بلال احمد پرے
مسلمانوں کو ہر روز پانچ بار اذان کے ذریعے اللہ کی طرف بلایا جاتا ہے ۔ جس میں اللہ کی شان، بلندی، معبود برحق، گواہی رسول ؐاور فلاح و بہبودی کی نِدا سنائی جاتی ہے ۔ جب ہر طرف اللہ اکبر کے کلمات اذانِ بلالی سے گونج اٹھتی ہے اور اللہ کے معبود ہونے کی گواہی پر بند ہو جاتی ہے، تو ہر طرف ایک نرالا سماں پیدا ہو جاتا ہے ۔ خوفِ خدا رکھنے والے بندے فوراً اپنے قدم مسجد کی طرف لے چلتے ہیں ،جبکہ ناراضگی مول لینے والوں کے دِل پر مہر لگی ہوتی ہےاور وہ اللہ کے دَر کی طرف نہیں جا پاتے ہیں ۔اذان تو صرف عبادت کے وقت کی اطلاع نہیںبلکہ توحید و رسالت کا بلند اعلان ہے، یہ مسلمانوں کی اپنی شناخت ہے، یہ شیطانی اثرات کو دور کرنے کا ذریعہ اور نماز کے لیے بلانے کا اعلان ہے ۔ اذان فرض نمازوں کے لیے مخصوص الفاظ کے ساتھ دن میں پانچ مرتبہ دی جاتی ہےجو ایمان کو تازہ کرنے کی میٹھی صَدا ہے ، بخشش کی بشارت اور جنت کا وعدہ ہے ۔ یہ صَدا زمین پر اللہ کی کبریائی کا اعلان ، اللہ کی طرف رشتہ جوڑنے کا ذریعہ اور کامیابی کی دعوت ہے ۔حالانکہ ربّ کی ذات کو پکارنے سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جنہوں نے گناہوں سے بھرے پڑے ہوں اور اللہ کے دَر پر آنے سے خوف محسوس کرتے ہیں ۔ چونکہ ربّ کی ذات تو نہایت رحیم و کریم ہے ۔ اس کی شان نرالی، اس کا مقام سب سے اعلیٰ و بالا، اس کی بادشاہی و مملکت سب سے بڑھ کر ہے ۔
ہمارا یہ یقین ہے کہ وہی ربّ ہمارے گناہوں کو بخشنے والا ہے ۔ وہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور وہی گناہوں پر مواخذہ کر سکتا ہے ۔گہرائی سے دیکھا جائے تو اللہ کے دَر کے بغیر ہمارا کوئی دوسرا دَر نہیں ۔ لہٰذا ہم اُسے کیوں نہ پُکارے جو اس قدر رحیم و کریم ہے کہ اپنے بندے کے پہاڑ کے مثل گناہوں کو بھی اپنی شان ِ غفاری سے مٹا دیتا ہے۔ظاہر ہے کہ اللہ کے بندے پر بشریت سوار ہے، وہ اسی بشریت کے تحت گناہ کرتا ہے ۔ لیکن اللہ پاک نے اپنے بندے کے لئے توبہ کا دروازہ کُھلا رکھا ہے اور اس طرح سے اپنے بندے کو اپنی زندگی بدلنے کا موقع فراہم کر دیتاہے ، بشرطیکہ بندہ اپنے خطاؤں، غلطیوں اور گناہوں پر نادر و شرمسار ہو اور اللہ پاک سے اپنا رشتہ جوڑنے کا متلاشی ہو ۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ حضرت جبیب بن حارثؓ حضور اکرمؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپؐ سے عرض کیا، ’’ میں ایک بہت گناہ کرنے والا آدمی ہوں ۔ آپؐ نے فرمایا کہ توبہ کرلو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ’’میں توبہ بھی کرتا ہوں، مگر پھر گناہ ہو جاتا ہے ۔‘‘ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ جب تمسے گناہ ہو جائے تو تم توبہ کر لیا کرو ۔ حضرت جبیب نے عرض کیا کہ اس طرح تو میرے گناہ بہت ہو جائیں گے ۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اے جبیب بن حارثؓ اللہ کی بخشش تیرے گناہوں سے بہت زیادہ ہے ۔ (گناہوں کے پہاڑ، بخشش کا سیلاب۔ ص/43)۔اس طرح اسلام میں توبہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے ، جو گمراہی، نافرمانی و برائی سے راہ راست کی طرف لوٹ کر آنے کا ذریعہ ہے اور اللہ کی طرف پلٹ کر آنے کا راستہ ہے ۔ توبہ، گناہوں سے راہ نجات پانے کی پہلی سیڑھی ہے،اس سے اپنے خالق و مالک سے دوبارہ ناطہ جوڑنے کا موقع ملتا ہے۔ ماں سے بڑھکر پیار و محبت سے پیش آنے والا ربّ اپنے بندے کے انتظار میں ہوتا ہے اور اُسے توبہ کے بہانے اپنی رحمتوں سے ڈھانپ کرصاف و پاک کر دیتا ہے۔قرآن و حدیث میں جابجا توبہ و استغفار کی تلقین کی گئی ہے اور بار بار بندے سے توبہ کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔دراصل اللہ تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ بندہ بُرائی کر کے توبہ کرے، اپنے ربّ کی طرف لوٹ آئے،اپنے گناہوں پر نادم رہے تو بدلے میں مہربان ربّ معاف فرما کر اُ سے پاک کرے گا، جیسے وہ زندگی میں کبھی گناہ کے قریب بھی نہیں گیا ہوا ہوگا۔
اے اللہ کی رحمتوں سے نا امید ہونے والے، اللہ سے ناراضگی اختیار کرنے والے، شراب پینے والے، جُوا کھیلنے والے، والدین کی نافرمانی کرنے والے، رشوت لینے والے، حرام کمائی میں مست ہونے والے، سود کھانے والے، اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے دوڑنے والے، اپنے نفس کو کھیل کود کی جانب مائل کرنے والے، ساری عمر معاصی و شہوات میں گزارنے والے، قرآن سے رشتہ توڑنے والے، اللہ کے رسول ؐ کو چھوڑ کر غیروں کے پیچھے چلنے والے، مسجد سے دور بھاگنے والے، دنیا میں مگن رہنے والے، موت کو بُھلا بیٹھنے والے، چوری و بدکاری کرنے والے، خالقِ کائنات کا تصور بھولنے والے، تیرا ربّ نہایت رحم والا ہے، رحیم ہے، کریم ہے، غفار ہے، مہربان ہے، مغفرت والا ہے، بخشنے والا ہے،اور وہ معاف کرنا پسند فرماتا ہے ۔ ذرا غو ر کرو،جب انسان گناہ کا پتلا ہی ہے تو گناہ ہونے پر کس قدر توبہ و استغفار کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ اللہ کی ناراضگی، غضب، قہر، پکڑ و سزا کے مستحق ہونے سے محفوظ رہ سکیں۔یاد رکھو، _ جو لوگ توبہ کو ٹالتے رہتے ہیں وہ بد نصیب، بد قسمت اور ہلاک ہونے والے لوگ ہیں ۔ اس لئے ہر ایک انسان پر یہ لازم ہے کہ وہ مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ و استغفار کرتا رہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔اللہ کی مغفرت کا سمندر انسان کے گناہ اور معصیت سے کہیں زیادہ وسیع اور بڑھا ہے۔ انسان اپنے گناہ اور نافرمانی سے اتنا آگے بڑھنے پر قدرت نہیں رکھتا کہ اس کے گناہ کا سمندر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سمندر سے بڑھ جائے۔اس وقت معاشرے سے گناہوں کے ختم نہ ہونے کا اہم سبب توبہ و استغفار کی طرف توجہ نہ ہونا ہے۔ آج کے مسلمان نے یہ طے کر لیا ہے کہ گناہ کرنے بھی ہیں اور معاف کروانے بھی نہیں ہیں ۔شائد انسان اس کی ضرورت نہیں سمجھتا؟ اور گناہ کرنا نہیں چھوڑتا۔ گناہ کے ہونے سے دل کو زنگ لگتا ہے تو اس زنگ کو ہٹانے کے لئے توبہ و استغفار بحیثیت ریگ مال اور کثرت ذکر اس کی بطور روغن ہیں۔ اس لئے ہر شخص پر توبہ فرض ہے، نہیں تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ کا ہر وقت خطرہ ہے۔ لہٰذا ہم سب کو انفرادی طور پر توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔ ایمان و عمل صالحات کو محفوظ کرنے، جنت کی طلب اور جہنم سے نجات پانےکے لئے توبہ و استغفار کرنا لازمی ہے ۔
اور گناہ سے مکمل اجتناب کرکے اللہ اوراللہ کے آخری رسولؐ کی خوشنودی حاصل کرکے ہی ہم اپنی دینی و دنیاوی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
رابطہ ۔ 9858109109