نہ صرف انسانوں کے لیے بلکہ کائنات کی ہر مخلوق کے لیے امن، توازن اور زندگی کی نوید ثابت ہو۔