فیاض بخاری
بارہمولہ/وزیرِ تعلیم سکینہ ایتو نے اپنی تعلیمی قابلیت سے متعلق جاری تنازع پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے 10+2 مکمل کرنے کے بعد ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا تھا، تاہم ذاتی مجبوریوں کے باعث وہ اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکیں۔
یہ بیان انہوں نے بارہمولہ کے گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا، “میں نے ایم بی بی ایس کا آغاز کیا، مگر زندگی کے مشکل حالات کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی، جو میرے لیے ایک کڑا مرحلہ تھا۔”
واضح رہے کہ وحید الرحمان پرہ نے حال ہی میں انہیں ”صرف بارہویں پاس وزیر“ قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی۔
وزیرِ تعلیم نے کہا کہ سیاست میں آنا ان کا ذاتی انتخاب نہیں تھا بلکہ والد کے انتقال کے بعد گھریلو ذمہ داریوں نے انہیں اس راستے پر آنے پر مجبور کیا۔ میرے والد کا کوئی بیٹا نہیں تھا، اس لیے مشکل وقت میں مجھے آگے بڑھنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست کے ابتدائی دنوں میں تجربے کی کمی کے باوجود عوام نے ان پر اعتماد کیا۔ فاروق عبداللہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی رہنمائی نے انہیں عوامی خدمت کے قابل بنایا۔
اپنی تقریر میں انہوں نے صنفی امتیاز پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ خواتین سیاست دانوں کو اکثر غیر ضروری تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ ماضی میں کئی وزراء کی تعلیمی قابلیت پر سوال نہیں اٹھائے گئے۔
ایم بی بی ایس شروع کیا تھا، حالات نے سیاست میں لا کھڑا کیا: سکینہ ایتو