بدقسمتی سےہمارے مسلم معاشرے کے ظاہر و باطن میں تفریق عام ہورہی ہے اور قول و فعل میں تضاد نمایاں ہورہا ہے۔اِس بگڑتی ہوئی صورت حال میں زیادہ تر لوگ شادی بیاہ کے معاملات کو تجارتی شکل دے کر جہیز کے لین دین ،نمود و نمائش اور اسراف کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ عام طور پر جہیز ،نمودو نمائش اور بےجا اسراف کے خلاف بلند بانگ دعوے کرتے ہیں ،وہی لوگ عملی طور پر اپنے دعووں کو جھوٹا ثابت کرتے چلے جارہے ہیں۔حالانکہ جن مسائل کو معاشرے کو کھوکھلا کردیا ہے ،ان کی سنگینی کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں۔ مسلم معاشرے میں چلے آرہےاس غلط اور جاہلانہ طرز عمل پر افسوس کریں یا ماتم ،کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔مجموعی طور پر معاشرے تانے بانے بکھرنے کے بعد بھی کوئی سنبھلنے کا نام نہیں لیتا،فضول خرچی اور نمود و نمائش ،بے جا اسراف اور رسومات ِ بَد کو فخر تصور کیا جاتا ہے،ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کے لئے صاحب ثروت اور مالدار لوگ تو اخلاقی ،معاشرتی اور مذہبی حدود کو پارکرتے جارہے ہیںاورتمام دینی اقدار کو بالائے طاق رکھ کر شادی کی تقریبات کے معاملات میں وہ کچھ کیا جاتا ہے کہ یہود بھی شرما جائے۔جبکہ اس صورت حال کو متوسط طبقوں اور عام لوگوں کے لئے بھی ایک مجبوری بنادیا گیا ہے۔سب سے اہم مسئلہ جہیز کا ہے جو موجودہ دور میں وباء کی طرح پھیلتا جارہا ہے۔عام تو عام سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوبرو اور خوبصورت دوشیزائیں بھی قیمتی جہیز اور لین دین کے دوسرے سامان نہ ہونے کے باعث دُلہن بننے کے خواب سجائے اندر ہی اندر گھٹتی اور گلتی جارہی ہیں۔کیونکہ کیا مہذب ،کیا غیر مہذب ،کیا عالم ،کیا عام آدمی سرمایہ داریت کے جراثیم معاشرے میں اس قدر سرایت کرچکے ہیں کہ آج لڑکوں کو ایک سرمایہ سمجھا جانے لگا ہےاور اس سرمایہ کاری کے بدلے میں لڑکے والے زیادہ سے زیادہ حصولِ منافع کے لئے سرگرداں ہیں۔نتیجتاً لڑکیوں کی شادیوں میں رُکاوٹ ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دیکھنے میں انتہائی بامروت و دین دار ہیں ،لیکن جب اُن کے اپنےبیٹوں اور بیٹیوںکی شادی کا معاملہ ہو تووہ بھی دینی اقدار کو بھُلاکر اچھے دام وصول کرتے ہیں۔گویا ہمارے مسلم معاشرے میں دوغلا پن فروغ پاچکا ہے اور یہی ایک ایسا بنیادی سبب ہے جو ہمارے ہاں لڑکیوں کی شادی میں رکاوٹ اور جہیز کے مطالبات میں اضافہ کی وجہ بنا ہوا ہے۔بدعتوں ،رسم و رواج ،جہیز ،بڑی بڑی دعوتوں اور نمود و نمائش کا ایک بڑا سبب وہ پیسہ بھی ہے جو یہاں کے لوگوں کو آسانی سے حاصل ہوتا ہے ۔سرکاری رقومات میں لوٹ کھسوٹ،رشوت ستانی ،بدعنوانی ،حد سے زیادہ منافع خوری ،ہیرا پھیری ،غیر قانونی اور غیر اخلاقی دھندوں سے جوزیادہ سے زیادہ پیسہ ،کم سے کم وقت میں حاصل کیا جارہا ہے، وہ عام طورپر حرام کاموں پر ہی صرف ہورہا ہے۔چونکہ ہمارے امراء طبقے نے اپنی امارت اور نام نہاد دولتیوں نے اپنی شہرت کو ظاہر کرنے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے نام پر شادیوں میں حد سے زیادہ جہیز کا لین دین اور نمود و نمائش کرتے ہوئے معاشرے میں جو غلط تطہیر قائم کردی ہے، اُس سے معاشرے کا محروم طبقہ بُری طرح متاثر ہوچکا ہے۔ جہاں تک ہمارے یہاں مذہب بیزاری کا تعلق ہے، اُس کا ایک سبب اہل مذہب کے قول و فعل کا تضاد ہے۔ایک جانب خدا خدا کرتے رہتے ہیں اور دوسری جانب ہماری زندگی سے خدا پرستی کا کوئی ثبوت برآمد نہیں ہوتا۔ اکثریت کی زندگی میںطاقت اور دولت ہی مرکز نظر آتی ہے۔ہماری زندگی میں اسوئہ رسولؐ کی ایک جھلک بھی موجود نہیں رہی ہے۔ ہم جھوٹ بولتے ہیں، کم تولتے ہیں، نرم خو نہیں ہوتے،ہر کوئی احساس برتری کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ آج بھی معاشرے کا وہ طبقہ جن کے پاس لین دین کے لئے مال و اسباب اور پیسہ نہیں ،حیران و پریشان ہے۔جہیز کے ناسور او رشادیوں میں حد سے زیادہ نمودو نمائش ،رسومات ِبد اور فضول خرچی کے سدباب کے لئے اب لکھنے سے بھی کچھ حاصل ہونے والا نہیں،تاہم اگر ہم معاشرے کے لوگ خود اپنے آپ کا اصلاح کرنے پر آمادہ ہوجائیں ،مسلمان ہونے کے ناطے دین اسلام کی تعلیم کو مدنظر رکھیں، سادگی ،میانہ روی اور قناعت پر راضی ہوجائیں ،قول و فعل کے تضاد کو مٹائیں اور اپنے ظاہر و باطن کو یکساں بناکر عزم و استقلال کے ساتھ اجتماعی طور پر کچھ کرکے دکھائیں تو بہت حد تک معاشرے میں بہتری کا مقصد حاصل ہوگا۔