روزگار
مومن فیاض احمد غلام مصطفی
دسویں اور بارہویں کے امتحانات کے اختتام کے ساتھ ہی طلبہ و طالبات کی زندگی ایک نہایت اہم مرحلے میں داخل ہو جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مستقبل کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ ایک درست فیصلہ انسان کو کامیابی کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے، جبکہ ایک غلط انتخاب کئی مشکلات اور پچھتاوے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئےضروری ہے کہ کیریئر کا انتخاب جذبات یا دوسروں کی تقلید کے بجائے سوچ سمجھ کر، اپنی دلچسپی، صلاحیت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے۔یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ کیریئر صرف نوکری نہیں بلکہ زندگی کا مستقل راستہ ہے۔ اسی راستے پر آپ کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانی ہیں اور اپنی شناخت بنانی ہے۔
اپنی دلچسپی کو کیسے پہچانیں؟ :اکثر طلبہ اس بات پر الجھن کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی دلچسپی کا صحیح اندازہ کیسے ہو۔ اس کے لئے چند آسان اور مؤثر طریقے یہ ہیں:
جس کام کو آپ بار بار خوشی کے ساتھ کرتے ہیں، وہی آپ کی اصل دلچسپی ہے۔جس مضمون کو پڑھتے وقت وقت کا احساس نہ ہو، وہ آپ کے لیے موزوں ہو سکتا ہے۔
فارغ وقت میں آپ کس سرگرمی کو ترجیح دیتے ہیں؟ (کمپیوٹر، لکھنا، ڈرائنگ، بات چیت)۔آپ کن موضوعات پر گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں؟اساتذہ اور والدین سے اپنی خوبیوں کے بارے میں رائے لیں۔یاد رکھیں:دلچسپی وہ طاقت ہے جو انسان کو مسلسل آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
Aptitude Test (ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ) کیا ہے؟
ایپٹیٹیوڈ ٹیسٹ دراصل ایک نفسیاتی (Psychological) ٹیسٹ ہوتا ہے، جسے ماہرین ِ نفسیات سائنسی اصولوں کی بنیاد پر تیار کرتے ہیں۔ اس کا مقصد طلبہ کی ذہنی صلاحیت، فطری رجحان، دلچسپی اور مسئلہ حل کرنے کی قابلیت کو جانچنا ہوتا ہے۔اس ٹیسٹ کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ طالب علم کس شعبے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔
اس کی قدرتی صلاحیت کس میدان میں بہتر ہے۔وہ کس قسم کے کام میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔سادہ الفاظ میںیہ ایک نفسیاتی آئینہ ہے جو انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو نمایاں کرتا ہے۔آج کے دور میں صحیح کیریئر کے انتخاب کے لیے یہ ٹیسٹ نہایت مفید ثابت ہو رہا ہے، خاص طور پر ان طلبہ کے لیے جو کنفیوژن کا شکار ہوتے ہیں۔
دلچسپی، محنت اور لگن کا کردار: کامیابی کا راز صرف صحیح کیریئر کے انتخاب میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ محنت اور لگن بھی ضروری ہے۔دلچسپی کام کو آسان بنا دیتی ہے۔محنت خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتی ہے۔لگن ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر دیتی ہے۔یاد رکھیں:’’محنت اور مستقل مزاجی کے بغیر کوئی بھی خواب حقیقت نہیں بن سکتا۔‘‘ کیا دوستوں کی تقلید کرنی چاہیے؟یہ ایک عام غلطی ہے کہ طلبہ اپنے دوستوں کو دیکھ کر کیریئر کا انتخاب کرتے ہیں۔
’’میرے دوست نے سائنس لی ہے، میں بھی لوں گا‘‘۔’’سب انجینئرنگ کر رہے ہیں، میں بھی وہی کروں گا،‘‘یہ طریقہ نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ ہر انسان کی صلاحیت، دلچسپی اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔اس لیے ہمیشہ اپنی پہچان اور اپنی صلاحیت کے مطابق فیصلہ کریں، نہ کہ دوسروں کی نقل کر کے۔
آرتس (Arts) کے لیے ضروری صلاحیتیں:آرٹس ایک وسیع اور تخلیقی میدان ہے، جو ان طلبہ کے لیے موزوں ہے جن میں: لکھنے اور بولنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ
(Creative Thinking)۔سماجی، سیاسی اور ادبی موضوعات میں دلچسپی، لوگوں سے بات چیت اور سمجھنے کی صلاحیت۔
اہم کیریئرز:ٹیچر،وکیل، صحافی، سوشل ورکر، سول سروسز (UPSC/MPSC)، کامرس (Commerce) کے لیے ضروری صلاحیتیں: کامرس ان طلبہ کے لیے بہترین ہے، جنہیں حساب کتاب اور بزنس میں دلچسپی ہو۔ ریاضی اور حساب میں دلچسپی، تجزیاتی سوچ، کاروباری ذہن، پلاننگ اور منیجمنٹ کی صلاحیت۔
اہم کیریئرز:CA,CS بینکنگ بزنس مینجمنٹ، اکاؤنٹنٹ، سائنس (Science) کے لیے ضروری صلاحیتیں:سائنس ایک چیلنجنگ مگر باوقار شعبہ ہے، جو ان طلبہ کے لیے موزوں ہے جن میںسائنسی سوچ،مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت،ریاضی اور سائنس میں دلچسپی،محنت اور صبر۔
اہم کیریئرز: ڈاکٹر، انجینئر، نرسنگ، فارمیسی، ریسرچ۔ کس کورس کی ڈیمانڈ زیادہ ہے؟آج کے دور میں مختلف شعبوں کی مانگ بڑھ رہی ہے، جیسے:
میڈیکل فیلڈ (MBBS, Nursing, Pharmacy)،آئی ٹی (Software, AI, Data Science)،کامرس (CA, Banking)، اسکل بیسڈ کورسز (Digital Marketing, Graphic Designing)، لیکن یاد رکھیں:صرف ڈیمانڈ دیکھ کر فیصلہ نہ کریں، اپنی دلچسپی کو ترجیح دیں۔
والدین، اساتذہ اور سماج کا کردار: والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے بہترین دوست بنیں، ان کی رہنمائی کریں اور ان پر اپنی مرضی نہ تھوپیں۔اساتذہ کرام کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو عملی زندگی کے تقاضوں سے آگاہ کریں اور ان کی صلاحیتوں کو نکھاریں۔سماج کو چاہیے کہ وہ تعلیم اور مثبت رہنمائی کو فروغ دے۔بچے ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، آج کے یہی بچے کل کے ڈاکٹر، انجینئر، نرس، استاد اور افسر بنیں گے۔
سنہری اصول :جلد بازی میں فیصلہ نہ کریں،مکمل معلومات حاصل کریں، کیریئر کونسلر سے رہنمائی لیں، اپنی صلاحیت کو پہچانیں، وقت کا صحیح استعمال کریں، نئی مہارتیں (Skills) سیکھیں۔امتحانات کے بعد کا وقت زندگی کا سب سے قیمتی وقت ہوتا ہے۔ اگر اس وقت صحیح فیصلہ کر لیا جائے تو مستقبل روشن ہو جاتا ہے۔ طلبہ و طالبات کو چاہیے کہ وہ اپنی دلچسپی، صلاحیت، محنت اور صحیح رہنمائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیریئر کا انتخاب کریں۔اللہ تعالیٰ تمام طلبہ و طالبات کو صحیح فیصلے کرنے، محنت کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(رابطہ۔9890476581)