جی کیو کامران
بھارت کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے (پارلیمینٹ) میں خواتین کے لیے ایک تہائی نشستیں مختص کرنے کا دیرینہ خواب ایک بار پھر آئینی رکاوٹوں کے نذر ہوگیا۔131 ویں آئینی ترمیمی بل کے وعدوں کے باجود بھی صنفی مساوات کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور نہ ہو سکیں، جس سے خواتین کی سیاسی خودمختاری کا مستقبل ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گیا۔اگرچہ لوک سبھا میں اس بل کو سادہ اکثریت حاصل ہو گئی۔لیکن آئینی ترمیم کی سخت شرائط کے بوجھ تلے یہ بل منظور نہیں ہو سکی۔
آئین کی دفعہ 368 کے تحت اس نوعیت کے بل کی منظوری کے لیے محض سادہ اکثریت کافی نہیں، بلکہ ایوان میں موجود اور ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان کی دو تہائی اکثریت بھی ضروری ہے مزید برآں، پارلیمانی منظوری کے بعد کم از کم نصف ریاستی اسمبلیوں سے توثیق بھی بل کی منظوری کے لیے لازمی ہے۔ لیکن مذکورہ بل کے حق میں 298 اور مخالفت میں 230ووٹ پڑے، جبکہ مجموعی طور پر ووٹ ڈالنے والے 528ارکان کے تناسب سے دو تہائی اکثریت کے لیے 352ووٹ درکار تھے۔ اس مجوزہ ترمیم کا مقصد 2029 کے عام انتخابات سے قبل خواتین کے لیے ایک تہائی کوٹے کو عملی جامہ پہنانا تھا، جس کے لیے لوک سبھا کی نشستیں 543سے بڑھا کر 850کرنے کے ساتھ ساتھ ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی اسمبلیوں میں بھی خواتین کی نشستوں میں اضافے کی تجویز رکھی گئی تھی۔
پہلے بل کی ناکامی کے بعد، حد بندی اور نشستوں میں اضافے سے متعلق بقیہ دونوں بلوں کو ووٹنگ کے بغیر ہی واپس لے لیا گیا۔ مرکزی حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان بلوں کی روح بنیادی طور پر خواتین کے ریزرویشن بل سے منسلک تھی، اس لیے ریزرویشن کی ناکامی کے بعد بقیہ دونوں بلوں کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔
لوک سبھا میں ان بلوں پر ہونے والی بحث نے حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کے مابین ایک گہری نظریاتی خلیج کو واضح کر دیا۔ اگرچہ اپوزیشن جماعتوں نے خواتین کے لیے نشستوں کی تخصیص کی بھرپور حمایت کی، تاہم ان کا مطالبہ تھا کہ ریزرویشن کو نئی حد بندی سے مشروط کرنے کے بجائے موجودہ ڈھانچے کے اندر ہی فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہول گاندھی نے حکومتی حکمت عملی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ حد بندی کی شرط کا خواتین کی خود مختاری سے کوئی واسطہ نہیں۔ انہوں نے حکومت کے ان اقدام کو ‘صنفی مساوات کے آڑ میں خواتین کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کے بجائے بھارت کے انتخابی نقشے کو تبدیل کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا۔
دوسری جانب، حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے بل کی حمایت نہ کرنے پر کانگریس اور اس کے اتحادیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومت نے اپوزیشن پر ‘خواتین مخالف ذہنیت اور ملک کی خواتین کو دھوکہ دینے کا الزام عائد کیا۔ وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کے موقف پر تیکھا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خواتین کو معقول نمائندگی فراہم کرنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، انہیں اگلے انتخابات میں خواتین کے غیض وغضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سیاسی کشمکش اور پارٹی مفادات سے بالاتر اس امر کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کے باوجود بھارت میں خواتین کی سیاسی نمائندگی اس قدر مایوس کن کیوں ہے؟ یہ کسی المیہ سے کم نہیں کہ صنفی مساوات کے معاملے میں بھارت کا ریکارڈ تشویشناک حد تک کمزور ہے، جو ملک کی عالمی امنگوں اور ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے تشخص پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ 190 ممالک کی عالمی درجہ بندی میں بھارت کا 147 ویں نمبر پر ہونا اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ ہم خواتین کو مناسب نمائندگی فراہم کرنے کے دوڑ میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ لوک سبھا میں خواتین کا تناسب محض 13.8 فیصد ہے (یعنی 543 میں سے صرف 75نشستیں)، جو 26فیصد کی عالمی اوسط سے انتہائی کم ہے۔ حیرت انگیز طور پر، بھارت اس معاملے میں افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ان کئی ترقی پذیر ممالک سے بھی پیچھے ہے، جنہوں نے خواتین کو خصوصی ریزرویشن دے کر اپنے سیاسی منظرنامے کا نقشہ بدل دیا۔
بھارت میں علاقائی سطح پر خواتین کی نمائندگی کی صورتحال قومی منظرنامے سے بھی زیادہ ابتر ہے، جہاں ریاستی اسمبلیوں میں ان کی اوسط شرکت محض 9 فیصد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ کمی صرف ایوانوں تک ہی نہیں بلکہ مرکزی اور ریاستی کابینہ کی تشکیل میں بھی نمایاں ہے، جہاں خواتین کی موجودگی نا ہونے کے برابر ہے۔ بھارت کے سیاسی میدان میں صنفی مساوات کا مسئلہ محض ایک سماجی المیہ نہیں بلکہ ایک ڈھانچہ جاتی رکاوٹ ہے، جس کا ازالہ کسی ٹھوس قانونی لائحہ عمل اور مستقل میکانزم کے بغیر ممکن نہیں۔
اگرچہ بھارتی خواتین ایک طاقتور اور فیصلہ کن انتخابی قوت (Vote Bank) بن کر ابھری ہیں اور کئی ریاستوں میں ان کی ووٹنگ کا تناسب مردوں کے برابر یا ان سے بھی تجاوز کر چکا ہے، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ عوامی شعور قانون ساز اداروں میں ان کی متناسب نمائندگی میں تبدیل نہ ہو سکا۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعی صنفی مساوات کے دعوؤں میں مخلص ہیں، تو انہیں اپنے داخلی تنظیمی ڈھانچے میں خواتین کو موثر نمائندگی اور کلیدی فیصلہ سازی کا حق دینا ہوگا۔ اگرچہ 73 ویں اور 74ویں آئینی ترامیم نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو ایک تہائی کوٹہ دے کر صحت، تعلیم اور صفائی جیسے نچلی سطح کے مسائل پر توجہ مبذول کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، لیکن اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اس دائرے کو وسعت دیتے ہوئے قومی اور ریاستی سطح پر بھی خواتین کی فعال شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
عالمی تحقیقات بشمول اقوام متحدہ، بھارت اور مختلف تعلیمی اداروں کے تحقیقی مطالعہ جات اس حقیقت کی مسلسل تصدیق کرتے ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں خواتین کی موجودگی نہ صرف سماجی رویوں میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے، بلکہ اس سے پالیسی سازی کا عمل بھی نمایاں طور پر بہتر ہوتا ہے۔ بھارت اس وقت ایک تیز رفتار سماجی اور اقتصادی انقلاب کے دور سے گزر رہا ہے۔ خواتین تعلیم، سائنس، انجینئرنگ، کھیل کود اور افرادی قوت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ خواتین کی تیز رفتار اور غیر معمولی ترقی کے باوجود ہمارے سیاسی ادارے انہیں متناسب نمائندگی فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ماضی کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ محض ‘رضاکارانہ اقدامات عورتوں کو مناسب نمائندگی فراہم کرنے میں کافی نہیں ہیں، بلکہ اس ڈھانچہ جاتی مسئلے کا اصل اور حتمی حل قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے مخصوص اور لازمی کوٹہ ہے۔
بھارت جیسے متنوع ملک میں آدھی آبادی کو منصفانہ نمائندگی سے محروم رکھنا نہ صرف اخلاقی ناانصافی ہے بلکہ انتظامی حکمتِ عملی کے لحاظ سے بھی غیر موثر ہے۔ وفاقی ڈھانچے کی حقیقی مضبوطی کے لیے ‘ووٹ ڈالنےاور ‘نشست سنبھالنےکے درمیان حائل خلیج کو دور کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ پارلیمنٹ اس بل کے لیے تیار ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا بھارتی جمہوریت اب مزید کسی انتظار کی متحمل ہو سکتی ہے؟ ایک عالمی جمہوری طاقت بننے کا خواب اس وقت تک تشنہِ تکمیل رہے گا جب تک نمائندگی کے ایوانوں میں صنفی توازن کا یہ بگاڑ قائم رہے گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم محض ‘نمائشی شرکت کے محدود دائرے سے نکل کر حقیقی نمائندگی کو گلے لگائیں تاکہ ایک جوابدہ، مستحکم اور پائیدار جمہوریت کی بنیاد رکھی جا سکے۔