آصف حسین کشمیری
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، فلسفے مرتب ہوئے اور مختلف تہذیبوں نے اپنے فکری تصورات کی بنیاد پر قوانین اور ضابطے قائم کیے، مگر جو جامعیت، تاثیر اور دوام قرآنِ مجید کو حاصل ہے وہ کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوا۔ قرآنِ کریم وہ آسمانی صحیفہ ہے جسے ربِّ کائنات نے اپنے آخری رسول حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا تاکہ انسانیت کو جہالت، ظلمت اور فکری انتشار سے نکال کر ہدایت اور بصیرت کی روشن راہوں پر گامزن کیا جا سکے۔قرآن محض ایک مذہبی متن نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے۔ یہ فرد کی اخلاقی تعمیر سے لے کر معاشرے کی اجتماعی تنظیم تک ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن خود کو نور، ہدایت، فرقان اور شفاء قرار دیتا ہے۔ اس کتابِ الٰہی نے نہ صرف انسان کی روحانی تربیت کی بلکہ تاریخ میں ایسے معاشرے بھی تشکیل دیے جن میں عدل، رحم اور انسانیت کی اعلیٰ اقدار جلوہ گر ہوئیں۔تاہم ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وقت کے ساتھ بہت سے مسلمانوں کا قرآن کے ساتھ تعلق رسمی ہوتا چلا گیا۔ قرآن گھروں میں موجود ہے، اس کی تلاوت بھی ہوتی ہے، لیکن اس کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ قرآنِ مجید کے کچھ بنیادی حقوق ہیں جنہیں ادا کرنا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔علمائے امت نے قرآن کے حقوق پر تفصیلی بحث کی ہے، لیکن بنیادی طور پر پانچ ایسے حقوق ہیں جو قرآن کے ساتھ حقیقی تعلق کی بنیاد بنتے ہیں۔ اگر مسلمان ان حقوق کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔
پہلا حق۔ قرآنِ مجید پر کامل ایمان:قرآن کا پہلا اور بنیادی حق یہ ہے کہ اس پر کامل ایمان رکھا جائے۔ ایمان کا مفہوم صرف یہ نہیں کہ انسان زبان سے اقرار کرے بلکہ اس کے دل میں یہ پختہ یقین بھی ہو کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے۔یہ ایمان انسان کی فکر کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ جب ایک مسلمان یہ یقین کر لیتا ہے کہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہدایت ہے تو پھر وہ اس کے احکام کو اپنی زندگی کا معیار بنا لیتا ہے۔ قرآن پر ایمان دراصل انسان کو اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی اللہ کی رضا کے حصول میں ہے۔قرآن پر ایمان رکھنے والا شخص اپنی سوچ، اخلاق اور معاملات میں ایک خاص توازن پیدا کرتا ہے۔ اس کے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک مقصد کے ساتھ گزارنے لگتا ہے۔
دوسرا حق۔ قرآنِ مجید کی تلاوت: قرآن کا دوسرا عظیم حق اس کی تلاوت ہے۔ تلاوت قرآن کے ساتھ روحانی تعلق قائم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ جب انسان قرآن کی آیات کو پڑھتا ہے تو اس کے دل میں سکون اور طمانیت پیدا ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک نئی روحانی تازگی محسوس ہوتی ہے۔احادیثِ نبویہ میں قرآن کی تلاوت کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کے ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ اس طرح قرآن کی تلاوت نہ صرف ایک عبادت ہے بلکہ انسان کے روحانی درجات کو بلند کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔لیکن تلاوت کا اصل حسن اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب اسے ادب، خشوع اور ترتیل کے ساتھ پڑھا جائے۔ قرآن ہمیں ہدایت دیتا ہے کہ اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا جائے تاکہ اس کے الفاظ اور معانی دل پر اثر انداز ہو سکیں۔قرآن کی باقاعدہ تلاوت دراصل دل کو اللہ کی یاد سے زندہ رکھتی ہے اور انسان کو دنیا کی بے مقصد مصروفیات کے درمیان ایک روحانی توازن عطا کرتی ہے۔
تیسرا حق۔ قرآنِ مجید کو سمجھنا :قرآن کا تیسرا بنیادی حق یہ ہے کہ اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن مجید کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر غور و فکر بھی کیا جائے – اس کی آیات انسان کو تدبر اور تفکر کی دعوت دیتی ہیں۔جب انسان قرآن کے معانی اور پیغام کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ اخلاق، معاشرت، عدل، معاشی اصول اور انسانی حقوق جیسے موضوعات بھی قرآن کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان اس کے ترجمہ اور مستند تفاسیر کا مطالعہ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اہلِ علم کی صحبت اور علمی مجالس سے فائدہ اٹھانا بھی نہایت مفید ہے۔جب قرآن کا پیغام انسان کے ذہن اور دل میں اتر جاتا ہے تو اس کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور اس کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
چوتھا حق۔ قرآنِ مجید پر عمل:قرآن کا چوتھا اور نہایت اہم حق اس پر عمل کرنا ہے۔ قرآن کا اصل مقصد انسان کی عملی زندگی کی اصلاح ہے۔ اگر قرآن کو صرف پڑھا جائے لیکن اس کے احکام کو زندگی میں نافذ نہ کیا جائے تو اس کا حقیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قرآن کی عملی تفسیر تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، معاملات اور معاشرتی طرزِ زندگی قرآن کی تعلیمات کا عملی نمونہ تھے۔ اسی لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا۔جب ایک مسلمان قرآن کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرتا ہے تو اس کے اندر دیانت، عدل، صبر، تحمل اور رحم جیسی اعلیٰ صفات پیدا ہوتی ہیں۔ اس طرح ایک فرد کی اصلاح سے پورے معاشرے کی اصلاح کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
پانچواں حق:قرآن کے پیغام کو عام کرناقرآن کا پانچواں عظیم حق یہ ہے کہ اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچایا جائے۔ قرآن صرف ایک قوم یا ایک زمانے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی تعلیم کو آگے منتقل کرنا ایک بڑی فضیلت اور ذمہ داری ہے۔ہر مسلمان اپنے دائرۂ اثر میں اس خدمت کو انجام دے سکتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو قرآن سے روشناس کرائیں، اساتذہ اپنے شاگردوں کو قرآن کی تعلیم دیں اور معاشرے کے باشعور افراد قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے علمی اور عملی کوششیں کریں۔
جب قرآن کی تعلیمات معاشرے میں عام ہوتی ہیں تو اخلاقی اقدار مضبوط ہوتی ہیں اور ایک متوازن اور صالح معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔اگر تاریخ کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے قرآن کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کیا تو ان کی علمی، فکری اور تہذیبی زندگی میں ایک نئی توانائی پیدا ہوئی۔ ابتدائی اسلامی صدیوں میں قرآن ہی وہ سرچشمہ تھا جس سے علم، حکمت اور تہذیبی ارتقا کی نہریں پھوٹیں۔ مدارس، کتب خانے، علمی مراکز اور تحقیق کے عظیم ادارے اسی قرآنی شعور کی بنیاد پر وجود میں آئے۔ اس دور کے علماء اور مفکرین نے قرآن کی آیات میں غور و فکر کرتے ہوئے نہ صرف دینی علوم کو فروغ دیا بلکہ فلسفہ، طب، ریاضی اور فلکیات جیسے علوم میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
قرآن نے انسان کو کائنات پر غور کرنے کی دعوت دی اور یہی دعوت مسلمانوں کے اندر تحقیق اور جستجو کا جذبہ بیدار کرنے کا سبب بنی۔ اس طرح قرآن محض ایک روحانی کتاب نہیں رہا بلکہ انسانی تہذیب کی تعمیر میں بھی ایک فعال قوت کے طور پر سامنے آیا۔آج کے دور میں جب دنیا فکری انتشار، اخلاقی بحران اور روحانی بے چینی کا شکار ہے، ایسے میں قرآن کی تعلیمات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ جدید تہذیب نے انسان کو بے شمار مادی سہولتیں فراہم کی ہیں، مگر اس کے باوجود سکونِ قلب اور اخلاقی استحکام کی کمی محسوس کی جاتی ہے۔ قرآن انسان کو ایک ایسا متوازن نظامِ حیات عطا کرتا ہے جس میں روحانیت، اخلاق اور سماجی ذمہ داری کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
قرآن کی تعلیمات انسان کو یہ شعور دیتی ہیں کہ زندگی صرف مادی کامیابیوں کا نام نہیں بلکہ اس کا ایک بلند اخلاقی مقصد بھی ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو سمجھ لیتا ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ وہ ذاتی مفاد سے بلند ہو کر عدل، دیانت اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کے ساتھ تعلق صرف انفرادی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ اجتماعی سطح پر بھی اس کے فہم کو فروغ دیا جائے۔ تعلیمی اداروں، دینی مراکز اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ قرآن کے مطالعہ اور اس کے پیغام کو عام کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ جدید ذرائع ابلاغ کو بھی اس مقصد کے لیے مثبت طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔بالخصوص نوجوان نسل کو قرآن سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر نوجوانوں کے اندر قرآن کے فہم اور اس کی اخلاقی تعلیمات کا شعور بیدار ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنی شخصیت کو سنوار سکتے ہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، بصیرت اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ لیکن اس نعمت کی حقیقی قدر اسی وقت ممکن ہے جب ہم اس کے حقوق کو پہچانیں اور انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ ایمان، تلاوت، فہم، عمل اور اس کے پیغام کی اشاعت ،یہ وہ پانچ ستون ہیں جن پر قرآن کے ساتھ ایک زندہ اور مضبوط تعلق قائم ہوتا ہے۔
اگر مسلمان اخلاص کے ساتھ ان اصولوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان کی انفرادی زندگی میں بھی نور پیدا ہوگا اور اجتماعی زندگی بھی عدل، اخلاق اور خیر کے سانچے میں ڈھل جائے گی۔ آج کی دنیا میں جب فکری انتشار اور اخلاقی بحران بڑھتا جا رہا ہے، ایسے میں قرآن کی طرف رجوع ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو باوقار زندگی اور حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی فکر، کردار اور معاشرت کا حقیقی رہنما بنائیں، کیونکہ یہی وہ ابدی چراغ ہے جس کی روشنی میں انسانیت ہمیشہ اپنا راستہ تلاش کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔
(رابطہ۔ 9797888975)