تلخ حقیقت
رئیس یاسین
کشمیر کی خوبصورت وادیوں میں، جہاں تعلیم کو وقار اور استحکام کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، ایک تلخ حقیقت مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہے۔پرائیویٹ اسکول اساتذہ کی کٹھن زندگی۔
گزشتہ ایک دہائی سے سرکاری شعبے میں بھرتیوں کی کمی نے ایک بڑا خلا پیدا کر دیا ہے۔ ہزاروں تعلیم یافتہ افرادبی ایڈ، ایم ایڈ، حتیٰ کہ پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرزمجبور ہو کر پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کرتے ہیں۔ مگر وہاں انہیں عزت اور تحفظ نہیں، بلکہ استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
کشمیر کے پرائیویٹ اسکول اساتذہ ایسے حالات میں کام کرتے ہیں جنہیں ناانصافی کی انتہا کہا جا سکتا ہے۔ تنخواہیں نہایت کم ہوتی ہیں، جو مہنگائی کے اس دور میں بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہیں۔ اکثر اوقات تنخواہیں تاخیر کا شکار رہتی ہیں، جس سے اساتذہ مالی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ملازمت کا کوئی تحفظ نہیں۔ کسی بھی وقت، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، اساتذہ کو نوکری سے نکالا جا سکتا ہے۔ نہ کوئی واضح سروس رولز ہیں، نہ کوئی ادارہ جاتی تحفظ اور نہ ہی بنیادی سہولیات جیسے طبی سہولت یا باقاعدہ چھٹیاں۔
دوسری جانب، کام کا بوجھ حد سے زیادہ ہوتا ہے۔ اساتذہ کو تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور، غیر نصابی سرگرمیاں اور اضافی اوقات کار بھی سنبھالنے پڑتے ہیں،بغیر کسی اضافی معاوضے کے۔ یہاں تک کہ بنیادی انسانی ضروریات کو بھی نظر انداز کیا جاتا ہے، بعض جگہوں پر اساتذہ کو کلاس میں بیٹھنے تک کی اجازت نہیں دی جاتی، گویا عزت کھڑے رہنے میں ہے، انسانیت میں نہیں۔بیماری بھی ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ چند دن کی غیر حاضری تنخواہ میں کٹوتی یا ملازمت کے خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں اساتذہ کو اپنی صحت اور روزگار کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔
اسی دوران کئی پرائیویٹ اسکول بغیر کسی شفافیت کے فیسوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف ادارے آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف انہی اداروں کے اساتذہ معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ صورتحال مزید پیچیدہ اس وقت ہو جاتی ہے جب ان اداروں کے پیچھے بااثر شخصیات ،کاروباری افراد، بیوروکریٹس اور سیاسی روابط موجود ہوں، جس کی وجہ سے احتساب تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
اس مسئلے کا سب سے افسوسناک پہلو اس پر چھائی ہوئی خاموشی ہے۔ اساتذہ، اپنی قابلیت اور شعور کے باوجود، کم ہی آواز اٹھاتے ہیں۔ یہ خاموشی رضامندی نہیں، بلکہ مجبوری ہے۔ محدود مواقع، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سخت مسابقتی ماحول انہیں ان حالات کو برداشت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔اس کا اثر صرف اساتذہ تک محدود نہیں رہتا۔ جب اساتذہ کو نظر انداز کیا جائے اور ان پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے، تو تعلیم کا معیار خود بخود متاثر ہوتا ہے۔ جو نظام اپنے اساتذہ کو کمزور کرے، وہ اپنے طلبہ کو بھی مضبوط نہیں بنا سکتا۔
یہ صرف روزگار کا مسئلہ نہیں—یہ وقار کا سوال ہے۔
اساتذہ کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ مگر کشمیر کے پرائیویٹ تعلیمی نظام میں یہی بنیاد کمزور ہو چکی ہے۔ ان کے مسائل کو حل کرنا صرف ایک پیشہ ورانہ ذمہ داری نہیں، بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔جب تک ان کی آواز سنی نہیں جاتی اور ان کے حالات بہتر نہیں کیے جاتے، تب تک معیاری تعلیم کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔
[email protected]
������������������