عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/اکنامک آفینسز ونگ (EOW) سرینگر نے ایک ایسے معاملے میں مقدمہ درج کیا ہے جس میں ایک شخص نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے بیرونِ ملک جعلی ملازمت کا جھانسہ دے کر کمبوڈیا بھیجا گیا، جہاں مبینہ طور پر اسے وعدہ شدہ نوکری کے بجائے آن لائن فراڈ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور کیا گیا۔
ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شکایت کے مطابق متاثرہ شخص کو پٹن علاقے میں سرگرم ایک غیر مجاز کنسلٹنسی نے بیرونِ ملک کمپیوٹر آپریٹر کی ملازمت دلانے کا لالچ دیا تھا اور ماہانہ اچھی تنخواہ کا وعدہ کیا گیا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ ان یقین دہانیوں پر متاثرہ شخص نے کنسلٹنسی چلانے والے شخص کے بینک اکاؤنٹ میں ایک بڑی رقم منتقل کی، جبکہ سفر اور دیگر انتظامات پر بھی اضافی اخراجات برداشت کیے۔
شکایت کے مطابق جب وہ کمبوڈیا پہنچا تو وہاں نامعلوم افراد نے اسے وصول کیا اور وعدہ شدہ ملازمت فراہم کرنے کے بجائے مبینہ طور پر جعلی آن لائن سرگرمیوں میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ متاثرہ شخص نے ان سرگرمیوں میں شامل ہونے سے انکار کیا، جس کے بعد اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے اور اس سے جھوٹے وعدوں کے ذریعے رقم ہتھیالی گئی ہے۔
بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ الزامات بی این ایس کی دفعہ 318(2) کے تحت قابلِ سزا جرائم بنتے ہیں۔ چنانچہ پولیس اسٹیشن اکنامک آفینسز ونگ سرینگر میں باقاعدہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
جعلی نوکری اسکینڈل: ای او ڈبلیو سرینگر نے مقدمہ درج کیا