ندائے کمراز
اِکز اقبال
کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کسی ایسے موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہو، جہاں راستے واضح نہیں مگر چلنا پھر بھی لازم ہے۔جیسے سب کچھ ہمارے سامنے ہے۔ خبریں ہیں، بیانات ہیں، مذاکرات ہیں، کشیدگیاں ہیں۔ مگر اس کے باوجود ایک دُھند سی ہے جو تصویر کو مکمل صاف نہیں ہونے دیتی۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، یہ صرف واقعات کا تسلسل نہیں۔۔۔ یہ ایک کیفیت ہے اور اس کیفیت میں ایک عجیب سا امتزاج ہے۔ حقیقت اور خدشے کا امتزاج، موجود اور آنے والے وقت کا امتزاج۔
اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امریکہ ۔ایران مذاکرات بھی اسی کیفیت کا حصہ ہیں۔ بظاہر ایک سفارتی کوشش، مگر درحقیقت ایک ایسے سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش جو ابھی مکمل طور پر سمجھ میں بھی نہیں آیا۔ ایک طرف وہ طاقت تھی جو برسوں سے عالمی فیصلوں کی عادی رہی ہے۔ دوسری طرف وہ ارادہ تھا جو اب اپنی شرائط پر کھڑا ہونا چاہتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ مذاکرات ہو رہے ہیں، مگر فیصلے نہیں ہو پا رہے۔ الفاظ کہے جا رہے ہیں، مگر یقین پیدا نہیں ہو رہا۔ ایک طرف طاقتور ممالک اپنی پوزیشن واضح کر رہے ہیں، دوسری طرف کچھ قوتیں اب اپنے لیے ایک نئی جگہ بنانے کی کوشش میں ہیں۔ یہ سب کچھ نظر بھی آ رہا ہےاور کہیں نہ کہیں اوجھل بھی ہے۔ کیونکہ اصل کہانی ہمیشہ وہ نہیں ہوتی جو سامنے لکھی ہو، کبھی کبھی وہ سطروں کے درمیان چھپی ہوتی ہے۔
ایک وقت تھا جب عالمی نظام واضح تھا۔ کس کی برتری ہے، کس کا اثر ہے اور کس کی بات مانی جائے گی، _ یہ سب تقریباً طے شدہ تھا۔ مگر اب وہ وضاحت باقی نہیں رہی۔ آج طاقت تقسیم ہو رہی ہے، اثر و رسوخ بکھر رہا ہے اور فیصلے اب یکطرفہ نہیں رہے۔ دنیا اب ایک مرکز کے گرد نہیں گھومتی،یہ کئی دائروں میں بٹ چکی ہے اور ہر دائرہ اپنی کشش رکھتا ہے۔اصل سوال شاید یہ نہیں کہ آج کیا ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کل کیا ہو سکتا ہے۔ اگر راستے بند رہیں،اگر کشیدگی بڑھتی رہی، اگر طاقت کا توازن اسی طرح ہلتا رہا، تو پھر دنیا کس طرف جائے گی؟ یہ خدشات محض قیاس نہیں رہے، یہ اب ایک محسوس حقیقت بنتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی، بے یقینی، توانائی کا بحران، عالمی سطح پر تقسیم، یہ سب ممکنہ نہیں، بلکہ قریب آتی ہوئی تصویریں ہیں۔
ایک وقت تھا جب عالمی نظام نسبتاً واضح تھا۔آج وہ وضاحت دُھندلا چکی ہے۔ نہ کوئی ایک طاقت مکمل طور پر غالب ہے، نہ کوئی ایک نظام مکمل طور پر مستحکم۔ یہ ایک عبوری دور ہے،جہاں پرانا ختم ہو رہا ہے اور نیا ابھی مکمل بنا نہیں۔ اور ایسے ادوار ہمیشہ غیر یقینی سے بھرے ہوتے ہیں۔آج طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں، راستوں میں ہے، وسائل میں ہے اور سب سے بڑھ کر اثر میں ہے۔جو راستوں کو کنٹرول کرتا ہے، وہ معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ جو معیشت کو متاثر کرتا ہے، وہ فیصلوں کو بدل دیتا ہے۔ اسی لیے آج کی کشیدگی صرف سیاسی نہیں،بلکہ یہ معاشی بھی ہے، ذہنی بھی ہے اور اسٹریٹجک بھی۔
یہ وہ جنگ نہیں جس میں صرف گولیاں چلتی ہیں اور دُھواں اٹھتا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جس میں فیصلے کئے جاتے ہیں، راستے بند کئے جاتے ہیں اور بیانیے ترتیب دئیے جاتے ہیں۔ یہ جنگ خاموش ہے، مگر اس کے اثرات بہت بلند ہیں۔یہ سوال اب صرف تجزیہ کاروں کا نہیں رہا۔ یہ ہر اُس شخص کا سوال ہے جو اس دنیا کا حصہ ہے۔ کیا ہم صرف دیکھ رہے ہیں؟ یا ہم سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں؟ کیونکہ فرق یہی ہے، دیکھنا ایک عادت ہے، سمجھنا ایک شعور۔جو کچھ ہو رہا ہے، وہ شاید کسی بڑے انجام کی طرف نہیں جا رہا۔ بلکہ کسی نئے آغاز کی طرف جا رہا ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں اصول مختلف ہوں گے،جہاں طاقت کا توازن مختلف ہوگا اور جہاں ہر فیصلہ پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگا۔
بات بس اتنی ہے کہ یہ وقت گزر بھی جائے گا۔ جیسے ہر وقت گزرتا ہے۔ مگر جاتے جاتے یہ ہمیں بدل کر جائے گا۔ یہ ہمیں سکھائے گا کہ دنیا کو صرف دیکھنا کافی نہیں، اسے سمجھنا ضروری ہے اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے۔ کیا ہم اس بدلتی ہوئی دنیا کے صرف تماشائی ہیں یا اس کے باشعور گواہ بھی؟ کیونکہ آخرکار، وقت اُنہی کو یاد رکھتا ہے جو اس کے بدلنے کو محسوس کر لیتے ہیں۔۔۔اور اس کے ساتھ خود کو بھی بدل لیتے ہیں۔
پتہ نہیں کیا ہوگا۔۔۔مگر کچھ بدل رہا ہے، یہ صاف محسوس ہو رہا ہے۔پتہ نہیں راستے کہاں جا کر ملیں گے۔۔۔ مگر یہ ضرور لگتا ہے کہ پرانے راستے اب ویسے نہیں رہے۔
پتہ نہیں یہ سب کہاں رکے گا۔۔۔ مگر اس کی گونج دل تک آ رہی ہے۔پتہ نہیں فیصلے کون کرے گا۔۔۔ مگر اثر سب پر ہوگا۔پتہ نہیں سچ کیا ہے۔۔۔مگر کچھ سوال اب چپ نہیں رہنے دیتے۔پتہ نہیں یہ وقت کتنا طویل ہوگا۔۔۔ مگر اس نے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔پتہ نہیں ہم کہاں کھڑے ہیں۔۔۔ مگر یہ احساس ضرور ہے کہ اب ویسے کھڑے نہیں رہے جیسے پہلے تھے۔پتہ نہیں کل کیسا ہوگا۔۔۔ مگر آج ہمیں بدل رہا ہے،اور شاید یہی کافی ہے کہ ہم بے خبر نہ رہیں، کہ ہم محسوس کرتے رہیں اور کہ ہم اس بدلتے ہوئے وقت کو صرف گزرتا ہوا نہ سمجھیں۔۔۔بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]