عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جموں و کشمیر کے سرحدی دیہات کے رہائشی اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے بھی حقوق کی کمی کے باعث خود کو مہاجر اور بے گھر محسوس کرتے ہیں اور ان کمیونٹیز کے لیے زمین کے حقوق، سیکیورٹی اور روزگار کے وسائل کا حل ہی ان کی جامع ترقی کا واحد راستہ ہے۔یونیورسٹی آف جموں کے شعبہ سماجیات کی سابق سربراہ پروفیسر ابھاچوہان نے ہند-پاک سرحد کے قریب کھور اور اکھنور سیکٹروں کے اپنے دس روزہ دورے کے بعد سرحدی باشندوں کی کٹھن زندگی اور ان کے حقوق کی جدوجہد کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا۔
پالنوالا اور کھور جیسے سرحدی دیہات کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد پروفیسر چوہان نے کہا کہ سرحد پر زندگی انتہائی مشکل ہے، جہاں لوگ ہر روز خوف اور ذہنی دباؤ کے سائے میں گزارتے ہیں۔ انہوں نے مقامی لوگوں سے براہ راست بات چیت کر کے ان کے سماجی، معاشی اور سیکیورٹی مسائل کو قریب سے سمجھنے کی کوشش کی۔اس تحقیق کے دوران رہائشیوں نے سب سے بڑا مسئلہ 1947-48 اور 1971 کی جنگوں کے بعد دی گئی زمینوں کی ملکیت کا بتایا۔ کئی خاندان دہائیوں سے ان زمینوں پر کاشتکاری کر رہے ہیں، لیکن قانونی دستاویزات نہ ہونے کے باعث وہ سرکاری اسکیموں، قرضوں اور زرعی سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ سرحد پار کشیدگی اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے سبب ان کی روزی روٹی بھی اکثر متاثر ہوتی ہے۔
دیہاتیوں نے بتایا کہ ماضی میں فوجی کیمپوں، کان کنی اور سرحدی باڑ کے لیے لی گئی زمین کا معاوضہ یا تو جزوی ملا یا اب مکمل طور پر بند ہو چکا ہے۔ اچانک حالات خراب ہونے کی صورت میں کسان وقت پر اپنے کھیتوں تک نہیں پہنچ پاتے، جس سے فصلوں کو شدید نقصان ہوتا ہے اور ان پر مالی بوجھ بڑھ جاتا ہے۔