ایجنسیز
بوسٹن// بوسٹن میں ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے 10 بھارتی شہریوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سہولت اسٹورز میں جعلی مسلح ڈکیتیوں کا ڈرامہ رچایا تاکہ دکاندار امیگریشن درخواستوں میں خود کو متاثرہ ظاہر کر کے دھوکہ دہی سے یو ویزا حاصل کر سکیں۔ ان افراد پر مارچ 2026 میں پہلے ہی مقدمہ درج کیا جا چکا تھا۔فردِ جرم کے مطابق ہر ملزم پر ویزا فراڈ کی سازش کا الزام ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال قید، تین سال نگرانی (سپروائزڈ ریلیز) اور 250,000 ڈالر جرمانہ ہے۔ امریکی اٹارنی آفس، میساچوسٹس کے بیان کے مطابق، سزا مکمل کرنے کے بعد انہیں ملک بدر بھی کیا جا سکتا ہے۔فردِ جرم میں شامل افراد کے نام یہ ہیں: جیتندرکمار پٹیل (39)، مہیش کمار پٹیل (36)، سنجے کمار پٹیل (45)، دیپیکا بین پٹیل (40)، رمیش بھائی پٹیل (52)، امیتا بین پٹیل (43)، رونک کمار پٹیل (28)، سنگیتا بین پٹیل (36)، منکیش پٹیل (42) اور سونل پٹیل (42)۔حکام کے مطابق ان تمام 10 افراد پر پہلے مجرمانہ شکایت کے ذریعے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو، رمیش بھائی پٹیل اور رونک کمار پٹیل، اس وقت امیگریشن حراست میں ہیں اور سبھی کو سزا کے بعد ممکنہ ملک بدری کا سامنا ہے۔تحقیقات کے مطابق اس اسکیم کا مرکزی کردار رمبھائی پٹیل تھا، جبکہ بالوندر سنگھ بطور ڈرائیور شامل تھا۔ دونوں کو مئی 2025 میں سزا سنائی جا چکی ہے۔ فردِ جرم کے مطابق مارچ 2023 میں رمبھائی پٹیل اور اس کے ساتھیوں نے میساچوسٹس اور دیگر ریاستوں میں کم از کم چھ سہولت اسٹورز، شراب کی دکانوں اور فاسٹ فوڈ مراکز پر جعلی مسلح ڈکیتیاں کیں۔ان ڈکیتیوں کا مقصد ایک ایسا بہانہ بنانا تھا جس کے ذریعے دکاندار یا ملازمین یو ویزا کے لیے درخواست دے سکیں۔ یو ویزا ان افراد کو دیا جاتا ہے جو کسی مخصوص جرم کا شکار ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کریں۔یو ویزا اکتوبر 2000 میں امریکی کانگریس نے ’’وِکٹمز آف ٹریفکنگ اینڈ وائلنس پروٹیکشن ایکٹ‘‘ کے تحت متعارف کرایا تھا تاکہ سنگین جرائم کے متاثرین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ درخواست دہندہ جرم کا شکار ہو، جسمانی یا ذہنی نقصان اٹھایا ہو، جرم کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرے اور حکام سے تعاون کرے، ساتھ ہی امیگریشن قوانین کی دیگر شرائط بھی پوری کرے۔ان جعلی ڈکیتیوں کے دوران مبینہ طور پر ’ڈاکو‘ نے دکان کے ملازمین کو نقلی ہتھیار سے دھمکایا اور نقدی لوٹ لی، جبکہ یہ تمام مناظر دکانوں کے سیکیورٹی کیمروں میں ریکارڈ کیے گئے۔ متاثرین نے کچھ دیر بعد پولیس کو اطلاع دی۔فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے رمبھائی پٹیل کو یہ ڈکیتیاں کروانے کے لیے رقم ادا کی یا اپنے رشتہ داروں کو ’متاثرین‘کے طور پر شامل کیا۔یہ کیس امریکی اٹارنی لیہ بی فولی اور ایف بی آئی بوسٹن کے اسپیشل ایجنٹ ٹیڈ ای ڈاکس نے پیش کیا۔ تحقیقات میں متعدد امریکی اٹارنی دفاتر، ایف بی آئی، یو ایس سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز، آئی سی ای، میساچوسٹس اسٹیٹ پولیس اور مختلف ریاستوں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حصہ لیا۔فردِ جرم میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام الزامات ہیں اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک ملزمان کو بے گناہ تصور کیا جائے گا۔