جرس ہمالہ
میر شوکت
نشہ، خواہ وہ مٹی کی سوندھی خوشبو میں لپٹی کسی خاموش سی چرس ہو یا شیشے کے گلاس میں لرزتی کسی مہذب زہر کی تہذیب، اپنے اندر ایک ہی فطرت رکھتا ہے۔انسان کو اس کی اصل سے جدا کرنا، اور یہی جدائی سب سے بڑا المیہ ہے۔ حالیہ دنوں جموں و کشمیر میں’’نشہ مکت ابھیان‘‘ کی صدائیں گونجی ہیں، اعلانات کے چراغ روشن کئے گئے ہیں اور عزم کے بینر فضا میں لہرا دئیے گئے ہیں کہ اس دھرتی کو منشیات کی لعنت سے پاک کیا جائے گا۔ بلاشبہ یہ ارادہ اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا نشہ صرف وہی ہے جو ہاتھوں میں پکڑا جاتا ہے؟ یا وہ بھی ہے جو ذہنوں میں اتر کر ضمیر کی شریانوں کو مفلوج کر دیتا ہے؟
نشہ دراصل ایک کیفیت نہیں، ایک فلسفہ ہے،فرار کا فلسفہ، تسلط کا فلسفہ اور کبھی کبھی برتری کے زعم کا فلسفہ۔ ایک طرف وہ نوجوان ہے جو زندگی کی کٹھنائیوں سے گھبرا کر کسی پاؤڈر کی پناہ میں خود کو گم کر دیتا ہے اور دوسری طرف وہ ایوان ہے جہاں الفاظ کے خوشنما پردوں میں فیصلے اس طرح لپیٹے جاتے ہیں کہ حقیقت کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ دونوں صورتوں میں ایک قدر مشترک ہے،حقیقت سے انکار۔
جب ریاستیں ’’نشہ مکت‘‘ کے نعرے بلند کرتی ہیں تو وہ بلاشبہ ایک سماجی برائی کے خلاف اعلانِ جنگ کرتی ہیں، مگر اس جنگ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ صرف اُن گلیوں میں لڑی جاتی ہے جہاں غربت کے سائے گہرے ہوتے ہیں، جہاں امید کی روشنی مدھم ہوتی ہے۔ وہاں چھاپے پڑتے ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں اور اصلاح کے وعدے کیے جاتے ہیں۔ لیکن اُن ایوانوں میں جہاں فیصلوں کی سیاہی تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوتی ہے، وہاں ایک اور نشہ پروان چڑھتا ہے۔اقتدار کا نشہ، جو نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے بلکہ دلوں کو سنگلاخ بھی بنا دیتا ہے۔
یہ نشہ بڑا مہذب ہوتا ہے، اس کے ہاتھ میں سرنج نہیں ہوتی، اس کی سانسوں میں دُھواں نہیں ہوتا، مگر اس کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہوتے ہیں۔ یہ انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ ناقابلِ احتساب ہے کہ اس کے فیصلے سوال سے بالاتر ہیں اور کہ اس کی خواہش ہی قانون ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب نشہ اپنی بھیانک ترین شکل اختیار کر لیتا ہے،جب ایک دستخط کسی کی زمین چھین لیتا ہے، جب ایک حکم کسی کی آزادی کو قید کر دیتا ہے اور جب ایک پالیسی کسی کے جینے کے حق کو خاموشی سے نگل جاتی ہے۔
نشہ، چاہے وہ کسی نشیلی شے کا ہو یا کرسی کی نرم پشت کا، انسان کو ایک ہی انجام کی طرف لے جاتا ہےبے حسی۔ اور بے حسی وہ مقام ہے جہاں درد دکھائی نہیں دیتا، جہاں چیخیں محض شور بن جاتی ہیں اور جہاں آنسو ایک اعداد و شمار میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرہ اپنی روح کھو دیتا ہے اور ترقی کے نام پر محض ایک کھوکھلا ڈھانچہ رہ جاتا ہے۔
نشہ مکت معاشرہ بنانے کی جدوجہد یقیناً ایک مقدس کوشش ہے، مگر اس کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم نشے کی تعریف کو وسیع نہ کریں۔ جب تک ہم یہ تسلیم نہ کریں کہ نشہ صرف وہ نہیں جو جسم کو مفلوج کرتا ہے بلکہ وہ بھی ہے جو ذہن کو مسخر کر لیتا ہے۔ وہ نشہ جو اقتدار کے ایوانوں میں جنم لیتا ہے، جو کرسی کی بلندیوں پر پروان چڑھتا ہے اور جو آخرکار انسان کو اس مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ دوسروں کے حقوق کو محض ایک رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے۔
یہ ایک عجیب تماشا ہے کہ ایک طرف نشے کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے اور دوسری طرف وہ فیصلے کیے جا رہے ہیں جو معاشرتی ناانصافی کو بڑھاتے ہیں۔ گویا ایک ہاتھ سے زہر چھینا جا رہا ہے اور دوسرے ہاتھ سے ایک نیا زہر تیار کیا جا رہا ہے۔خاموش، مہذب اور قانونی۔ اس تضاد کو سمجھے بغیر کوئی بھی مہم محض ایک خوبصورت نعرہ رہ جاتی ہے، ایک ایسا نعرہ جو دیواروں پر تو اچھا لگتا ہے، مگر دلوں تک نہیں پہنچ پاتا۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نشے کو صرف ایک طبی یا قانونی مسئلہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے ایک اخلاقی اور فکری بحران کے طور پر دیکھیں۔ ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ نشہ کسی ایک طبقے یا ایک گلی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر وبا ہے جو مختلف شکلوں میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ کبھی یہ ایک انجکشن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور کبھی ایک حکم نامے کی صورت میں۔ کبھی یہ ایک نوجوان کی رگوں میں دوڑتا ہے اور کبھی ایک حکمران کے لہجے میں جھلکتا ہے۔
اگر واقعی ایک’’نشہ مکت‘‘ سماج کی تعمیر مقصود ہے تو پھر اس جدوجہد کو ادھورا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اسے ان گلیوں سے نکال کر ان ایوانوں تک لے جانا ہوگا جہاں اصل فیصلے ہوتے ہیں۔ اسے ان ذہنوں تک پہنچانا ہوگا جہاں برتری کا زعم پلتا ہے اور جہاں اختیار کی مستی انسانیت پر غالب آ جاتی ہے۔ کیونکہ نشہ کوئی بھی ہو،وہ ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے اور اس کی سب سے خطرناک صورت وہ ہوتی ہے جو خود کو نشہ سمجھنے سے انکار کر دے۔آخرکار یہ سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے۔کیا ہم صرف اُن نشوں سے لڑیں گے جو دکھائی دیتے ہیں یا اُن سے بھی جو نظر نہیں آتے مگر کہیں زیادہ گہرے زخم چھوڑ جاتے ہیں؟یہی وہ فیصلہ ہے جو طے کرے گا کہ ہماری جدوجہد ایک حقیقت بنے گی یا محض ایک خوبصورت فریب۔