ایک جائزہ
ریحانہ شجر
زیر مشاہدہ کتاب ’’عشق جس نے بھی کیا‘‘ پرویز احمد بٹ، قلمی نام پرویز مانوس کی تحریر کردہ ناول ہے۔ ان کے ادبی کمالات اور اعزازات سے سبھی واقف ہیں۔ مانوس صاحب کو اردو، پہاڑی اور کشمیری زبانوں پر دسترس حاصل ہے، اُن کے کئی شعری اور افسانوی مجموعے اب تک شائع ہوچکے ہیں۔ ایک معتبر سخنور، ہونے کے علاوہ ناول نگاری میں پرویز مانوس صاحب یدطولی رکھتے ہیں۔’سارے جہاں کا درد‘ اور’برجستگی‘ان کے تحریر کردہ ناول ہیں جن کو قارئین نے بہت پسند کیا اور ادبی حلقوں میں بھی پزیرائی ملی۔اب اُن کا ناول ’’عشق جس نے بھی کیا‘‘ منصہ شہود پر آچکا ہے۔ زیر ِنظر ناول ’’عشق جس نے بھی کیا‘‘موضوع کے اعتبار سے عشق حقیقی اور عشق مجازی کے امتزاج پر مبنی شاندار تخلیق ہے۔ مصنف نے ناول کے عنوان کا تعارف منفرد انداز سے پیش کرتے ہوئے لکھا ہے،’’اس عشق کے نام!جس نے آتش نمرود کو گلزار کردیا،جس نے مچھلی کے پیٹ میں کئی روز گزارے،جس نے کنعان کے تاریخ کنویں میں کئی راتیں گزاریں،جس نے طورِ سینین سے خالق کاینات کی تجلی دیکھی،جس نے انالحق کے عوض تختہ دار قبول کیا ۔‘‘
انتساب میں درج یہ الفاظ پڑھنے والے کو سحر میں جھکڑ کر پورا ناول پڑھنے پر اُکساتے ہیں۔عشق جس نے بھی کیا، پرویز مانوس صاحب کی اہم تخلیق ہے جس کا بنیادی موضوع عشق اور اس کے پیرایے ہیں۔ ناول فلیش بیک تیکنک میں لکھا گیا ہے۔ پڑھتے ہوئے قاری کے سامنے کہانی کے کئی پہلو وا ہوجاتے ہیں، کئی پرتیں کھلتی ہیں۔ جیسے عشق مجازی، عشق حقیقی، مکافات عمل، وغیرہ۔
یہ ناول قاری کو یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیاوی خواہشات کا پیچھا کرنے میں انسان اپنی زندگی جیسا انمول اثاثہ گنوا دیتا ہے جبکہ بنیادی سکون صرف اللہ کی خوشنودی ہے۔ ناول میں مصنف نے شہریار کو رئس باپ کی ضدی اولاد اور جذباتی طور اُلجھے ہوئے نوجوان کے طور پیش کیا ہے،جو اس کا مرکزی کردار ہے ۔ ناول نگار نے اس کردار کی ذات میں عشق کی وہ جولانیاں اُبھاری ہیں جو انسانی نفسیات کی جبلی کیفیات کو فن کاری کے ساتھ ممکنہ دروبست میں پیش کرتی ہیں۔ شہریار عشق کی وسعتوں میں کمر بستہ ہوکر بےنیاز و بےپروا اپنی محبوبہ نور صبا کے فراق میں خاک بسر ہوجاتا ہے اور دیوانہ ہوکر بیابانوں میں اسے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ناول کو پڑھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ کہانی نہیں بلکہ روح کی گہرائیوں میں جھانکنے والا سفر نامہ ہے۔ آخر کار شہریار اپنے ہوش و ہواس کھو دیتا ہے اور دیوانگی کے عالم میں کہتا ہے ؎
ظلمت شب نے مجھے پامال کرکے رکھ دیا
مجھ کو بس اتنا بتادے کس جگہ اب نور ہے
دیوانہ سمجھ کر لوگ اس کو آخر کار روحاحی بزرگ مصخان بابا کی پناہ گاہ میں پہنچاتے ہیں۔ جہاں سے اس کو علم کا وہ نور حاصل ہوتا ہے جو اس کے باطن کو منور کرتا ہے۔ وہ تعلیم ملتی ہے جو بندے کو خدا سے ملانے کا ذریعہ بنتی ہے اور یوں شہریار عشق مجازی اور عشق حقیقی کے درمیان آزمایشوں بھری مسافت طے کرتا ہے۔ روحانی بزرگ کی صحبت میں رہ کر شہریار کو فنا بقاء ، تصوف سے آشنا ہوکر درویشانہ زندگی بسر کرتا ہے۔’عشق جس نے بھی کیا‘ کے مرکزی کردار کا جایزہ لیتے ہوئے مجھے عمیرہ احمد کا مشہور زمانہ ناول’پیر کامل‘ ذہن میں گردش کرنے لگا۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے پرویز مانوس ناول کے جمالیاتی اور فکری قدروں سے آشنا ہے، جو اعزاز کی بات ہے۔ناول کا ایک اور پہلو مکافات عمل ہے۔ناول کا ایک منفی کردار جبار اس کی مثال ہے۔ جبار اخلاقی طور پسماندہ اپنی بیٹی ماہرہ کو بہن کے گھر میں رہنے اور شہریار کو شیشے میں اتارنے پر آمادہ کرتا نظر آتا ہے۔ اپنا مقصد حاصل کرنے کےلیے وہ ایک بےگناہ پر جھوٹا الزام لگانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ آخر کا جبار کو المناک حادثہ پیش آتا ہے جس کے نتیجے میں اس کی بیٹی جان بحق ہوجاتی ہے اور خود سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے پاگل خانے پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ناول کا ایک اور کردار مولوی خلیل الرحمان جس کو گنہگار جان کر لوگ اس کو بستی بدر کردیتے ہیں ۔ وہ صبر سے کام لیتے ہوئے بیٹی کو لے کر بستی سے دور چلا جاتا ہے۔ باآلاخر وہ سرخ رو لوٹتا ہے۔ مصنف نے ان دو کردار کےذریعے یہ بتانے کی پوری کوشش کی ہے کہ انسان جس طرح کے کام انجام دیتا ہے اس کا نعم البدل اس کو مکافات کی صورت میں ملتا ہے۔ اس کردار کو پڑھ کر کلام پاک کی آیت پر غور کرنے کو جی کرتا ہے ،’’جو شخص ایک ذرہ بھر بھی قانون کے مطابق کام کرتا ہے، اس کا خوشگوارنتیجہ اس کے سامنے آجاتا ہے اور جو ذرہ برابر بھی قانون کے خلاف کام کرتا ہے، وہ اس کے غضب سے دوچار ہوتا ہے۔‘‘ناول کاایک اور پہلو اہم ہے، جس کو قلب مطمینہ کہتے ہیں ۔ انسان بے شمار دولت، شہرت، عزت، کامیابی وغیرہ حاصل کرلیتا ہے، لیکن سکون قلب ندارد ۔ مادی خواہشات کو اکٹھا کرتے کرتے انسان بنیادی ترجیحات جیسے گھر، نئی نسل کی اخلاقی پرورش وغیرہ بھول جاتا ہے۔ناول کا بغور جایزہ لینے پر ایسے بہت سے اور بھی پہلو نظر کے سامنے آتے ہیں۔ میںیہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ زیر بحث ناول ’عشق جس نے بھی کیا‘ اردو ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ مجھے امید ہے ،نئے قلمکار اس ناول کو پڑھ کر ناول نگاری کی طرف مائل ہو جائیںگے۔امید ہے پرویز مانوس مستقبل میں بھی اصلاحی ادب Reformative Literature کی آبیاری کرتے رہیں گے۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
(رابطہ۔ 9419463487 91)
[email protected]