عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/مرکزی وزراء ارجن رام میگھوال اور امیت شاہ نے جمعرات کے روز لوک سبھا میں تین اہم بل پیش کیے جن کا مقصد خواتین کے لیے ریزرویشن قانون میں ترمیم اور حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کمیشن کا قیام ہے۔ اپوزیشن جماعتوں نے ان مجوزہ قوانین کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔کانگریس کے رہنما کے سی وینوگوپال نے سوال اٹھایا کہ جب خواتین ریزرویشن بل پہلے ہی پارلیمنٹ سے منظور ہو چکا تھا تو اس میں مجوزہ تبدیلیاں اسی وقت کیوں شامل نہیں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل آئین کے منافی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو نے بھی بل پیش کرنے میں جلد بازی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصولی طور پر اس کے حق میں ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ حکومت مردم شماری کیوں نہیں کرانا چاہتی۔اس پر وزیر داخلہ امیت شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ 2027 کی مردم شماری مقررہ وقت پر ہوگی اور حکومت نے ذات پات کی بنیاد پر گنتی کا بھی فیصلہ کیا ہے، تاہم مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن غیر آئینی ہے۔
مجوزہ آئینی ترمیمی بل کے مطابق خواتین ریزرویشن قانون کو 2029 کے عام انتخابات سے قبل نافذ کرنے کیلئے لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد موجودہ 543 سے بڑھا کر زیادہ سے زیادہ 850 تک کی جا سکتی ہے، جو 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حد بندی کے بعد ممکن ہوگا۔اسی طرح ریاستی اسمبلیوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بھی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ خواتین کیلئے 33 فیصد ریزرویشن کو یقینی بنایا جا سکے۔ بل کے مطابق خواتین کیلئے مخصوص نشستیں مختلف حلقوں میں باری باری (روٹیشن) کے تحت مختص کی جائیں گی۔ادھر اپوزیشن جماعتوں نے بدھ کے روز فیصلہ کیا کہ وہ پارلیمنٹ میں آئینی ترمیمی بل کی حد بندی سے متعلق شقوں کے خلاف متحد ہو کر ووٹ دیں گی، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ خواتین کو قانون ساز اداروں میں ریزرویشن دینے کے خلاف نہیں ہیں۔
خواتین ریزرویشن قانون میں ترمیم اور حد بندی کمیشن کے قیام کیلئے بل پیش، اپوزیشن کا شدید احتجاج