تبصرہ
ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
عرب و عجم کی بات کریں تو شیخ محمدعبدہ (عرب)اور سرسیّد احمد خان(عجم)جیسی عظیم شخصیت کا نام سنتے ہی مجھے احمد فراز ؔ شعر یاد آتا ہے:
شکوۂ ظلمت ِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
کیونکہ ان دو جلیل القدرشخصیات نے اپنے دور کی ظلمت ِ شب کا آنکھیں بندکرکے صرف شکوہ نہیں کیا بلکہ فکری ‘علمی ا و ر عملی سطح پر ایک ایسی روشن شمع جلائے جس کی روشنی سے ایک زمانہ روشن ہوا اور جو روشنی آج تک دل و دماغ کو منور کرتی آئی ہے۔ ان جیسی نابغہ ٔ روزگارشخصیات(Legendary personalities)کے فکری و عملی ‘علمی وادبی اور سماجی واصلاحی خدمات کے اعتراف کی ترجمانی علاّ مہ اقبالؔ کا مشہور شعرکرتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
ان دو دیدہ ور شخصیات (Visionary personalities) کے سنہرے کارناموں (Golden achievements) پر سیکڑوں کتابیں ‘مقالے اور مضامین منظرعام پر آئے ہیں ‘ یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے اور لازمی بھی ہے کیونکہ نئی نسل تک ایسی شخصیات کی معلومات پہنچنی چاہیے تاکہ وہ اپنے اسلاف کے روشن نام اور سنہرے کام سے واقف ہوجائے۔ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی معروف عربی استاذ ڈاکٹر عبدالحمید لون (سابقہ صدر شعبۂ عربی گورنمنٹ ڈگری کالج اننت ناگ کشمیر) کی تصنیف ’’ شیخ محمدعبدہ اور سرسیّد احمد خان۔ایک تقابلی مطالعہ‘‘ ہے۔ کتاب کا پیش لفظ معروف دانشور اور ادیب جناب ڈاکٹر جوہر قدوسی نے لکھا ہے‘ جبکہ عربی زبان وادب کے ممتاز استاذاور جیّدعالم و مفسر محترم ڈاکٹر مظفر حسین ندوی نے تقریظ تحریر کی ہے۔ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب ’پیش لفظ‘ میں شیخ محمدعبدہ اور سرسید احمد خان کا مختصر تعارف لکھنے کے بعد مصنف کے کام کو سراہتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر لون صاحب نے عرب و عجم سے تعلق رکھنے والی ان دو عبقری شخصیات ‘جن کے فکری اثرات و نقوش پوری دنیا کے مسلمانوں میں نسل در نسل مرتسم نظرآتے ہیں‘کا تقابلی مطالعہ پیش کرکے نہ صرف ایک منفرد موضوع پر تحقیق کا حق ادا کردیا ہے ‘بلکہ ایک اہم علمی تقاضے کو بھی پورا کیا ہے۔ ‘‘ (ص:09)
اور ڈاکٹر مظفر صاحب ’’تقریظ‘‘ میںشیخ محمد عبدہ اور سرسید احمد خان کی خدمات اور دردپیش چیلینجز کا احاطہ کرنے کے بعد مصنف کی علمی وادبی کاوش کی ستائش کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:’’ڈاکٹر عبدالحمید لون صاحب نے واقعتاً ایک اہم موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی ہے جس سے ان دو عبقری بزرگوں کی زندگی کے مختلف پہلو سامنے آئے ہیںاور ان کے خیالات وافکار سے پوری واقفیت حاصل ہوتی ہے۔‘‘ (ص: 14)
یہ کتاب تکبیر پبلی کیشنز گاؤکدل سرینگرنے2024ء میںشائع کی ہے۔ کتاب کے مضامین کی فہرست کچھ اس طرح سے ہیں:مقدّمہ(مصنف)‘باب اول:حیات محمد عبدہ وسرسید‘باب دوم : حصولِ تعلیم و تربیت‘باب سوم: کتب و تالیفات‘ باب چہارم: صحافتی خدمات‘باب پنجم: مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات‘ باب ششم : سرسید اور عبدہ کی تفسیری خدمات و آراء کا جائزہ ‘ باب ہفتم : خلاصہ ّ بحث ۔اس کے علاوہ آخرپر مصنف کا تعارف ڈاکٹر فردوس العمری نے پیش کیا ہے۔سرسیّداحمد خان اور شیخ محمدعبدہ کی پیدائش اور وفات کے درمیان چند برسوں کا فرق ہے۔ (سرسیّد احمدخان 1898۔1817ء اور شیخ محمد عبدہ1905۔ 1849ء) یعنی ایک ہی دور میں دونوں نے آنکھ کھولی اور اپنے اپنے مشن کا آغاز کیا۔کتاب کی ابتدا میں مصنف نے اجمال کے ساتھ دونوں شخصیات کی خدمات اور مماثلت کا عمدہ احاطہ کیا ہے:
’’جب ہم عصرحاضر میں اسلامی فکر اور تعلیمات کو رواج دینے والی شخصیات کا بڑی گہرائی و گیرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو یہ بات روز ِروشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ انسانی دنیا کو سامراجی طوفان سے نجات دلانےکے لئے’شیخ محمد عبدہ‘ اور ’سرسیّداحمد خان‘ نے انتھک محنت کی ہے اور ان دونوں حضرات کی تحریکوں نے دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان دونوں میں بڑی حد تک ہم آہنگی اورمماثلت بھی پائی جاتی ہے۔دونوں کا ملت اسلامیہ سے غیرمعمولی ربط رہا ہے۔ ملت اسلامیہ کی غفلتوں اور انحطاط وزوال کی وجہ سے دونوں مغموم اور فکرمند تھے۔ دونوں امتِ مسلمہ کو علمی ‘سیاسی اور معاشی طور پرقیادت کی سطح تک لانا چاہتے تھے اور دنیا کی دوسرے قوموں کے مقابلے میں انہیں بلندوبالا دیکھنے کے خواستگار تھے۔
بنا بریں دونوں اپنی قوم کو ذلت وپستی سے نکالنے کے لیے تادم مرگ جدوجہد کرتے رہے‘اصلاح و تجدد کے جملہ تقاضوں کو بحسن خوبی اپنے مخصوص انداز میں پورا کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر بڑے گہرے اثرات چھوڑے ۔‘‘ (ص:18)
حقیقت بھی یہی ہے کہ سرسید احمد خان اور شیخ محمد عبدہ کا بنیادی مدعا و مقصد یہ تھاکہ امتِ مسلمہ جدید زمانے کے نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سوچ و فکر میں تبدیلی لائے اور عصری علوم سیکھنے کی طرف متوجہ ہوجائے تاکہ وہ مستقبل میں سراٹھا کر جی سکے۔ دونوں شخصیات کے دورپر نظر ڈالی جائے تو دونوں خطوں کی سیاسی و سماجی صورتحال تقریباََ یکساں تھی ۔ ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کا آفتاب غروب ہو چکا تھا اور انگریزی اقتدار کا سورج طلوع ہوچکا تھا۔جس کی زد پر زیادہ تر مسلمان ہی تھے کیونکہ انہیں کا اقتدار چھن گیا تھا۔اسی طرح مصر بھی انگریزوں کا غلام بن چکا تھااور ان کا مقصد مسلمانوں کو فکری اور تعلیمی طور پر مغربیت کے زیراثر لانا تھا۔ اس گھمبیر صورتحال کو دیکھ کر دونوں شخصیات نے کونسے اقدامات کئے ۔اس سلسلے میں مصنف نے لکھا ہے:’’سرسید نے ان ناگفتہ بہ حالات کا مشاہدہ قریب سے کیا تھا اور ان حالات میں قوم کی اصلاح وترقی کا بیڑا اٹھایا۔‘‘ (ص:20)’’شیخ محمد عبدہ نے انہی سنگین حالات وواقعات میں مسلمانوں کی تربیت کے طُرق اصلاحات کو نہ صرف اپنا اولین مطمح نظر قراردیا بلکہ اپنی تعلیمی ومعاشرتی اصلاحات کی تحریک کا آغاز کیا۔ ‘‘ (ص:21)شیخ محمد عبدہ اور سرسید احمد خان ‘دونوں کا مقصد اگرچہ مسلمانوں کی اصلاح (Reformation)کرنا تھا ‘تاہم مجموعی مقاصد کے باوجود دونوں کے نقطہ نظر اور طریقہ کار میں بہت حد تک فرق بھی تھا۔ کتاب میں دونوں کے فکری و عملی طریقہ کار کی مماثلت اور افتراق کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ سرسید کی انگریزوں سے قربت کے باوجود ان کے ایمان اور قومی درد کے ضمن میں لکھا گیا ہے:’’۔۔۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انگریزوں کی قربت کی وجہ سے سرسید کا تصور دین ووطن اور تصور قوم یا حب الوطنی میں کوئی کمی واقع ہوئی ہو بلکہ سچ تو یہ ہے کہ انگریزوں سے دوستی کے پیچھے بھی قومی اور ملی مفاد پوشیدہ تھے۔‘‘ (ص:29) اسی طرح شیخ محمد عبدہ کے سیاسی نظریے کی تبدیلی اور سماجی و تعلیمی امور پر توجہ مرکوز کرنے سے متعلق لکھا گیا ہے:’’شیخ محمد عبدہ نے اپنے تجربات و تجزیات کی بنیاد پر جلا وطنی کے بعد سیاست کو خیر آباد کیا اور اپنی زیادہ تر توجہ سماجی و تعلیمی امور پر مرکوز کرکے تصنیف الرجال میں لگ گئے‘ کیونکہ انہیں اس وقت تک پختہ یقین ہوچکا تھا کہ مسلمانان عالم کی حالت کا موثر سدھار صر ف تعلیم و تربیت کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔ ‘‘ (ص:32) سرسید احمد خان اورشیخ محمد عبدہ کو اپنا تعلیمی و اصلاحی مشن چلانے کے دوران بہت ساری مشکلات ‘ مصائب اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان مشکلات اور مخالفتوں اور کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا گیا کہ ’’ چناچہ ان دونوں کی کوششوں کے نتیجے میں اہل دین اور اہل سیاست دونوں ان کے خلاف صف آراء ہوگئے لیکن ان تمام مخالفتوں کے باوجودبڑی جرأت ودلیری کے ساتھ وہ لوگوں کو اپنے خیالات کی طرف دعوت دیتے رہے‘نیز ارباب مذہب وسیاست کے ایک بہت بڑے حلقہ کواپنا ہمنوابنالیااور زمانے کے ساتھ ساتھ ان کے خیالات سے متاثر لوگوں کی تعداد بڑھ گئی۔‘‘(ص:33) سرسید احمد خان ایک شخص نہیں بلکہ ایک تحریک کا نام ہے ۔ دنیا اس تحریک کو سرسید تحریک یا علی گڑھ تحریک کے نام سے یاد کرتی ہے اور جس کی سب سے بڑی دین(Contribution)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔علی گڑھ تحریک کی تاریخی جہات(Historical dimensions) کے بارے میں لکھا گیا ہے:’’سرسید احمد کی علی گڑھ تحریک ایک خالص تعلیمی تحریک نہ تھی بلکہ یہ اس کی محض ایک جہت ہے۔ ادبی ‘مذہبی اور تہذیبی فکرمیں بنیادی تبدیلی لے آنے والی اور زندگی کو بدل دینے والی اس تحریک کو بقول ایک محقق عابد رضاؔ‘ محض تعلیمی تحریک کہہ کر زرجانا‘اس کی پوری تاریخ کونظراندازکرجانا ہے۔ بنیادی طور پر یہ پوری زندگی کو ہدف بنائے ہوئے ایک منصوبہ بند تحریک کا نام ہے۔‘‘ (ص:42) شیخ محمد عبدہ اور سرسید احمد خان کی فکری و علمی اور تعلیمی خدمات وعملی اقدامات کے نتایج کااحاطہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالحمیدلون صاحب لکھتے ہیں:’’ اس حقیقت کی روشنی میں تقریباََ سبھی ماہرین تعلیم و سماجیات کااتفاق ہے کہ سرسید احمد ہندوستان میں جدیدتعلیم کے محرک تھے۔چنانچہ انہوں نے سائنسی ‘ عمرانی‘ معروضی اور منطقی علوم اور طرز فکر کو مسلمانوں میں ترویج دی۔ٹھیک اسی طرح جس طرح مصر میں محمدعبدہ جدید سائنسی علوم اور طرز فکر کے محرک اور بانیوں میں سے تھے۔‘‘ (ص:47) پیش نظر کتاب میں دونوں شخصیات کی تصنیفات و تالیفات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رسالہ ’’تہذیب الاخلاق‘‘ کا ذکر بھی ہوا ہے جو آج بھی علی گڑھ سے شائع ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں ان شخصیات کی صحافتی خدمات اور دوسری دینی اور علمی وادبی کاموں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ مجھے ذاتی طور پر یہ تصنیف پسند آئی کیونکہ مصنف نے تحقیقی و تقابلی اور تجزیاتی فکرونظر کے تحت شیخ محمد عبدہ اور سرسیّد احمد خان کی حیات‘ علمی وادبی خدمات‘ سماجی واصلاحی کارناموں اورملت اسلامیہ کو بیدار کرنے کی مہم کے دوران درپیش مسائل و مصائب اور کامیابیوں کا مدلل و مفصل جائزہ پیش کیا ہے ۔جس کو دیکھ کرکہا جاسکتا ہے کہ یہ کتاب قارئین کے لئے معلومات افزا علمی وادبی تحفہ قراردی جاسکتی ہے۔
رابطہ۔9906834877
[email protected]