اسد مرزا
مغربی ایشیا کا دفاعی اور سلامتی کا ڈھانچہ گزشتہ کئی دہائیوں میں اپنی سب سے بڑی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ خطہ واضح اور جامد رقابتوں سے عبارت تھا —، عرب بمقابلہ ایران، ریاستی بمقابلہ غیر ریاستی عناصر اور امریکی سلامتی ضمانتوں کے مقابل ایرانی مزاحمتی حکمتِ عملی۔ مگر اب یہ پرانا فریم ورک تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور اس کی جگہ ایک زیادہ پیچیدہ، متحرک اور کثیرالجہتی نظام قائم ہورہا ہے، جہاں اتحاد، شراکتیں، فوجی جدید کاری اور سفارتی توازن نئی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔
اس تبدیلی کے مرکز میں حالیہ ایران۔اسرائیل۔امریکہ کشیدگی سے سامنے آنے والا ایک بنیادی سبق ہے۔ سلامتی اب بیرونی طاقتوں کے سپرد نہیں کی جا سکتی۔ یہی احساس سعودی عرب سے قطر، متحدہ عرب امارات سے اردن تک تقریباً تمام علاقائی طاقتوں کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی، فوجی تیاری اور سفارتی توازن پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔
سعودی عرب اس بدلتے منظرنامے میں ایک کلیدی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ ریاض کی دفاعی حکمتِ عملی اب دوہری سوچ پر مبنی ہے، — ایک طرف فوجی صلاحیتوں میں اضافہ، دوسری طرف محتاط سفارتی کشیدگی میں کمی۔ سعودی عرب میزائل دفاع، مقامی دفاعی پیداوار اور روایتی امریکی انحصار سے ہٹ کر نئے تزویراتی شراکت داروں کی تلاش میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ محدود سفارتی روابط بھی استوار رکھے ہوئے ہے۔ یہ محاذ آرائی سے’’منظم مقابلے‘‘ کی جانب ایک اہم تبدیلی ہے۔
متحدہ عرب امارات نے اس سے بھی آگے بڑھ کر’’تزویراتی خودمختاری‘‘ کا ماڈل اپنایا ہے۔ ابوظہبی خود کو صرف خلیجی سلامتی نظام کا حصہ نہیں بلکہ ایک آزاد دفاعی طاقت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔ جدید ہتھیاروں، سائبر صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت اور متنوع عالمی شراکت داریوں کے ذریعے اس کی سلامتی و دفاعی حکمت عملی وسوچ مقامی سے بڑھ کر عالمی دائرے تک پھیل چکی ہے۔ تاہم حالیہ علاقائی کشیدگی نے یہ بھی ظاہر کر دیا ہے کہ جدید اور طاقتور ریاستیں بھی بنیادی تنصیبات، بندرگاہوں اور ڈیجیٹل نظاموں پر حملوں کے خطرات سے محفوظ نہیں ہیں۔
قطر ایک اور ابھرتے رجحان کی نمائندگی کرتا ہے — یعنی چھوٹی ریاستوں کی لچکدار سلامتی۔ سفارت کاری، توانائی کی اہمیت اور اہم فوجی اڈوں کی میزبانی کے ذریعے قطر نے ایسا توازن قائم رکھا ہے جو اسے کسی مخصوص بلاک کی سیاست میں جکڑنے کے بجائے لچکدار بناتا ہے۔ یہ طرزِ عمل اب خلیجی خطے میں زیادہ عام ہوتا جا رہا ہے۔
عمان اس پورے منظرنامے میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ اپنی غیرجانبداری اور ثالثی کے کردار کے باعث مسقط بڑھتی ہوئی علاقائی تقسیم میں ایک تزویراتی اثاثہ بن چکا ہے۔ عمان کی سفارتی ثالثی، بحری استحکام اور خاموش سفارت کاری اسے اس کے حجم سے کہیں زیادہ اہمیت دیتی ہے۔
دوسری طرف اردن’’ایک فرنٹ لائن بفر اسٹیٹ‘‘بنتا جا رہا ہے۔ شام کی بدامنی، اسرائیلی سرحدی تناؤ اور علاقائی عدم استحکام کے دباؤ نے عمان کی سلامتی پالیسی کو زیادہ دفاعی بنا دیا ہے۔ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور فضائی دفاع میں سرمایہ کاری اس نئی سوچ کا حصہ ہے۔
تاہم ایران بدستور خطے کی سلامتی کی نئی تشکیل کے مرکز میں ہے۔ اقتصادی پابندیوں، فوجی دباؤ اور داخلی مسائل کے باوجود تہران نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اب بھی میزائل قوت، بحری قوت ، پراکسی نیٹ ورکس اور سائبر صلاحیتوں کے ذریعے تزویراتی اثراندازی کی طاقت رکھتا ہے۔ تاہم ایران کی سلامتی سوچ میں بھی تبدیلی آ رہی ہے، خاص طور پر اس ادراک کے بعد کہ شام اور لبنان میں پراکسی ڈھانچے اپنی پرانی تاثیر اور کارکردگی کھو رہے ہیں۔
یہ تبدیلی لبنان میں بھی نمایاں ہے، جہاں حزب اللہ بدستور ایک بڑا عنصر ہے، مگر دباؤ کا شکار ہے۔ اسرائیلی دباؤ، لبنان کی داخلی کمزوری اور بدلتے علاقائی توازن نے حزب اللہ کے روایتی مزاحمتی ماڈل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ لبنان اب صرف ایک محاذ نہیں، بلکہ وسیع تر علاقائی تبدیلیوں کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
شام ،شاید سب سے واضح مثال ہے کہ کس طرح منقسم جغرافیائی علاقائی سلامتی کو نئی شکل دے رہے ہیں۔ مرکزی ریاستی نظم کی بحالی کے بجائے شام مختلف طاقتوں، ملیشیاؤں، باقی ماندہ شدت پسند خطرات اور بیرونی اثرات کے باہمی تصادم کا میدان بن چکا ہے۔ یہاں سلامتی اب استحکام قائم کرنے کے بجائے عدم استحکام کو منظم کرنے کا نام بنتی جا رہی ہے۔اس پورے خطے میں ایک اہم تبدیلی یہ بھی آئ ہے کہ اب کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ امریکہ بدستور ایک اہم سلامتی شراکت دار ہے، مگر صرف واشنگٹن پر انحصار میں کمزوری آئی ہے۔ ترکی، پاکستان، ہندوستان اور بعض یورپی شراکت دار اب وسیع تر سلامتی حساب کتاب کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
ایک اور بڑی تبدیلی’’ سلامتی یا دفاع‘‘کی تعریف میں وسعت ہے۔
اب دفاع صرف افواج، فضائیہ یا میزائل نظام تک محدود نہیں رہی ہے ۔ سائبر سکیورٹی، بنیادی تنصیبات کا تحفظ، بحری راستوں کی سلامتی، خوراک اور پانی کا تحفظ، اور توانائی کی گزرگاہوں کا دفاع بھی اب سلامتی کے بنیادی اجزا بن چکے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے گرد حالیہ کشیدگی نے واضح کر دیا کہ تزویراتی گزرگاہیں اب بھی اہم ہیں، مگر ساتھ ہی پائپ لائنز، ڈیٹا سینٹرز، پانی صاف کرنے کے پلانٹس اور لاجسٹک راہداریوں کی اہمیت بھی بڑھ چکی ہے۔
ٹیکنالوجی اس تبدیلی کو مزید تیز کر رہی ہے۔ ڈرون جنگ، میزائل دفاعی نظام، خودکار نگرانی اور سائبر دفاع نے چھوٹی اور بڑی طاقتوں کے درمیان توازن بدل دیا ہے۔ چھوٹی ریاستیں بھی اب ایسے جدید نظاموں کے ذریعے دفاعی صلاحیت حاصل کر رہی ہیں جو پہلے صرف بڑی طاقتوں کے پاس موجودتھیں ۔
اس کے ساتھ ایک گہری سیاسی تبدیلی بھی جاری ہے: نظریاتی بلاک سیاست کی جگہ’’مفاد پر مبنی اتحاد‘‘ میں شامل ہورہے ہیں۔ اب ریاستیں مستقل اتحادوں کے بجائے مسئلہ بہ مسئلہ تعاون کو ترجیح دے رہی ہیں۔ کوئی ملک بحری سلامتی پر ایک طاقت کے ساتھ، انٹیلی جنس پر دوسری اور اقتصادی راہداریوں پر تیسری طاقت کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔
شاید اس نئے مغربی ایشیائی دفاعی منظرنامے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ خطے کے اندر سے’’ کثیر قطبی‘‘بنتا جا رہا ہے۔ اب سلامتی صرف بیرونی بڑی طاقتوں کے ذریعے متعین نہیں ہو رہی ہے ، بلکہ علاقائی قوتیں خود اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ خطہ زیادہ مستحکم ہو گیا ہے۔ بعض حوالوں سے صورت حال شاید زیادہ غیر یقینی ہو گئی ہے۔ مگر اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پرانا ماڈل — بیرونی تحفظ، پراکسی توازن اور جامد مزاحمت — اب ایک نئے زیادہ لچکدار نظام کو جگہ دے رہا ہے۔
ابھرتا ہوا سلامتی نظام یقین کے بجائے لچک، جامد اتحادوں کے بجائے متحرک شراکتوںاور واحد ضمانتوں کے بجائے کثیر سطحی مزاحمت پر مبنی ہے۔یہ ایسا منظرنامہ ہے جو تنازعات کے خاتمے سے نہیں بلکہ اس حقیقت کے ادراک سے تشکیل پا رہا ہے کہ تنازع خود بدل چکا ہے اور اسی بدلتی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے مغربی ایشیا اکیسویں صدی میں دفاع اور سلامتی کے مفہوم کو ازسرِنو متعین کر رہا ہے۔