محمد تسکین
بانہال/بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنان نے جمعرات کے روز بانہال کے میونسپل پارک میں پارٹی رہنما محمد سلیم بٹ کی گرفتاری اور علاقے میں ڈاکٹروں کی مسلسل قلت کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بانہال کے رکنِ اسمبلی سجاد شاہین کے پتلے نذرِ آتش کیے۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے اور خاص طور پر صحت کے شعبے کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بی جے پی رہنما محمد سلیم بٹ نے کہا کہ وہ عوام کے حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے احتجاج کے بعد رکنِ پارلیمان ڈاکٹر جتیندر سنگھ کی مداخلت سے محکمہ صحت حرکت میں آیا ہے۔ ان کے مطابق ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز جموں نے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال کے لیے ایک ڈاکٹر کی تعیناتی کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ مزید تین ڈاکٹروں کی تعیناتی کا عمل جاری ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ 21اپریل کو محمد سلیم بٹ نے ڈاکٹروں کی کمی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال کو کچھ دیر کے لیے بند کر دیا تھا، جس کے باعث خدمات عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ کی مداخلت اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کے بعد تالا کھول دیا گیا اور ہسپتال کی معمول کی سرگرمیاں بحال کر دی گئیں۔واضح رہے بعد ازاں22 اپریل کو پولیس نے محمد سلیم بٹ کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حراست میں لے لیا، تاہم بدھ کی شام انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
بانہال میں بی جے پی کارکنان کا احتجاج، عمر عبداللہ اور سجاد شاہین کے پتلے نذرِ آتش