طارق علی میر
کشمیر کی سرزمین صدیوں سے تہذیبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور مشترکہ ثقافتی ورثے کی امین رہی ہے۔ یہاں زبانیں محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنے والی مضبوط کڑیاں رہی ہیں۔ انہی زبانوں میں اردو کو ایک خاص مقام حاصل ہے، جس نے اس خطے کے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کیااور کشمیری پنڈت اس روایت کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔
حال ہی میں سرینگر سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر رمیش ولی نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی، جو ایک تانبے کے گھڑے کی تھی۔ اس گھڑے پر ان کے نانا جی کا نام نہایت خوبصورتی سے اردو زبان میں کندہ تھا۔ ڈاکٹر ولی کے مطابق، ان کے نانا جی، جو جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان سے تعلق رکھتے تھے، نے یہ برتن اپنی بیٹی کو جہیز میں دیا تھا۔ اُس زمانے میں یہ ایک عام روایت تھی کہ تانبے کے برتنوں پر مالک کا نام کندہ کروایا جاتا تاکہ اگر وہ کسی شادی بیاہ یا اجتماعی تقریب میں ادھار دیے جائیں تو واپسی پر ان کی شناخت آسان ہو سکے۔
یہ سادہ سی روایت دراصل ایک بڑی سماجی حقیقت کی عکاس ہے کہ اردو اس خطے کی مشترکہ زبان تھی۔ چاہے مسلمان ہوں، کشمیری پنڈت ہوں یا سکھ، سبھی اس زبان سے یکساں طور پر مانوس تھے۔ اسے نہ کسی ایک مذہب کی زبان سمجھا گیا اور نہ ہی کسی مخصوص طبقے تک محدود رکھا گیا۔ اردو یہاں کے روزمرہ معاملات، لین دین، تعلیم اور تہذیبی اظہار کا لازمی حصہ تھی۔
کشمیری پنڈتوں کی مذہبی اور گھریلو زندگی میں بھی اردو کا نمایاں کردار رہا ہے۔ مقدس متون اکثر اردو ترجمے کے ساتھ گھروں میں موجود ہوتے تھے تاکہ انہیں آسانی سے پڑھا اور سمجھا جا سکے۔ آج بھی بہت سے بزرگ پنڈت ان متون کو اردو کے ذریعے ہی سمجھتے ہیں۔ یہ روایت اس بات کی گواہ ہے کہ اردو نہ صرف سماجی بلکہ روحانی زندگی میں بھی اپنی جگہ بنا چکی تھی۔
درحقیقت، کشمیر میں اردو ایک مشترکہ شناخت کی علامت تھی ،ایک ایسی زبان جو لوگوں کو قریب لاتی تھی، ان کے تجربات، روایات اور جذبات کو ایک لڑی میں پروتی تھی۔ ڈاکٹر رمیش ولی کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ تانبے کا گھڑا محض ایک برتن نہیں بلکہ اس دور کی ایک زندہ یادگار ہے جب زبانیں دیواریں نہیں بلکہ پل ہوا کرتی تھیں۔
کشمیری پنڈت برادری نے اردو زبان کی ترویج و ترقی میں نہایت قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ علمی، ادبی اور انتظامی میدان میں ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ ڈوگرہ دورِ حکومت میں جب اردو کو سرکاری زبان کا درجہ ملا، تو کشمیری پنڈتوں نے بطور منتظم، معلم اور ادیب اس زبان کو اپنانے اور فروغ دینے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف اردو میں دفتری امور انجام دیے بلکہ اس زبان میں ادبی تخلیقات کے ذریعے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ادب کے میدان میں کشمیری پنڈت شعرا اور ادبا نے اردو شاعری، افسانہ نگاری اور تنقید کو نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی تحریروں میں کشمیر کی فطری خوبصورتی، انسانی جذبات اور معاشرتی مسائل کی بھرپور عکاسی ملتی ہے۔ یہ ادبا اردو کو محض ایک زبان نہیں بلکہ تہذیبی ہم آہنگی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اردو ایک ایسی مشترکہ میراث تھی جو مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو ایک لڑی میں پروتی ہے۔
بقول پریمی رومانی،’’آج سے نصف دہائی قبل ہماری شادیوں میں بھی اردو میں کارڈ بنوائے جاتے تھے، اور اردو بمقابلہ ہندی زیادہ ہر دلعزیز تھی۔ کشمیر میں کشمیری پنڈت زیادہ تر اردو کو ہی پسند کرتے تھے۔‘‘
یہ اقتباس اس حقیقت کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ اردو نہ صرف سرکاری یا تعلیمی زبان تھی بلکہ روزمرہ زندگی اور سماجی تقریبات میں بھی اسے خاص اہمیت حاصل تھی۔
تعلیم کے شعبے میں بھی کشمیری پنڈتوں نے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس زبان کو ذریعۂ تعلیم کے طور پر اپنایا اور نئی نسل کو اس کے ادب اور اسلوب سے روشناس کرایا۔ اسکولوں اور کالجوں میں اردو کی تدریس کے ذریعے اس زبان کو مستحکم بنیادیں فراہم کی گئیں۔
مزید برآں، کشمیری پنڈتوں نے صحافت اور تحقیق کے میدان میں بھی اردو زبان کی خدمت کی۔ اخبارات، رسائل اور تحقیقی مضامین کے ذریعے انہوں نے اردو کو علمی و فکری اظہار کا ایک مضبوط وسیلہ بنایا۔ ان کی تحریریں نہ صرف معیاری تھیں بلکہ انہوں نے اردو کے دائرۂ کار کو بھی وسیع کیا۔
مختصراً، کشمیری پنڈتوں کا اردو زبان کی ترویج و ترقی میں کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے اس زبان کو اپنایا، اسے سنوارا اور اسے ایک مشترکہ تہذیبی ورثے کے طور پر آگے بڑھایا۔ آج کے دور میں، جب شناختیں اکثر تقسیم کا سبب بن جاتی ہیں، ایسے واقعات ہمیں اپنے ماضی کی اس خوبصورت سچائی کی یاد دلاتے ہیں کہ کشمیر کی اصل روح اشتراک، رواداری اور ہم آہنگی میں مضمر ہےاور اردو اس روح کی ایک روشن علامت رہی ہے۔
[email protected]