میر شوکت
عدالت کے کمرے میں اس روز ایک عجیب سی نمی تھی۔ایسی نمی جو صرف دیواروں میں نہیں، لفظوں میں بھی اتر آتی ہے۔ پنکھے کی مدھم گردش کے ساتھ فضا میں ایک غیر مرئی بوجھ تیر رہا تھا، جیسے فیصلوں کی تاریخ خود اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہو۔ سامنے مسندِ عدالت پر قانون اپنی پوری سنجیدگی کے ساتھ جلوہ افروز تھا اور اس کے روبرو ایک ایسا شخص کھڑا تھا جو محض ایک ملزم نہیں تھا۔بلکہ ایک سوال، ایک استعارہ اور شاید ایک ہنر مند کہانی کار بھی۔ وہ تھا،مگر اس لمحے اس کا تعارف اس کے نام سے زیادہ اس کے انداز سے ہو رہا تھا۔یہ کوئی معمولی سماعت نہیں تھی۔ یہ قانون کی کتابوں اور سیاست کی زبان کے درمیان ایک ایسا مکالمہ تھا جس میں ہر لفظ اپنے ظاہر سے زیادہ اپنے باطن میں معنی رکھتا تھا۔ وہ بول رہا تھا۔نہ وکیل کی طرح، نہ صرف ایک ملزم کی طرح۔بلکہ ایک ایسے شخص کی طرح جو جانتا ہو کہ عدالت کی چار دیواری سے باہر بھی ایک دنیا ہے اور اصل مقدمہ شاید وہیں سنا جائے گا۔
الفاظ اس کے ہونٹوں سے یوں نکل رہے تھے جیسے کسی نے انہیں پہلے سے تراش کر رکھ دیا ہو۔ جملوں میں روانی تھی، لہجے میں ٹھہراؤ اور انداز میں ایک عجیب سا اعتماد۔ مگر اس اعتماد کے پیچھے ایک اور چیز بھی تھی۔ایک خاموش حکمتِ عملی۔ وہ قانون کو قائل کرنے نہیں آیا تھا، وہ قانون کے گرد ایک سوالیہ نشان کھینچنے آیا تھا۔
جب اس نے نظر اٹھا کرجج کی سمت دیکھا اور آہستگی سے کہا:’’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھے منصفانہ سماعت نہیں ملے گی۔‘‘
تو یہ محض ایک جملہ نہیں تھا۔یہ ایک لمحہ تھا، ایک ٹھہراؤ، جس میں عدالت کی فضا جیسے اپنے ہی وزن تلے دب گئی ہو۔یہ الزام نہیں تھا، مگر الزام سے کم بھی نہیں تھا۔ یہ شکایت نہیں تھی، مگر شکایت سے زیادہ تھی۔ اس ایک جملے نے کٹہرے کی سمت بدل دی۔ملزم اپنی جگہ سے ہٹا نہیں، مگر جج بھی اب محض منصف نہ رہے۔ گویا ایک غیر مرئی توازن ٹوٹ گیا تھا۔
عدالت میں ثبوت پیش کئے جاتے ہیں، دلائل دئیے جاتے ہیں، قوانین کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں ایک اور چیز پیش کی گئی،’’احساس‘‘ اور احساس وہ شے ہے جسے نہ ناپا جا سکتا ہے، نہ جھٹلایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ہتھیار ہے جو دلیل سے زیادہ خاموش، مگر اثر میں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے۔کیا عدالت میں احساس کی بنیاد پر فیصلے کئے جا سکتے ہیں؟ یا کیا محض ایک فریق کے ذہنی تاثر سے انصاف کے پورے عمل کو مشکوک قرار دیا جا سکتا ہے؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں دیا جائے تو پھر انصاف ایک اصول نہیں رہے گا، بلکہ ایک نفسیاتی کیفیت بن جائے گا۔جو ہر شخص کے ساتھ بدلتی رہے گی۔
یہ وہ نازک مقام ہے جہاں قانون اور بیانیہ ایک دوسرے میں گڈمڈ ہونے لگتے ہیں۔ کیجریوال نے اسی سرحد پر کھڑے ہو کر کھیل کھیلا۔ایسا کھیل جس میں لفظ نرم تھے مگر اثر سخت اور جملے شائستہ تھے مگر مفہوم میں ایک خاموش چیلنج لیے ہوئے۔
یہ ماننا پڑے گا کہ اس کے دلائل میں ترتیب تھی، اس کی گفتگو میں اثر تھا اور اس کے لہجے میں وہ کشش تھی جو سامع کو متوجہ رکھتی ہے۔ مگر یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے۔کیا ہر مؤثر بات سچ ہوتی ہے؟ یا بعض اوقات سچ سے زیادہ مؤثر وہ کہانی ہوتی ہے جو سچ کی طرح سنائی جائے؟کیونکہ حقیقت ہمیشہ خاموش ہوتی ہے، جبکہ بیانیہ بولتا ہے،زور سے، مسلسل اور اس یقین کے ساتھ کہ اسے سنا جائے گا۔
یہ مقدمہ بظاہر ایک فرد اور ریاست کے درمیان تھا، مگر درحقیقت یہ دو بیانیوں کی جنگ تھی۔ ایک بیانیہ جو دستاویزات، تحقیقات اور قانونی دفعات پر قائم تھا۔بھاری، سنجیدہ، اور قدرے سست۔ دوسرا بیانیہ جو الفاظ، تاثر اور عوامی نفسیات پر مبنی تھا،تیز، رواں اور اثر انگیز۔عدالت اس بیچ کھڑی تھی،ایک ایسے پل کی طرح جس پر دونوں سمتوں سے دباؤ تھا۔ ایک طرف قانون کی ذمہ داری، دوسری طرف اعتماد کا بوجھ اور یہی وہ لمحہ تھا جہاں عدالت کو فیصلہ سنانے سے پہلے خود کو ثابت کرنا پڑا۔
اگر ایک ملزم عدالت میں کھڑے ہو کر یہ کہہ دے کہ اسے انصاف نہیں ملے گا، تو یہ محض اس کا ذاتی خوف نہیں رہتا،یہ پورے نظام کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ اور اگر اس چیلنج کو بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے قبول کر لیا جائے تو یہ ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔کل ہر ملزم یہی کہے گا۔ ہر مقدمہ ایک نئی بحث بن جائے گا۔ ہر جج ایک ممکنہ سوالیہ نشان ہوگا اور عدالتیں فیصلے دینے کے بجائے اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں گی۔یہ وہ مقام ہوگا جہاں انصاف کمزور نہیں، بلکہ بے معنی ہو جائے گا۔مگر اس ساری تصویر میں ایک اور پہلو بھی ہے۔انسانی نفسیات کا۔ ایک شخص جب خود کو گھرا ہوا محسوس کرتا ہے، تو وہ صرف اپنے دفاع میں نہیں بولتا، وہ اپنے لیے ایک کہانی بھی تخلیق کرتا ہے۔ ایسی کہانی جس میں وہ خود کو مظلوم دیکھتا ہے اور نظام کو ایک طاقتور مخالف کے طور پر۔
یہ کہانی ہمیشہ مکمل سچ نہیں ہوتی، مگر مکمل جھوٹ بھی نہیں ہوتی۔ یہ ان دونوں کے درمیان کہیں جنم لیتی ہے۔جہاں حقیقت اور تاثر ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیںاور یہی وہ جگہ ہے جہاں سامع اُلجھ جاتا ہے۔وہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ وہ جو سن رہا ہے، وہ دلیل ہے یا ڈرامہ، سچ ہے یا منظر نگاری۔عدالت کا کمرہ آہستہ آہستہ خالی ہو گیا۔ لوگ اپنی اپنی رائے کے ساتھ باہر نکل گئے۔ مگر کچھ چیزیں وہیں رہ گئیں۔دیواروں میں، فضا میں اور شاید ان لفظوں میں بھی جو ابھی تک گونج رہے تھے۔
ایک سوال،جو سادہ نہیں تھا۔کیا وہ شخص واقعی انصاف مانگ رہا تھا؟یا وہ انصاف کے تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر رہا تھا؟یہ سوال شاید آج بھی جواب طلب ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا۔ کیونکہ انصاف صرف قانون کا موضوع نہیں، بلکہ یقین کا بھی مسئلہ ہے اور جب یقین میں دراڑ پڑ جائے تو سب سے مضبوط نظام بھی کمزور محسوس ہونے لگتا ہے۔مگر یہاں ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ہر سوال درست نہیں ہوتا اور ہر شک جائز نہیں ہوتا۔ اگر سوال اٹھانے کا دروازہ بغیر کسی حد کے کھول دیا جائے تو یہ دروازہ انصاف کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔یہی وہ باریک لکیر ہے جسے عبور کرنا آسان ہے، مگر واپس آنا مشکل۔
اس مقدمے نے ہمیں یہ سکھایا کہ الفاظ صرف اظہار کا ذریعہ نہیں ہوتے، وہ ہتھیار بھی بن سکتے ہیں اور بعض اوقات سب سے نرم جملہ سب سے گہرا زخم دے جاتا ہے۔یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ شاید اس کا فیصلہ عدالت میں ہو جائے، مگر اس کی بازگشت سماج میں گونجتی رہے گی۔ لوگ اسے اپنے اپنے زاویے سے دیکھیں گے،کوئی اسے جرأت کہے گا، کوئی چال، کوئی سچ اور کوئی محض ایک خوبصورت فریب۔مگر ایک بات طے ہے،اس دن عدالت میں صرف ایک مقدمہ نہیں سنا گیا، بلکہ انصاف کے تصور کو ایک نئے زاویے سے دیکھا گیا۔اور شاید یہی اس پوری کہانی کا سب سے اہم پہلو ہے۔آخر میں بس اتنا کہ کبھی کبھی سچ ہار نہیں جاتا۔وہ صرف شور میں دب جاتا ہےاور جب شور ختم ہوتا ہے،تو سچ وہیں کھڑا رہتا ہے۔خاموش، مگر موجود۔مگر سوال یہ ہے،کیا ہم اسےسُننے کے لیے تیار ہیں؟