عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سرینگر میں منعقدہ قومی اسپورٹس”چنتن شیوِر“میں ایک جامع اور دوراندیش خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت کو عالمی اسپورٹس سپر پاور بنانے کا خواب تبھی حقیقت بن سکتا ہے جب کھیلوں کو گاؤں، محلوں اور عام زندگی کا حصہ بنایا جائے۔
یہ تین روزہ اہم اجلاس وزارت امورِ نوجوانان و کھیل کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے وزرائے کھیل، ماہرین، منتظمین اور قومی اسپورٹس فیڈریشنز کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے روایتی سوچ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیمپئنز بڑے اسٹیڈیمز یا مہنگی اکیڈمیوں میں نہیں، بلکہ گلی کوچوں، دیہات اور مقامی میدانوں میں جنم لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اکیڈمیز صرف اس خام ٹیلنٹ کو نکھارتی ہیں، جو پہلے ہی عوامی سطح پر پروان چڑھ چکا ہوتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کھیلوں کو محض مقابلوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں روزمرہ زندگی کا لازمی جز بنایا جائے، تاکہ ہر بچہ، ہر نوجوان اپنی صلاحیتوں کو دریافت کر سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اسکولوں میں فزیکل ایجوکیشن اساتذہ کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اساتذہ کو وہی عزت، وسائل اور اہمیت دی جانی چاہیے جو دیگر مضامین کے اساتذہ کو حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہی اساتذہ مستقبل کے کھلاڑیوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کھیل صرف تمغوں تک محدود نہیں بلکہ ایک طاقتور سماجی قوت ہیں، جو نوجوانوں کو مثبت سمت دے سکتی ہے اور معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ٹھوس اور بامقصد پروگرام بھی ترتیب دیے جائیں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت، اسکول، خاندان، مقامی ادارے اور کارپوریٹ سیکٹر مل کر ایک ایسا مضبوط اور ہمہ گیر اسپورٹس نظام قائم کریں، جہاں ہر باصلاحیت نوجوان کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔
انہوں نے کہاہمارا اصل کام ٹیلنٹ اور مواقع کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنا ہے،کیونکہ بھارت میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت صرف صحیح رہنمائی اور پلیٹ فارم کی ہے۔
لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہا کاسرینگر میں اسپورٹس چنتن شیوِر سے اہم خطاب،کہاچھوٹے شہروں اور دیہات سے ابھرتے ہیں اصل چیمپئنز