تبصرہ
سہیل بشیر کار
صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم جیسی جماعت کرۂ ارض نے نہ ان سے پہلے دیکھی تھی اور نہ ہی ان کے بعد دیکھے گی۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی تھا اور وہ اللہ سے راضی تھے۔ ان کی شخصیات ہمہ گیر تھیں۔ زندگی کا کون سا ایسا شعبہ ہے جہاں انہوں نے اپنی روشن چھاپ نہ چھوڑی ہو۔ اگر ہم انسانیت کی اصلاح چاہتے ہیں تو اس کے لیے صحابۂ کرام کا اسوۂ حسنہ بہترین آئیڈیل بن سکتا ہے۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں سکون، امن اور چین ہو تو ہمیں صحابۂ کرامؓ کے اسوہ کو اپنانا ہوگا۔صحابہ کرام کے متعلق جاننا انسانیت کی مجبوری ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بار بار ان درخشاں ستاروں کی سیرتِ پاک کا مطالعہ کیا جائے۔ ان کی زندگی کا ہمہ گیر مطالعہ ہی ہمیں ان کے اسوہ کو اپنانے میں حقیقی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ برادر نعیم بلوچ کی زیرِ تبصرہ کتاب ’’صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم قبولِ حق کے بعد‘‘ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں صرف تیرہ صحابۂ کرامؓ کی زندگی کے چند پہلوؤں کو نمایاں کیا گیا ہے، لیکن اگر قاری چاہے تو ان سے بھرپور رہنمائی حاصل کر سکتا ہے۔296 صفحات کی زیر تبصرہ کتاب میں مندرجہ ذیل پاک باز اصحاب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔سیدنا ابو ذر غفاریؓ، سید نا سعید بن عامرؓ، سيد الشهدحمزہ بن عبد المطلبؓ ،سید نا عمیر بن وہبؓ، سیدنا بلال ؓ، سید نا سلمان فارسیؓ،سید نا زید بن حارثهؓ،سید نا عدی بن حاتمؓ، سید نا عکرمہ بن ابی الحكمؓ، سید نا صہیب رومیؓ، سید نا عمرو بن جموحؓ، سید نا سراقہ بن مالکؓ، سیدنا کعب بن مالک ؓ۔
کتاب میں واقعات کی بہترین منظر نگاری کی گئی ہے، قاری کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی منظر دیکھ رہا ہے، ہر صحابی کا تذکرہ پڑھنے کے بعد انمول نقوش دیر تک ذہن میں رہتے ہیں، اس کتاب کو اگرچہ کہانی کا اسلوب دیا گیا ہے لیکن واقعات مستند تاریخ سے ثابت ہے، کتاب کی روانی ایسی ہے کہ قاری صحابی کی پوری سیرت ایک ہی نشت پڑھنے میں مجبور ہو جاتا ہےاس کتاب کا مقصد لکھتے ہوئے مصنف کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں ’’اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ عام فہم انداز میں تاریخ کے صحت مند مطالعے کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ ایمان بھی تازہ ہو اور باطل نظریات و افکار کی بھی اصلاح ہوسکے۔‘‘ (صفحہ 6)۔مصنف ہر صحابی کے بیان میں بہترین اسلوب سے آغاز کرتے ہیں، ابتدا کرتے ہوئے مصنف قاری کو محصور کرتے ہیں ،سیدنا سعید بن عامرؓ کی سوانح بیان کرتے ہوئے اس طرح شروعات کرتے ہیں،’’ پورے مکہ میں ایک عجیب ہل چل مچی ہوئی تھی ۔ سبھی کا رخ اس درخت کی طرف تھا جہاں پھانسی کے لیے پھندا جھول رہا تھا۔ مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے سبھی نعرے لگاتے ایک تماشا دیکھنے جا رہے تھے ۔ایک خوف ناک تماشا، جسے دیکھنے کی دعوت مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے دی تھی، ان لوگوں میں ایک لمبا تڑنگا نو جوان سعید بھی تھا۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کون سا تماشا دیکھنے جا رہا ہے۔ یہ بات ساری بستی کی طرح اسے بھی معلوم تھی کہ آج قیدی کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ یہ قیدی پچھلے کئی مہینوں سے عقبہ کی قید میں تھا۔ اس نے اسے مہنگے داموں خریدا تھا۔ عقبہ آج اسے پھانسی دے کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے والا تھا۔‘‘(صفحہ 35)۔مصنف ہر صحابی کا تذکرہ کرنے سے پہلے چند الفاظ میں اس صحابی کی سوانح پڑھنے کی اہمیت بتاتے ہیں سیدنا سلمان فارسیؓ کی سوانح بیان کرنے سے پہلے سیدنا سلمان فارسی کا یوں تعارف کراتے ہیں ،’’ایران کے آتش کدوں سے یثرب کی معطر فضاؤں کا ایک نا در سفر نامہ ۔ تلاش حق کی ایک لازوال داستان ۔ اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کے لیے ایک مینارہ نور ۔سید نا سلیمان فارسی کی وہ سرگزشت جسے سننے کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو فرمایا تھا کہ وہ یہ داستان ضرور سنیں ۔‘‘(صفحہ 160) ۔ایسا کون قاری ہوگا جو یہ تعارف پڑھ کر آپ کی سوانح دلچسپی سے نہ پڑھے گا
مصنف کہانی ہی کہانی میں صحابی کی اہمیت جو رسول رحمتؐ نے فرمائی ہے، وہ بیان کرتے ہیں حضرت ابوذرؓ کا تذکرہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں ،’’آپ ؐ نے فرمایا : ’’اللہ ابو ذرؓ پر رحم کرے گا ، وہ تنہا چلتے ہیں، تنہا مریں گے اور قیامت کے دن تنہا اٹھیں گے۔ ‘‘ (صفحہ 18)۔تذکرہ پڑھتے پڑھتے قاری محسوس کرتا ہے کہ رسول رحمتؐ کس طرح اپنی صحابہ کی تربیت کرتے لکھتے ہیں ،’’ ابو ذرؓ اپنے قبیلے میں ایک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کی طبیعت میں کسی کی غلامی ہرگز نہیں تھی۔ اس لیے کسی زمانے میں انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ان کے لیے امارت یعنی منصب کی دعا کریں ۔ اللہ کے رسولؐ اپنے احباب اور عام صحابہؓ کے مزاج سےآشنا تھے اور ابوذر تو مدینہ میں ہجرت کے بعد زیادہ وقت آپؐ ہی کے پاس گزارتے تھے، اس لیے بڑی محبت سے انھیں فرمایا:’’ابوذر! امارت ایک بڑا بار ہے ۔ یہ ایک امانت ہے۔ اس کی صحیح نگہداشت نہ کی جائے تو انسان کے ہاتھ آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا اور اے ابوذر تم ناتواں ہو۔اس دن کے بعد ابو ذر ؓ نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی ۔‘‘ (صفحہ 21)
مصنف کہانی ہی کہانی میں صحابی کا تعارف مختصر مگر جامع انداز میں کراتے ہیں، حضرت ابوزر کا تذکرہ یوں کراتے ہیں،’’ ابوذر کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ ان کا حلیہ یہ تھا : رنگ سیاہی مائل، ڈاڑھی گھنی ،سر اور ڈاڑھی کے بال سفید اور قد راز۔ان سے 281 احادیث مروی ہیں۔ ان میں 12 متفق علیہ ہیں۔ یعنی امام بخاری کی صحیح بخاری اور امام مسلم کی صیح مسلم دونوں نے انھیں اپنے مجموعوں میں جگہ دی ہے جب کہ دو حدیثیں بخاری اور سات حدیثیں مفرد طور پر دونوں کتابوں میں درج ہیں۔وہ اگر چہ رسول اللہؐ کے ساتھ بہت عرصہ رہے، لیکن اپنی خاموش اور محتاط طبیعت کے باوصف وہ لوگوں سے نہ زیادہ میل جول رکھتے، نہ زیادہ گفتگو کرتے ، وہ ہمیشہ تنہائی پسندی کا ثبوت دیتے۔‘‘(صفحہ 31)
اس کتاب سے عرب کی معاشرت بھی معلوم ہوتی ہے ایک جگہ لکھتے ہیں،’’دراصل عرب میں کھانا پکانا گھر کی خواتین کا کام نہیں ۔ یہی رواج آج تک قائم ہے۔ اس کے لیے خادم رکھے جاتے ہیں ۔ خواتین یہ کام کرنا اپنے لیے شرم کا باعث سمجھتی ہیں اور زمانے کے دستور کے مطابق مرد انھیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرتے تھے تا کہ دوسری خواتین ان کو طعنے نہ دیں کہ تم اپنے خاوند کی بیوی نہیں باندی ہو۔‘‘(صفحہ 42)۔یہ کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ اسلام نے کیسے عظیم حکمران پیدا کیے، تاریخ ایسی self less انسانوں کا ثانی پیدا کرنے میں ناکام ہے۔ سعید بن عامر جو کہ گورنر تھے، مصنف ان کے بارے میں لکھتے ہیں ،’’اب جب عمر فاروقؓ نے فہرست دیکھی تو ایک نام پڑھ کر چونکے اور کہا :
’’یہ سعید ؓ بن عامرکون ہیں ؟‘‘،’’امیر المومنین یہ ہمارے گورنر ہیں !‘‘اچھا حیرت ہے گورنر اور شہر کے مفلس لوگوں کی فہرست میں ’’ وفد کے ایک صاحب بولے: ’’جی ہاں ، یہ وہی ہیں اور اللہ کی قسم اُن کے چولہے میں کئی کئی دن آگ نہیں جلتی ۔‘‘ لیکن میں نے تو ان کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کیا تھا اور انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ان کی ضرورت کے مطابق ہے بلکہ اس سے زیادہ ہے ۔‘‘آپ درست فرماتے ہیں لیکن ہمارے گورنر اپنے شہر میں کسی مفلس اور غریب نہیں دیکھ سکتے ۔ وہ بھلا کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کے گھر میں روٹی پکے اور شہرکا کوئی فرد بھوکا سو جائے ۔ اسی لیے وہ اپنا سب کچھ ناداروں اور مفلسوں کو دے دیتے ہیں ۔عمر رضی اللہ فاروق نے یہ سُنا تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اتنا روئے کہ آنسو آنکھوں سے داڑھی تک سفر کرتے ہوئے ٹپ ٹپ زمین پر گرنے لگے۔‘‘ (صفحہ 41)
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے ایمان میں اضافہ ہو تو اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی فائدہ مند ہوگا۔ یہ کتاب المورد ہند نے اعلی طباعت سے شائع کی ہے ،کتاب کی قیمت 400 روپے بھی مناسب ہے۔ یہ کتاب واٹس اپ نمبر 7006026787سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
رابطہ 9906653927