ترجمہ: ڈاکٹر رفیق مسعودی
تنقیدی جائزہ :سنجے پنڈتا
ترجمہ کا فن، جب محض لفظی منتقلی سے آگے بڑھتا ہے، تو وہ ایک گہرا تخلیقی اور فکری عمل بن جاتا ہے۔ یہ صرف ایک متن کو ایک زبان سے دوسری زبان میں منتقل کرنے کا عمل نہیں رہتا بلکہ ایک مکمل ادبی اور ثقافتی کائنات کو نئے لسانی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش بن جاتا ہے۔ اس میں نہ صرف الفاظ بلکہ خیالات، حساسیت، تہذیبی حوالہ جات اور جذباتی فضا بھی شامل ہوتی ہے۔اسی پس منظر میں منوہر شیام جوشی کے معروف اور پیچیدہ ناول’’کیاپ‘‘ کا کشمیری ترجمہ، جو ڈاکٹر رفیق مسعودی نے کیا ہے، ایک قابلِ ذکر ادبی پیش رفت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ ترجمہ نہ صرف ایک ادبی متن کی منتقلی ہے بلکہ ایک ایسی کوشش ہے جو اس کے اندر موجود تہہ دار معنی، علامتی اظہار اور فکری پیچیدگی کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے۔
’’کیاپ‘‘بذاتِ خود ایک غیر معمولی ناول ہے۔ یہ روایتی بیانیے سے ہٹ کر ایک ایسا ڈھانچہ اختیار کرتا ہے جو غیر خطی، منتشر اور بظاہر بے ترتیب محسوس ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ ایک گہری فکری ترتیب رکھتا ہے۔ اس میں لوک داستانوں، طنز، وجودی فکر اور سماجی تبصرے کا ایسا امتزاج ہے جو قاری کو مسلسل متحرک رکھتا ہے۔ یہ ناول قاری سے محض مطالعہ نہیں بلکہ شمولیت کا تقاضا کرتا ہے،وہ اس کے بیانیے کو خود جوڑتا ہے، اس کی معنویت کو دریافت کرتا ہے اور مصنف کے ساتھ ایک تخلیقی مکالمے میں شامل ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر رفیق مسعودی اس پیچیدہ اور چیلنجنگ متن کو کشمیری زبان میں منتقل کرتے ہوئے غیر معمولی مہارت اور حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ متن کو سادہ بنانے یا اسے مقامی ذوق کے مطابق ڈھالنے کے بجائے اس کی اصل ساخت، اسلوب اور پیچیدگی کو برقرار رکھتے ہیں۔ یہ ایک شعوری اور ادبی فیصلہ ہے، جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ترجمہ اصل کے ساتھ وفادار رہے۔
ترجمے کا ایک اہم پہلو وقت کے ساتھ اس کا برتائو ہے۔ ’کیاپ‘میں وقت سیدھی لکیر میں نہیں چلتا بلکہ مسلسل ماضی، حال اور تخیل کے درمیان حرکت کرتا رہتا ہے۔ یہ بیانیہ قاری کو ایک ایسے تجربے سے گزارتا ہے جو بیک وقت منتشر بھی ہے اور مربوط بھی۔ اس پیچیدگی کو کشمیری میں منتقل کرنا آسان نہیں تھا، لیکن مترجم نے اسے بڑی مہارت سے برقرار رکھا ہے۔مزاح اور طنز بھی اس ناول کا ایک اہم جزو ہیں۔ جوشی کا طنز باریک، تہہ دار اور اکثر غیر اعلانیہ ہوتا ہے۔ اسے کسی دوسری زبان میں منتقل کرنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے، کیونکہ اس کے لیے صرف زبان نہیں بلکہ ثقافتی فہم بھی درکار ہوتی ہے۔ڈاکٹر مسعودی اس پہلو کو بھی کامیابی سے سنبھالتے ہیں اور کشمیری زبان میں اس طنز کی لطافت کو برقرار رکھتے ہیں۔مکالموں کے ترجمے میں بھی ایک خاص روانی اور فطری پن نظر آتا ہے۔ کردار جب کشمیری میں بولتے ہیں تو وہ ترجمہ شدہ محسوس نہیں ہوتے بلکہ اپنی اصل شناخت کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ان کے الفاظ، لہجہ اور انداز ایک حقیقی سماجی اور ثقافتی پس منظر کی عکاسی کرتے ہیں۔
اس ترجمے کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں اصل متن کی پیچیدگی اور ابہام کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ بہت سے مترجمین قاری کی سہولت کے لیے متن کو سادہ بنا دیتے ہیں، لیکن یہاں ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے مترجم نے اصل کی تہہ داری، اس کی مبہمیت اور اس کے فکری چیلنج کو برقرار رکھا ہے جو ایک سنجیدہ ادبی رویہ ہے۔جہاں متن اچانک بیرونی منظر نگاری سے داخلی خودکلامی کی طرف منتقل ہوتا ہے، وہاں بھی ترجمہ اسی بہائو کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ قاری کو کسی وضاحت کے بغیر اس تبدیلی کا حصہ بناتا ہے، جیسا کہ اصل متن میں ہوتا ہے۔ اس طرح ترجمہ نہ صرف متن کو منتقل کرتا ہے بلکہ اس کے تجربے کو بھی زندہ رکھتا ہے۔مجموعی طور پر’’کیاپ‘‘کا یہ کشمیری ترجمہ ایک اہم ادبی کارنامہ ہے۔ یہ نہ صرف ایک مشکل اور پیچیدہ متن کو نئی زبان میں پیش کرتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ کشمیری جیسی علاقائی زبانیں بھی عالمی سطح کے ادبی متون کو اپنے اندر سمو سکتی ہیں۔ یہ ترجمہ زبانوں، ثقافتوں اور ادبی روایتوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتا ہے۔
ایک کثیر لسانی معاشرے جیسے ہندوستان میں، اس نوع کے مکالمے ادب کی نشوونما کے لیے نہایت ضروری ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر رفیق مسعودی نے’’کیاپ‘‘کو کشمیری میں منتقل کر کے نہ صرف اس ناول کو ایک نئی زبان میں قابلِ رسائی بنایا ہے بلکہ اسے ایک وسیع تر ادبی اور فکری تبادلے کا حصہ بھی بنا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا ثقافتی عمل ہے جو فاصلے کم کرتا ہے اور تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔کسی بھی کامیاب ترجمے کی اصل طاقت اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اصل متن کی جذباتی اور فکری گہرائی کو کس حد تک منتقل کر پاتا ہے۔ اس لحاظ سے، مسعودی کا کشمیری ترجمہ ایک قابلِ قدر مثال ہے، جہاں انہوں نے جوشی کے اصل متن کے جوہر،اس کے احساس، معنی اور روح،کو بڑی دیانتداری کے ساتھ برقرار رکھا ہے۔یہ ترجمہ محض الفاظ کی نقل نہیں بلکہ ایک نئی تخلیق ہے جو اصل متن کو ایک نئے لسانی ماحول میں نئی زندگی فراہم کرتا ہے۔ مترجم نے نہ صرف متن کو منتقل کیا بلکہ اسے اس طرح دوبارہ تخلیق کیا ہے کہ وہ کشمیری قاری کے لیے بھی اسی شدت اور اثر کے ساتھ قابلِ فہم ہو۔اصل متن کی پیچیدگی،جس میں بیانیہ کی تبدیلیاں، فکری گہرائی اور ساختی تنوع شامل ہے،کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج تھا۔ تاہم اس ترجمے میں یہ تمام عناصر بڑی مہارت کے ساتھ منتقل کیے گئے ہیں۔ خاص طور پر جہاں متن خارجی منظرنگاری سے اچانک داخلی خودکلامی کی طرف جاتا ہے، وہاں مترجم نے اس بہاو ¿ کو بغیر کسی رکاوٹ کے قائم رکھا ہے۔اس ترجمے میں اصل متن کی ابہام اور کھلا پن بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔ مترجم نے اسے آسان بنانے یا وضاحتوں سے بھرنے کے بجائے قاری کو وہی تجربہ فراہم کیا ہے جو اصل متن میں موجود ہے،یعنی ایک ایسا ادبی تجربہ جو قاری سے فکری شرکت کا تقاضا کرتا ہے۔یہ ترجمہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کشمیری زبان نہ صرف روزمرہ اظہار کے لیے بلکہ پیچیدہ اور بلند پایہ ادبی تخلیقات کے لیے بھی ایک مضبوط ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف ایک اہم ناول کو نئی زندگی ملی بلکہ کشمیری ادب کے امکانات بھی وسیع ہوئے ہیں۔
وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو اس طرح کے تراجم ہندوستان جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں ادبی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ مختلف زبانوں اور روایتوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں اور فکری و ثقافتی تبادلے کو ممکن بناتے ہیں۔آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ’ ’کیاپ‘‘کا کشمیری ترجمہ صرف ایک ادبی کارنامہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی پیش رفت بھی ہے۔ یہ ترجمہ قاری کو ایک نئے تجربے سے روشناس کراتا ہے،ایک ایسا تجربہ جو زبان، ثقافت اور ادب کی سرحدوں کو عبور کرتا ہے۔
(سنجے پنڈیتا ایک شاعر، کالم نگار اور تنقیدی تجزیہ نگار ہیں۔)
[email protected]