محمد تسکین
بانہال/ضلع رام بن کے سب ڈویژن رامسو کے علاقے مکرکوٹ میں اتوار کی دوپہر ایک نہایت تشویشناک اور سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر تعاقب کے بعد ایک نوجوان پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا۔ واقعہ کے بعد علاقے میں شدید عوامی غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ کشیدگی کی صورتحال برقرار ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جموں-سری نگر قومی شاہراہ پر مکرکوٹ کے قریب ٹنل نمبر 5 کے نزدیک پیش آیا۔ لاپتہ نوجوان کی شناخت تقریباً 25 سالہ تنویر احمد چوپان ولد عبدالسلام چوپان ساکنہ منڈکھال پوگل، تحصیل اکھڑال پوگل پرستان کے طور پر ہوئی ہے، جو جموں سے اپنے آبائی گاؤں کی طرف ٹاٹا موبائل گاڑی میں ایک دودھ دینے والی گائے اور دو بچھڑوں کے ساتھ جا رہا تھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ڈگڈول کے قریب دو مشتبہ گاڑیوں میں سوار افراد نے، جنہیں مبینہ طور پر گاؤ رکھشک بتایا جا رہا ہے، اس کا تعاقب کیا۔ مکرکوٹ پہنچنے پر مبینہ حملہ آوروں نے اس کی گاڑی روک کر اسے باہر نکالا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ عینی شاہدین کے مطابق نوجوان نے جان بچانے کی کوشش میں نالہ بشلری میں چھلانگ لگا دی یا اسے زبردستی دھکیل دیا گیا، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس تھانہ رامسو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ہمالین کیو آر ٹی کے رضاکاروں کے تعاون سے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا۔ آخری اطلاعات تک لاپتہ نوجوان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے اور نالہ بشلری میں تلاش جاری ہے۔
ایم ایل اے بانہال سجاد شاہین، ڈپٹی کمشنر رام بن محمد الیاس خان اور ایس ایس پی رامبن ارون گپتا شامل نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق پولیس اسٹیشن رامسو میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جبکہ قومی شاہراہ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج بھی کھنگالی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ افواہوں سے گریز کریں اور قانون کو اپنا کام کرنے دیں۔
دوسری جانب مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ تنویر چوپان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ جان بچانے کے لیے کھائی کی طرف بھاگا، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ نالہ میں ڈوب گیا ہو۔
واقعہ کے خلاف مکرکوٹ اور رامسو میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور سخت سزا کا مطالبہ کیا۔ سیاسی و سماجی رہنماؤں، جن میں عام آدمی پارٹی کے امیدوار مدثر احمد میر اور جموں و کشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے رہنما افتیاز احمد شامل ہیں، نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی غنڈہ گردی قرار دیا۔
ایم ایل اے بانہال سجاد شاہین نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے اور ضلع میں اس نوعیت کا یہ چوتھا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مویشی دیہی معیشت کا اہم حصہ ہیں اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ SIT کے ذریعے شفاف تحقیقات کی جائیں گی اور قصورواروں کو سخت سزا دی جائے گی۔
ادھر بانہال بیوپار منڈل کے صدر انجینئر شاداب وانی نے اس واقعہ کے خلاف پیر کے روز بانہال میں ایک روزہ مکمل ہڑتال (بند) کی کال دی ہے، جس کے باعث علاقے میں صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔
مکرکوٹ میں مبینہ تعاقب کے بعد نوجوان لاپتہ، عوامی غم و غصہ عروج پر، کل بانہال بند کی کال