عمران بن رشید
موجودہ دور میں سائنس نے تمام شعبہ ہائے زندگی پر اپنا تسلط جمالیا ہے۔انسانی زندگی میں جو تبدیلیاں رونما ہوئیں ہیں وہ ناقابلِ بیان ہیں۔بقول اقبال؎
آدم ایں نیلی شفق را بردید
دنیاوی شعبہ جات میں سائنسی ایجادات نے انسان کو جو بامِ عروج عطا کیا ہے پوری تاریخِ انسانی اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔سوشل میڈیا کی ایجاد نے پوری دنیا کے انسانوں کے مابین ایسا رابطہ استوار کیا ہے کہ دنیا اب عالمی گائوں (Global villiage) کہلاتی ہے۔اب ہرشخص اپنے خیالات اور نظریات بآسانی دنیا کے سامنے رکھنے پر قادر ہوچکا ہے۔فیس بُک(Facebook) یوٹیوب(Youtube) اور ٹویٹر(Tweeter)پر ہر شخص اپنے جذبات اور سیاسی و مذہبی نظریات کو بلا کسی رکاوٹ کے دوسروں تک پہنچانے کا اہل ہو چکا ہے۔اگرایسا کہا جائے تو بجا ہوگا کہ سوشل میڈیا آج کے انسان کی زبان بن چکاہے جو اصل زبان کے مقابلے میں بے انتہا طاقتور ہے جس کی رسائی دنیا بھر کے لوگوں تک ہے۔ سوشل میڈیا پر عالمی مذاہب کی تشہیر و اشاعت بھی اونچے درجے پر ہورہی ہے جس میں مسلمان علماء اور مفکرین بھی پیش پیش رہتے ہیںجو وقت کا اہم ترین تقاضا بھی ہے۔چنانچہ شیخ عبدالعزیز بن بازؒ (متوفی؍1999)لکھتے ہیں،’’اور آج ہمارے دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے اسلام کی دعوت کے معاملے کو آسان بنا دیا ہے، ایسے طریقوں سے جو ہم سے پہلے والوں کے لیے دستیاب نہیں تھے۔‘‘ آج اسلام کی دعوت کے معاملات بہت سے طریقوں سے آسا نی سے قابل رسائی ہیں اور آج لوگوں کے لیے ثبوت قائم کرنا مختلف طریقوں سے ممکن ہے۔ ریڈیو کے ذریعے، ٹیلی ویژن کے ذریعے، پریس کے ذریعے،اسی طرح اور بھی مختلف طریقوں سے‘‘۱؎۔اگر مثبت انداز میں سوچا جائے تو سوشل میڈیا ایک نعمت ہے جس نے تحصیلِ علم اور اشاعتِ علم دونوںکو قدرے آسان بنادیاہے۔ چنانچہ دعوتِ دین کے میدان میں سوشل میڈیا نے بے انتہا وسعت پیدا کی ہے،اسلام کی دعوت وہاں وہاں تک پھیل رہی ہے جہاں پہلے شائد ممکن نہ تھا، بالکل اس حدیث کے مصداق ،’’ روئے زمین پر کوئی شہر،بستی اور گھر نہیں بچے گا، جس میں اللہ اسلام کے کلمے کو داخل نہ کرے گا،پھر چاہے کوئی اسے عزت کے ساتھ قبول کرے یا ذلت کے ساتھ زندہ رہے(صحیح)۔ اس حدیث کو اگر چہ کچھ علماء نے نزولِ مسیح علیہ السلام سے معلق اور متعلق قرار دیا ہے، تاہم اس حدیث سے سائنسی ایجادات کے ذریعے دعوتِ دین کے عام ہوجانے کا مفہوم بھی کچھ بعید نہیں۔
جب اللہ کے رسولؐ نے دعوتِ دین کی شروعات کی تو اول اول پوشیدہ طور پر دعوت کا کام ہوتا رہا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آیت’’وَأَنذِرْ عَشِیرَتَک الْأَقْرَبِینَ‘‘نازل کی ،جس میں اعلانیہ دعوت کا حکم موجود ہے اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرانے کا حکم صادر ہوا، تو ظاہر سی بات ہے کہ اب یہ کام پوشیدہ تو نہیں رہ پاتا،لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی بطحا کا رُخ کیا ،جہاں صفا نام کی ایک چھوٹی سی پہاڑی موجود تھی جس پر چڑھ کر دورِ جاہلیت میں مشرکینِ مکّہ برہانہ ہوکر کسی خاص پیغام کا اعلان کرتے تھے۔گویا یہ چھوٹی سی پہاڑی مشرکینِ مکّہ کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ تھی جس پر آدمی برہانہ ہوکر چڑھتا تھا اور ’’یاصباحا‘‘کی آواز لگاتا تھا ،لوگ سمجھ جاتے تھے کہ کوئی اہم اعلان ہونے جارہا ہے ۔ رسول اللہؐ نے اعلانیہ دعوت کے لئے یہی رائج طریقہ اپنایا،اگر اس میں کچھ تبدیلی کی تومحض اس چیز کی کہ لوگ برہانا اس پہاڑی پر چڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرم وحیا کے حدود میں رہ کر ’’یاصباحا‘‘ کی آواز بلند کی اور قبیلہ قریش کے افراد کو ایک جگہ جمع کیا جس کے بعد آپؐنے اُن پر دعوت و تبلیغ کے فرائض انجام دئے۔ یہ پورا واقع اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دعوتِ دین کے لئے سماج میں رائج کسی ایسے وسیلے کاغیرشرعی عناصرکوترک کرکے،استعمال کرنا جائز ہے جس سے بآسانی لوگوں تک پہنچاجاسکے۔ لہٰذا سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی تبلیغ اور تشہیر کرناباکل جائز اور درست ہے۔
اسلام علم اور تحقیق پر ابھارتا ہے اور ہر اس چیز کو جائز مانتا ہے جس کے پیچھے علمی جوازموجود ہو۔میںنے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے جو یہ کہہ کر سائنس اور تکنالوجی سے متنفر ہیں کہ یہ اغیار کی سازش ہے یا اسلاف کے طریقے کے خلاف ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جس سے ان کا یہ دعویٰ صحیح ثابت ہوتا ہو۔بلکہ اس کے برعکس تو حقیقت یہ ہے کہ سائنس اور تکنالوجی کی بدولت اسلام میں تحقیق کے بے شمار نئے باب کھل گئے۔جہاں تک سوشل میڈیا کی ایجاد کا تعلق ہے تو میرے نزدیک اگر اس کا مثبت استعمال کیا جائے تو یہ علماء اور طلباء دونوں کے لئے نہایت ہی مفید اور سود مند ہے۔ ہاں،یہ بات درست ہے کہ سوشل میڈیا کا ایک تاریک پہلو(Dark Side) بھی ہے جس سے بچنا نہایت ہی ضروری بلکہ فرضِ عین ہے۔سوشل میڈیا نے جہاں علم و ادب اور تحقیق کے نئے راستے ہموار کئے وہیں یہ بھی ایک تلخ حقیقت (Bitter truth)ہے کہ اس سے بے حیائی کو بھی بے انتہا فروغ ملا،جس کی اسلام میں قطعاً اجازت نہیں ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے،’’ بے شک اللہ عدل اور احسان اور قرابت والے کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی اور بُرائی اور سر کشی سے منع کرتا ہے،وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔‘‘(النحل؍90)[ترجمہ عبدالسلام بن محمد]۔ اسی طرح سوشل میڈیا کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ اس پر جھوٹ اور فریب کاری کا چرچا بھی عام ہے،لیکن اس سب کا یہ معنی قطعاً نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کو ناجائز قرار دیا جائے ۔ کیوں کہ اپنی اصل کے لحاظ سے سوشل میڈیابہرحال ان ساری بُرائیوں سے مُبرا ہے جس کا استعمال شرپسندلوگ، شرکے لئے کرتے ہیں اور خیر کے متلاشی اس کااستعمال حصولِ خیر اور اشاعتِ خیر کے لئے کرتے ہیں ۔رہا سوال سوشل میڈیا کے ذریعے اشاعت دین کا تو میں پہلے ہی عرض کرچکا ہوں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے دعوت کے میدان میں بے انتہا وسعت پیدا ہوئی ہےاور سوشل میڈیا جدید طرز کی ابلاغیات میں سب سے اوپر ہے۔بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ سوشل میڈیا کو دیگر ذرائع ابلاغ پر سبقت حاصل ہے تو کچھ غلط نہ ہوگااور اگر ایسے میں سوشل میڈیا سے اجتناب کیا جائے تو انسان بے زبان ہوکر رہ جائے گا اور اس سے استفادہ نہ کرنا گویا ایک بڑے موقعے سے خود کو محروم کرنا ہے۔