عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے مرکز کے زیر انتظام اس خطے میں قائم کیے گئے پانچ نئے اضلاع کا باضابطہ افتتاح کیا، جس کے بعد کارگل کے کئی سیاسی رہنماؤں نے اس اقدام کو فرقہ وارانہ اور علاقائی بنیادوں پر علاقے کو تقسیم کرنے کی ’’سوچی سمجھی کوشش‘‘قرار دیا ہے۔سکسینہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے بعد نوبرا، شام، چانگتھنگ، زانسکر اور دراس سمیت پانچ نئے اضلاع بنائے گئے ہیں، جس سے لداخ میں اضلاع کی تعداد دو سے بڑھ کر سات ہو گئی ہے۔
کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے رہنما سجاد کارگلی نے کہا کہ اضلاع کی تعداد دو سے بڑھا کر سات کرنا محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ لداخ کے عوام کی متحدہ جمہوری اور ریاستی تحریک کو تقسیم کرنے کا ایک منظم قدم معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ خاص طور پر بدھ اور مسلم برادریوں کی مشترکہ آواز کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
لیہہ سپریم باڈی (ایل اے بی) کے ساتھ، کے ڈی اے مرکز سے بات چیت کر رہا ہے اور لداخ کے لیے آئینی تحفظات جیسے ریاست کا درجہ، چھٹی شیڈول کا درجہ، روزگار کی حفاظت اور پارلیمانی نمائندگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ایک بیان میں کارگلی نے دراس اور زانسکر جیسے علاقوں کو ضلع کا درجہ دیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس پورے عمل میں علاقائی حساسیت، آبادیاتی حقیقتوں اور منصفانہ نمائندگی کے اصولوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
2011 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لداخ کی آبادی میں تقریباً 46.40 فیصد مسلمان اور 39.65 فیصد بدھ ہیں، لیکن نئی تقسیم کے بعد پانچ بدھ اکثریتی اور صرف دو مسلم اکثریتی اضلاع بنائے گئے ہیں۔ انہوں نے اسے “غیر متوازن” اور “جانبدارانہ و امتیازی ذہنیت” کا مظہر قرار دیا۔
لداخ میں نئے اضلاع کے قیام پر تنازع، کارگل رہنماؤں کا ‘تقسیم کی کوشش’ کا الزام